
شریعتِ اسلامیہ میں طلاق یا وفات کی صورت میں عورت پر عدّت کیوں مقرر کی گئی ہے؟ اگر عدّت کا مقصد صرف استبراءِ رحم ہے تو یہ مقصد تو ایک حیض سے بھی حاصل ہو سکتا ہے، اور آج کے دور میں ایکسرے یا طبی آلات کے ذریعے یہ بھی معلوم کیا جا سکتا ہے کہ رحم خالی ہے یا نہیں، پھر ایک حیض سے عدّت پوری کیوں نہیں ہوتی؟اسی طرح وفات کی عدّت چار ماہ دس دن کیوں مقرر کی گئی ہے؟ اس کی خاص حکمت کیا ہے؟
واضح رہے کہ شریعتِ مطہرہ نے عدّت کے تمام احکام اور ان کی تفصیل قرآنِ کریم میں واضح طور پر بیان فرما دی ہے، مطلقہ اور بیوہ کی عدّت کا حکم اور دونوں میں فرق قرآنِ کریم میں واضح طور پر موجود ہے اور ایک مسلمان کے لیے اتنا ہی کافی ہے کہ یہ اللہ رب العزت کا حکم ہے، اور مسلمان اللہ کے احکام پر ایمان لانے اور بلا چون و چرا عمل کرنے کا پابند ہے، اور احکم الحاکمین کی تمام حکمتوں کا احاطہ کرنا انسانی عقل کے لیے ممکن نہیں ، البتہ محض سمجھنے کی حد تک حکمت معلوم کرنے میں حرج نہیں، بشرطیکہ عمل کو عقل پر موقوف نہ کیا جائے، یعنی حکم کو اس وقت تک قبول نہ کرنا کہ جب تک اس کی عقل اسے پوری طرح سمجھ نہ لے، تو یہ طرزِ عمل شانِ بندگی کے خلاف ہے، الغرض عدّت کے مسئلے میں اصل علت اللہ تعالیٰ کا حکم ہےاور عورت مطلقہ ہو یا بیوہ، حاملہ ہو یا غیر حاملہ، حیض آتا ہو یا ایسی عمر میں ہو کہ حیض نہ آتا ہو، ہر حال میں عدّت گزارنا اور اس کے احکام کی پابندی کرنا ضروری ہے۔جب کسی عورت کو طلاق ہوتی ہے یا اس کے شوہر کی وفات ہو جاتی ہے تو اس پر عدّت لازم ہوتی ہے۔ عدّت کے متعدد مقاصدو حکمتیں ہیں۔
عدّت کاایک مقصد استبراءِ رحم ہے، یعنی بچہ دانی کے خالی اور فارغ ہونے کا یقین حاصل کرنا اور اچھی طرح معلوم ہو جائے کہ حمل ہے یا نہیں، تاکہ نسب کی حفاظت ہو سکے۔ اگر عدّت کا مقصد صرف استبراءِ رحم ہی ہوتا تو حیض والی عورت کے لیے ایک حیض ہی کافی ہوتا، نہ کہ تین حیض یا چار ماہ دس دن، اور جن عورتوں کو حیض نہیں آتا، ان پر عدّت لازم نہ ہونی چاہیے تھی، حالاں کہ قرآن نے ان کے لیے بھی عدّت مقرر فرمائی ہے، اس سے معلوم ہوتا ہے کہ عدّت محض حمل کی تصدیق کے لیے نہیں ہے، اور وفات کی صورت میں غم اور سوگ کا اظہار بھی مقصود ہے، اسی لیے عدّتِ وفات کو نسبتاً زیادہ رکھا گیا ہے، یعنی چار ماہ دس دن، جیسا کہ قرآنِ کریم میں بھی مذکور ہے، نیز عدّت گزارنے والی عورت کے رحم کے خالی ہونے کی تصدیق جدید آلات اور ترقی یافتہ طبی ذرائع کے ذریعے کرنا شرعاً معتبر نہیں ہے، اور نہ ہی اس معاملے میں ان پر اعتماد کیا جا سکتا ہے، اور نہ ہی ان کو اس عدّت کا بدل قرار دیا جا سکتا ہے جو اللہ تعالیٰ نے مطلقہ عورتوں پر فرض کی ہے۔
عدّت کا دوسرا مقصد رشتۂ نکاح کے منقطع ہونے پر ملال و حزن (سوگ) کا اظہار ہے، خصوصاً شوہر کی وفات کی صورت میں؛ کیوں کہ دیرینہ رفاقت اور حسنِ وفا کا تقاضا یہ ہے کہ شوہر کی وفات پر عورت سوگ کی کیفیت میں رہے، یہی وجہ ہے کہ اسے بناؤ سنگھار اور آرائش سے روکا گیا ہے، جو شوہر کے ساتھ وفاداری اور اس رشتے کی عظمت کے اظہار کا ایک پہلو ہے۔
عدّت کا تیسرا مقصد نکاح کی عظمت اور اس کی اہمیت کو واضح کرنا، اور اس رشتے کو دوام و سنجیدگی دینا، اور میاں بیوی کو ازدواجی زندگی دوبارہ قائم کرنے کا موقع فراہم کرنا ہے، اگر وہ اس میں بھلائی سمجھیں؛ کیوں کہ نکاح ایسا معاملہ ہے جو لوگوں کے اجتماع اور اعلان کے ساتھ قائم ہوتا ہے، اور اسے ختم کرنے کے لیے بھی ایک مدت کا انتظار رکھا گیا ہے، اگر ایسا نہ ہوتا تو نکاح بچوں کے کھیل کی طرح ہو جاتا کہ ایک لمحے میں قائم ہو اور دوسرے لمحے ختم ہو جائے۔ نیز شوہر کی وفات کے بعد بیوی پر عدّت اس کے شوہر کے نسب کی حفاظت کے لیے واجب کی گئی ہے اور اسے حکم دیا گیا ہے کہ وہ فوراً دوسرا نکاح نہ کرے، اسی طرح دوسروں کو بھی حکم دیا گیا ہے کہ زمانۂ عدّت میں نکاھ کا پیغام نہ بھیجیں۔
التجريد للقدوری میں ہے:
25540 - فإن قيل: لو كان المقصود براءة الرحم اقتصر على حيضة واحدة.
25541 - قلنا: لا يقتصر على ذلك، لأن الحامل قد ترى دم الاستحاضة، وعندهم ترى دم الحيض، فإنما لا يتوالى ذلك في العادة، فاعتبر ثلاث حيض ليتيقن بها عدم الحمل".
(كتاب العدة، مسألة: 1259، تداخل العدتين، ج:10، ص:5323، ط: دار السلام)
حجة الله البالغة میں ہے:
"(العدة)قال الله تعالى:{والمطلقات يتربصن بأنفسهن ثلاثة قروء} إلى أخر الآيات.
اعلم أن العدة كانت من المشهورات المسلمة في الجاهلية، وكانت مما لا يكادون يتركونه، وكان فيها مصالح كثيرة:
منها معرفة براءة رحمها من مائه، لئلا تختلط الأنساب، فان النسب أحد ما يتشاح به،»ويطلبه العقلاء، وهو من خواص نوع الانسان، ومما امتاز به من سائر الحيوان، وهي المصلحة المرعية من باب الاستبراء.
ومنها التنويه بفخامة أمر النكاح حيث لم يكن أمرا ينتظم إلا بجمعرجال، ولا ينفك إلا بانتظار طويل، ولولا ذلك لكان بمنزلة لعب الصبيان ينتظم، ثم يفك في الساعة.
ومنها أن مصالح النكاح لا تتم حتى يوطنا أنفسهما على إدامة هذا العقد ظاهرا، فان حدث حادث يوجب فك النظام لم يكن بد من تحقيق صورة الإدامة في الجملة بأن تتربص مدة تجد لتربصها بالا، وتقاسي لها عناء.
وعدة المطلقة ثلاثة قروء، فقيل: هي الإطهار، وقيل: هي الحيض، وعلى أنها طهر، فالسر فيه أن الطهر محل رغبة كما ذكرنا، فجعل تكرارها عدة لازمة ليتروى المتروي، وهو قوله صلى الله عليه وسلم في صفة الطلاق: "
فتلك العدة التي أمر الله بالطلاق فيها " وعلى أنها حيض فالحيض هو الأصل في معرفة عدم الحمل.فإن لم تكن من ذوات الحيض لصغر أو كبر، فتقوم ثلاثة اشهر مقام ثلاثة قروء لأنها مظنتها ولأن براءة الرحم ظاهرة، وسائر المصالح تحقق بهذه المدة.وفي الحامل انقضاء الحمل لأنه معرف براءة رحمها.والمتوفى عنها زوجها تتربص أربعة أشهر وعشرا، ويجب عليها الإحداد في هذه المدة، وذلك لوجوه:
أحدها أنها لما وجب عليها أن تتربص، ولا تنكح، ولا تخطب في هذه المدة حفظا لنسب المتوفى عنها اقضى ذلك في حكمه السياسة أن تؤمر بترك الزينة لأن الزينة تهيج الشهوة من الجابيين، وهيجانها في مثل هذه الحالة مفسدة عظيمة.
وأيضا فان من حسن الوفاء أن تحزن على فقده، وتصير تفلة شعثة، وأن تحد عليه، فذلك من حسن وفائها، وتحقيق معنى قصر بصرها عليه ظاهرا.ولم تؤمر المطلقة بذلك لأنها تحتاج إلى أن تتزين، فيرغب زوجها فيها، ويكون ذلك معونة في جمع ما افترق من شملها، وكذلك اختلف العلماء في المطلقة ثلاثا هل تتزين أم لا؟ فمن ناظر إلى الحكمة، ومن ناظر إلى عموم لفظ المطلقة.
وإنما عين في عدتها أربع أشهر وعشرا لأن الأربعة أشهر هي ثلاث أربعينات، وهيمدة تنفخ فيها الروح في الجنين، ولا يتأخر عنها تحرك الجنين غالبا، وزيد عشر لظهور تلك الحركة.وأيضا فإن هذه المدة نصف مدة الحمل المعتاد وفيه يظهر الحمل بادى الرأي بحيث يعرف كل من يرى.
وإنما شرع عدة المطلقة قروءا، وعدة المتوفى عنها زوجها أربعة أشهر وعشرا لأن هنالك صاحب الحق قائم بأمره ينظر إلى مصلحة النسب، ويعرف بالمخايل والقرائن، فجاز أن تؤمر بما تختص به، وتؤمن عليه، ولا يمكن للناس أن يعلموا منها إلا من جهة خبرها، وههنا ليس صاحب الحق موجودا وغيره لا يعرف باطن أمرها، ولا يعرف مكايدها كما يعرف هو، فوجب أن يجعل عدتها أمرا ظاهرا يتساوى في تحقيقه القريب والبعيد، ويحقق الحيض لأنه لا يمتد إليه الطهر غالبا أو دائما.
قال صلى الله عليه وسلم:" لا توطأ حامل حتى تضع، ولا غير ذات حمل حتى تحيض حيضة "، وقال صلى الله عليه وسلم:" كيف يستخدمهوهو لا يحل له، أم كيف يورثه، وهو لا يحل له " أقول: السر في الاستبراء معرفة براءة الرحم وألا تختلط الأنساب، فإذا كانت حاملا فقد دلت التجربة على أن الولد في هذه الصورة يأخذ شبهين: شبه من خلق من مائه. وشبه من جامع في أيام حمله، بين ذلك أثر عمر رضي الله عنه وهو إيماء قوله صلى الله عليه وسلم:" لا يحل لامرئ يؤمن بالله واليوم الآخر أن يسقى ماءه لزرع غيره " وقوله عليه السلام: " كيف يستخدمه " الخ معناه أن الولد الحاصل بعد جماع الحبلى فيه شبهان لكل شبه حكم يناقض حكم الشبه الآخر، فشبه الأول يجعل الولد عبدا، وشبه الثاني يجعله ابنا، وحكم الأول الرق ووجوب الخدمة عليه لمولاه، وحكم الثاني الحرية واستحقاق الميراث، فلما كان الجماع سبب التباس أحكام الشرع في الولد نهى عنه، والله أعلم."
(العدة، ج:2، ص:219/220/221، ط: دار الجيل)
فقط والله أعلم
فتویٰ نمبر : 144707100153
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن