
کیا عدت پوری ہونے پر جب لڑکی اپنے ماں کے گھر جائے تو کیا عدت کے آخری دن فجر کے وقت سورج نکلنے سے پہلے جائے؟
عدت کے ایام جب مکمل ہوگئے تو شرعاً عدت ختم ہوگئی، یعنی عدت کی وجہ سے جو پابندیاں عورت پر لازم تھیں اب وہ پابندیاں نہیں رہیں، لہذا عدت مکمل ہونے کے بعد لڑکی جب چاہے اپنی والدہ کے گھر جاسکتی ہے، عدت کے آخری دن فجر کے وقت سورج نکلنے سے پہلے جانایا عدت پوری ہونے پر لازماً گھر سے نکلنا،اس کی شرعی اعتبار سے کوئی اصل نہیں ہے۔
فتاوی ہندیہ میں ہے:
"على المبتوتة والمتوفى عنها زوجها إذا كانت بالغة مسلمة الحداد في عدتها."
(کتاب الطلاق، الباب الرابع عشر فی الحداد، ج:1، ص:533، ط:رشيدية)
تفسیر ابن کثیر میں ہے:
"إذا طلقت المرأة أو مات عنها زوجها، فإذا انقضت عدتها فلا جناح عليها أن تتزين وتتصنع وتتعرض للتزويج."
(سورة البقرة، ج:1، ص:638، ط:دار طيبة للنشر والتوزيع)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144603102057
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن