
میری دو سال پہلے شادی ہوئی ہے۔ لڑکی اس دوران بہت بد سلوکی سے پیش آتی تھی۔ گالم گلوچ اور نازیبا الفاظ کا استعمال کرتی تھی اور اس عرصہ میں پانچ چھ بار لڑکی خود طلاق کا مطالبہ کرچکی ہے، اب دو دن پہلے بھی لڑکی نے طلاق کامطالبہ کیا تو میں نے اس کو تین طلاقیں ا ن الفاظ سے دے دیں کہ "میں تمہیں طلاق دے رہا ہوں " اب لڑکی والے ہم سے عدت کے دوران کے خرچہ کا مطالبہ کر رہے ہیں تو آیا شرعی اعتبار سے ہم پر خرچہ دینا لازم ہوگا یانہیں؟
۲) نیز میرا ایک بیٹا ہے ۷ ماہ کا تو اس بچہ کی پرورش کا حق کس کو حاصل ہوگا؟ نیز بچہ کی ماں اپنے چھوٹے بچے کے ساتھ بھی بدسلوکی سے پیش آتی ہے اس عرصہ میں دو مرتبہ بچہ کا گلا دبا چکی ہے تو آیا اس صورت حال میں بچہ کی پرورش کا حق کس کو حاصل ہوگا؟
1۔2۔صورت مسئولہ میں سائل کے مذکورہ الفاظ "میں تمہیں طلاق دے رہا ہوں (تین مرتبہ)" کہنے سے سائل کی بیوی پر تین طلاقیں و اقع ہوگئی ہیں، سائل کی بیوی سائل پر حرمت غلیظہ کے ساتھ حرام ہوگئی ہے، اب رجوع یادوبارہ نکاح کی گنجائش نہیں ہے۔ سائل کی مطلقہ عدت کے بعد دوسری جگہ نکاح کرنے میں آزاد ہوگی۔
نیز مطلقہ پر لازم ہے کہ وہ عدت شوہر کے گھر پر گزارے اور عدت کے دوران کا خرچہ بھی شوہر کے ذمہ واجب ہے۔سائل کی مطلقہ اور اس کے گھر والوں کا عدت کے خرچہ کا مطالبہ کرنا درست ہے۔ہاں اگر سائل کی مطلقہ سائل کی اجازت کے بغیر کسی دوسری جگہ عدت گزارتی ہے تو پھر مطلقہ عدت کے خرچہ کی مستحق نہیں ہوگی۔
7 ماہ کے بیٹے کی پرورش کا حق سات سال کی عمر تک سائل کی مطلقہ کو ہے۔تاہم اگر واقعۃ بچہ کی جان کو مطلقہ سے خطرہ ہے تو پھر بچہ کی نانی پرورش کی حق دار ہے۔لہذا سائل کو چاہیے کہ وہ مطلقہ کے والدین کے ساتھ بیٹھ کربچہ کے معاملہ کو مفاہمت سے طے کرلے اور اپنے اس شبہ کا اظہار ان کے سامنے کردے اور مطلقہ کی والدہ کو بچہ کی حفاظت کا ذمہ دار بنادے۔
فتاوی ہندیہ میں ہے:
"ولو وجبت العدة على المرأة، ثم حبست بحق عليها تسقط النفقة، والمعتدة إذا كانت لا تلزم بيت العدة بل تسكن زمانا وتبرز زمانا لا تستحق النفقة كذا في الظهيرية."
(کتاب الطلاق، باب الحضانۃ، ج:،ص:،دار الفکر)
فتاوی ہندیہ میں ہے:
"أحق الناس بحضانة الصغير حال قيام النكاح أو بعد الفرقة الأم إلا أن تكون مرتدة أو فاجرة غير مأمونة كذا في الكافي. سواء لحقت المرتدة بدار الحرب أم لا، فإن تابت فهي أحق به كذا في البحر الرائق. وكذا لو كانت سارقة أو مغنية أو نائحة فلا حق لها هكذا في النهر الفائق."
(کتاب الطلاق، باب الحضانۃ، ج:،ص:،دار الفکر)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144708100928
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن