
مجھے جاننا ہے کہ
۱) عدت حقوق العباد میں شمار ہوتی ہے یا حقوق اللہ میں؟
۲) عدت میں کنگھی نہ کرنے سے بال الجھ جاتے ہیں اور سردرد ہوتا ہے تو کیا صرف اس نیت سے تیل لگانے کی اجازت ہے کہ کنگھی نہ کرنی پڑے اور بال زیادہ الجھے نہ رہیں؟
۳) اگر سسرال سے زیور تحفہ میں ملا ہو اور ساتھ کچھ زیور ولیمے کے لیے دیا گیا اور جب ولیمے سے اگلے دن واپس کرنے گئی اور انہوں نے کہہ کہ یہ آپ کا ہے خود سنبھالو اور باوجود اصرار کے نہیں رکھا ۔
اب طلاق کی صورت میں ان سب پر ( جو تحفے میں ملا اور دوسرا بھی) حق کس کا ہے؟ اگر تو خاتون کا ہے اور سسرال والے نہ دیں تو کیا پھر یہ سوچتے ہوئے کہ اللہ روز قیامت اس کا بہتر بدل دیں گے تو کیا اس کی زکاۃ عورت ادا کرے گی؟
۱) عدت حقوق اللہ میں سے ہے ، اس لیے اگر طلاق بائن دینے والا مرد زینت اختیار کرنے اور گھر سے نکلنے کی اجازت بھی دے دے تب عدت گزارنے والی عورت کو زینت اختیار کرنے کی اجازت نہیں ہوگی۔
۲) سر درد کے عذر کی وجہ سے تیل لگانے اور اس کنگھی کے استعمال کی اجازت ہوگی جس کے دانتوں میں فاصلہ زیادہ ہوتا ہے۔ نیز یہ واضح رہے کہ یہ عمل زینت کے لیے نہ ہو بلکہ علاجاً صرف اس سردرد کے عذر کو زائل کرنے کے لیے ہو۔
۳)دونوں قسم کے زیور یعنی جو سائلہ کو ابتداءً ہی تحفے کے طور پر ملے اور جو ابتداء میں ولیمہ کے لیے ملے اور بعد میں اس کے متعلق کہا گیا کہ یہ سائلہ کے ہیں، دونوں قسم کے زیور سائلہ کی ملکیت ہیں، سسرال والوں کو چاہیے کہ سائلہ کو وہ زیور واپس کردیں۔ نیز اگر سسرال والے سائلہ کو یہ زیور نہیں دیتے اور وہ سائلہ کی حق تلفی پر مصر ہیں اور سائلہ کے لیے سسرال والوں سے وصول کرنا ممکن نہیں ہے تو پھر سائلہ پر اس کی زکاۃ نہیں ہے۔
فتاوی شامی میں ہے:
"(تحد) بضم الحاء وكسرها كما مر (مكلفة مسلمة - ولو أمة - منكوحة) بنكاح صحيح ودخل بها، بدليل قوله (إذا كانت معتدة بت، أو موت) وإن أمرها المطلق، أو الميت بتركه لأنه حق الشرع، إظهارا للتأسف على فوات النكاح (بترك الزينة) بحلي أو حرير، أو امتشاط بضيق الأسنان (والطيب) وإن لم يكن لها كسب إلا فيه (والدهن) ولو بلا طيب كزيت خالص (والكحل والحناء ولبس المعصفر والمزعفر) ومصبوغ بمغرة، أو ورس (إلا بعذر)راجع للجميع إذ الضرورات تبيح المحظورات،
(قوله: ولو أمة) لأنها مكلفة بحقوق الشرع ما لم يفت به حق العبد بحر.
والحاصل أن الحداد لا يفوت حق المولى لأنها محرمة عليه ما دامت في العدة، بخلاف اعتدادها في بيت الزوج كما يأتي.
(قوله: راجع للجميع) فإن كان وجع بالعين فتكتحل، أو حكة فتلبس الحرير، أو تشتكي رأسها فتدهن وتمشط بالأسنان الغليظة المتباعدة من غير إرادة الزينة لأن هذا تداو لا زينة جوهرة. قال في الفتح: وفي الكافي إلا إذا لم يكن لها ثوب إلا المصبوغ فإنه لا بأس به لضرورة ستر العورة، لكن لا تقصد الزينة؛ وينبغي تقيده بقدر ما تستحدث ثوبا غيره إما ببيعه والاستخلاف بثمنه، أو من مالها إن كان لها. اهـ."
(کتاب الطلاق، باب العدۃ، ج:3،ص:530، ایچ ایم سعید)
وفیہ ایضاً:
"(لا) حداد على سبعة: كافرة وصغيرة، ومجنونة و (معتدة عتق) كموته عن أم ولده
«(قوله: على سبعة إلخ) شروع في محترزات القيود المارة ويزاد ثامنة، وهي المطلقة قبل الدخول، محترز قوله إذا كانت معتدة. (قوله: كافرة وصغيرة ومجنونة) لكن لو أسلمت الكافرة في العدة لزمها الإحداد فيما بقي منها كما مر عن الجوهرة، وكذا ينبغي أن يقال في الصغيرة والمجنونة إذا بلغت وأفاقت كما في البحر، وإنما لزمت العدة عليهن دون الإحداد لأنه حق الله تعالى كما مر، ولا بد فيه من خطاب التكليف لأن اللبس والتطيب فعل حسي محكوم بحرمته، بخلاف العدة فإنها من ربط المسببات بالأسباب على معنى أنه عند البينونة يثبت شرعا عدم صحة نكاحهن في مدة معينة، فهو حكم بعدم فلا يتوقف على خطاب التكليف كما أوضحه في الفتح فافهم."
(کتاب الطلاق، باب العدۃ، ج:3،ص:532، ایچ ایم سعید)
وفیہ ایضاً:
"(ومغصوب لا بينة عليه) فلو له بينة تجب لما مضى إلا في غصب السائمة فلا تجب، وإن كان الغاصب مقرا كما في الخانية»
(قوله: فلو له بينة تجب لما مضى) أي تجب الزكاة بعد قبضه من الغاصب لما مضى من السنين قال ح: وينبغي أن يجري هنا ما يأتي مصححا عن محمد من أنه لا زكاة فيه لأن البينة قد لا تقبل فيه. اهـ. قال ط: والظاهر على القول بالوجوب أن حكمه حكم الدين القوي اهـ أي فتجب عند قبض أربعين درهما."
(کتاب الزکوۃ، ج:2،ص:266،ایچ ایم سعید)
وفیہ ایضاً:
"(وابن السبيل وهو) كل (من له ماله لا معه) ومنه ما لو كان ماله مؤجلا أو على غائب أو معسر أو جاحد ولو له بينة في الأصح.
(قوله: ولو له بينة في الأصح) نقل في النهر عن الخانية أنه لو كان جاحدا وللدائن بينة عادلة لا يحل له أخذ الزكاة، وكذا إن لم تكن البينة عادلة ما لم يحلفه القاضي، ثم قال ولم يجعل في الأصل الدين المجحود نصابا، ولم يفصل بين ما إذا كان له بينة عادلة أو لا. قال السرخسي: والصحيح جواب الكتاب أي الأصل إذ ليس كل قاض يعدل، ولا كل بينة تقبل، والجثو بين يدي القاضي ذل وكل أحد لا يختار ذلك وينبغي أن يعول على هذا كما في عقد الفرائد. اهـ.
قلت: وقدمنا أول الزكاة اختلاف التصحيح فيه، ومال الرحمتي إلى هذا وقال بل في زماننا يقر المديون بالدين وبملاءته ولا يقدر الدائن على تخليصه منه فهو بمنزلة العدم."
(کتاب الزکوۃ، باب المصارف، ج:2،ص:343،ایچ ایم سعید)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144706101048
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن