
ہماری کمپنی مختلف شعبوں میں کاروبار کر رہی ہے، جہاں ملازمین کو پروڈکشن، سیلز، مارکیٹنگ، میڈیا، اور اکاؤنٹس وغیرہ سے متعلق اہم اور رازدارانہ معلومات (Confidential Information) تک رسائی حاصل ہوتی ہے،کمپنی کا مقصد یہ ہے کہ ان معلومات کے غلط استعمال یا ان کے مسابقتی اداروں (Competitors) تک افشاء ہونے سے تحفظ کیا جائے، اسی غرض سے کمپنی نے ملازمین کے لیے ایک عہد نامہ (Undertaking) تیار کیا ہے جس میں چند شرائط شامل ہیں، کمپنی ملازمین کے ساتھ ایک تحریری معاہدہ کر رہی ہے، جس کی دو شقوں کے متعلق بعض شرعی اشکالات ہیں، اس لیے ہم ان پر وضاحت طلب کر رہے ہیں۔
پہلی شق:
"ملازم دورانِ ملازمت یا ملازمت ختم ہونے کے بعد کسی موجودہ یا سابقہ ملازم کو کسی دوسری تنظیم یا کاروبار میں ریفر، سفارش یا شامل نہیں کرے گا جب تک کمپنی سے تحریری اجازت حاصل نہ کرے۔"
اس شق کا مقصد یہ ہے کہ ملازمین ایک دوسرے کو کمپنی چھوڑنے کی ترغیب نہ دیں، اور اگر کوئی ملازم علیحدگی اختیار کر بھی لے تو وہ کمپنی کے دیگر ملازمین کو اپنے ساتھ لے جانے، یا کسی دوسرے ادارے میں ریفر یا سفارش کرنے سے گریز کرے، تاکہ کمپنی کے اندرونی نظم و ضبط اور راز داری کو نقصان نہ پہنچے۔
دوسری شق:
"میں کمپنی سے علیحدگی کے بعد دو (2) سال کی مدت تک کسی ایسی کمپنی یا ادارے میں ملازمت، مشاورت، شراکت یا تعاون نہیں کروں گا جس کے کاروباری مفادات کمپنی کے مفادات سے متصادم یا اس کے مسابقتی (Competitor) ہوں۔"
اس شرط کا مقصد یہ ہے کہ ملازم کمپنی کے خفیہ تجارتی یا انتظامی معلومات لے کر فوراً کسی مقابل ادارے میں نہ جا سکے۔
تیسری شق:
"کوئی ملازم کمپنی چھوڑنے کے بعد ایسے افراد کو، جو کمپنی سے (خواہ خود گئے ہوں یا برطرف کیے گئے ہوں)، کسی دوسرے ادارے میں ملازمت دلانے یا سفارش کرنے کی کوشش نہ کرے۔"
اس شق کا مقصد یہ ہے کہ کمپنی سے جانے والے یا بدعنوانی یا خلافِ ضابطہ وجوہات کی بنا پر فارغ کیے گئے افراد کو فوری طور پر مسابقتی اداروں میں شامل نہ کیا جائے۔
اضافی وضاحت:
کمپنی کی نیت کسی کا رزق روکنا یا ناجائز طور پر پابندی لگانا نہیں ہے، بلکہ صرف اپنے جائز کاروباری مفادات، رازدارانہ معلومات اور امانت کے تحفظ کو یقینی بنانا ہے،مزید یہ کہ شہر میں ہزاروں کمپنیاں موجود ہیں — اندازاً پچاس ہزار (50,000) کے قریب — اور ان میں سے صرف بمشکل دس (10) کمپنیاں ایسی ہیں جنہیں کمپنی کے براہِ راست مسابقتی ادارے (Direct Competitors) کہا جا سکتا ہے،لہٰذا کمپنی کی طرف سے لگائی گئی پابندی عام ملازمتوں پر نہیں، بلکہ صرف انہی چند مسابقتی اداروں تک محدود ہے جن میں ملازم کے جانے سے کمپنی کے تجارتی یا خفیہ مفادات کو حقیقی نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہو،باقی تمام ہزاروں کمپنیوں میں ملازمین کو کامل آزادی حاصل ہے کہ وہ اپنی قابلیت کے مطابق ملازمت اختیار کر سکیں۔
درخواست برائے شرعی رائے:
کیا پہلی شق میں کوئی شرعی قباحت یا ناجائز پہلو موجود ہے؟کیا ایسی دو سالہ پابندی شرعاً جائز اور منصفانہ ہے؟کیا کمپنی ایسے افراد پر محدود مدت (مثلاً ایک یا دو سال) کی پابندی عائد کر سکتی ہے تاکہ ادارے کے مفادات کو نقصان سے محفوظ رکھا جا سکے؟
مندرجہ بالا نکات کی روشنی میں محترم مفتی صاحب سے گزارش ہے کہ ان شقوں کی شرعی حیثیت واضح فرمائیں، یہ بتائیں کہ ان میں کوئی ناجائز یا غیر منصفانہ پہلو تو نہیں، اگر کسی شق میں اصلاح یا نرمی کی گنجائش ہو تو وہ بھی تجویز فرمائیں تاکہ معاہدہ شرعاً درست، اخلاقاً متوازن، اور شرعی اصولوں کے مطابق ہو۔
واضح رہے کہ کسی بھی کمپنی کے لیے اپنے ملازمین کے ساتھ دائرہ کار اور اختیارات کے تعین کے ساتھ ساتھ ادارے کے قواعد و ضوابط کی پابندی کا معاہدہ کرنا بھی درست ہے، تاہم اس معاہدہ میں دو باتوں کی رعایت ضروری ہے، 1۔کوئی شق خلاف شرع امور پر مشتمل نہ ہو، 2۔کوئی ایسی شرط نہ لگائی جائے جو ملازم کے بنیادی حقوق کو معطل یا متاثر کرتی ہو، مگر یہ بھی ملحوظ رہے کہ ملازم جب تک کمپنی سے وابستہ رہے وہ اس معاہدہ کا پابند ہوگا، ملازمت ختم ہوجانے کے بعد اسے قضاء معاہدہ کی پابندی پر مجبور نہیں کیا جاسکتا ہے۔
لہذا صورت مسئولہ میں اگر آپ کاادارہ ملازم سے معاہدہ کرتا ہے کہ وہ ادارہ کی اہم معلومات، فیصلوں، کاموں کو محفوظ رکھے گا اور کسی کو بھی اعلانیہ یا خفیہ طور پر نہیں بتائے گا توملازم پر اس معاہدہ کی پاسداری ضروری ہے اور ایسے معاہدہ کی خلاف ورزی کرنے پر مذکورہ ملازم گناہ گار ہوگا،اور اس کی خیانت اور کمپنی کو نقصان پہچانے پر ادارہ حسب ضابطہ اس کے خلاف کاروائی کرنے کا مجاز ہوگا۔
لہذا پہلی شق کے مطابق اگر ادارہ ملازم کو اس بات کا پابند کرتا ہے کہ وہ دوران ملازمت کسی موجودہ یا سابقہ ملازم کو کسی دوسری تنظیم یا کاروبار میں ریفر، سفارش یا شامل نہیں کرے گا جب تک کمپنی سے تحریری اجازت حاصل نہ کرے تو یہ شق درست ہے،اور ملازم پر دوران ملازمت اس کی پابندی کرنا ضروری ہوگا، لیکن یہی شرط ملازمت کے بعد کے لیے لگانا درست نہیں، کیوں کہ ملازمت کے بعد اس کا ادارہ سے معاہدہ ختم ہوجائےگا اور وہ اپنے فیصلوں میں آزاد ہوگا، اس پرمعاہدہ کی پابندی لازم نہیں ہوگی،البتہ اگر یہ شق معاہدہ میں صرف بطور وعدہ شامل کی جائےتو ایسا کرنا درست ہے، تاہم اس صورت میں اگر ملازم بعد از ملازمت اس شق کی پابندی نہیں کرتا تو وعدہ خلافی کی وجہ سے گناہ گار ہوگا، لیکن اس کے خلاف کسی قسم کی تادیبی کاروائی کا ادارہ مجاز نہیں ہوگا۔
شق نمبر دو میں شرعا اور اخلاقا ملازم کو ملازمت چھوڑنے کے بعداس بات کا پابند کرناجائز نہیں ہے کہ وہ دو (2) سال کی مدت تک کسی ایسی کمپنی یا ادارے میں ملازمت، مشاورت، شراکت یا تعاون نہیں کرے گا، جس کے کاروباری مفادات اس کمپنی کے مفادات سے متصادم یا اس کے مسابقتی (Competitor) ہوں،ملازمت ختم ہونے کے بعد اس کا حق ہے کہ وہ کسی بھی ادارہ میں ملازمت اختیار کرسکتا ہےاور سابقہ ادارہ کو اس کے اس حق کو معطل یا متاثر کرنے کا حق نہیں ہے۔
شق نمبر تین کے متعلق تفصیل شق نمبر ایک کے ضمن میں گزر چکی ہے۔
قرآن کریم میں باری تعالٰي کا ارشاد ہے:
"وَأَوفُواْ بِٱلعَهدِ إِنَّ ٱلعَهدَ كَانَ مَسـٔولًا۔"[سورۃ الإسراء: 43]
صحيح البخاری میں ہے:
"عن أبي هريرة، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: " آية المنافق ثلاث: إذا حدث كذب، وإذا وعد أخلف، وإذا اؤتمن خان۔"
(باب علامة المنافق، ج:1، ص: 16، ط: دار طوق النجاۃ)
بدائع الصنائع میں ہے:
"وأما الذي يرجع إلى ركن العقد فخلوه عن شرط لا يقتضيه العقد ولا يلائمه۔"
(کتاب الإجارة، فصل في أنواع شرائط ركن الإجارة، ج: 4، ص: 194، ط: دار الكتب العلمية)
وفیہ ایضاً:
"ومن أجر المثل إذا كان الأجر مسمى وقد قال في هذه المسألة: إنه لا ينقص من المسمى، من المشايخ من قال المسألة مؤولة تأويلها: إنه لا ينقص من المسمى إذا كان أجر المثل والمسمى واحدا، ومنهم من أجرى الرواية على الظاهر فقال: إن العاقدين لم يجعلا المسمى بمقابلة المنافع حيث شرط المستأجر أن لا يسكن، ولا بمقابلة التسليم لما ذكرنا أنه لا يتحقق مع فساد العقد فإذا سكن فقد استوفى منافع ليس في مقابلتها بدل فيجب أجر المثل بالغا ما بلغ كما إذا لم يذكر في العقد تسمية أصلا إلا أنه قال: لا ينقص من المسمى؛ لأن المستأجر رضي بالمسمى بدون الانتفاع فعند الانتفاع أولى ولو آجره داره أو أرضه أو عبده أو دابته وشرط تسليم المستأجر جاز؛ لأن تسليم المستأجر من مقتضيات العقد."
(کتاب الإجارة، فصل في أنواع شرائط ركن الإجارة، ج:4، ص: 195، ط:دار الكتب العلمية)
الفقه الإسلامي وأدلته میں ہے:
"تنتهي الإجارة بانقضاء المدة إلا لعذر؛ لأن الثابت إلى غاية ينتهي عند وجود الغاية، فتنفسخ الإجارة بانتهاء المدة إلا إذا كان هناك عذر بأن انقضت المدة."
(المبحث السابع ـ انتهاء عقد الإجارة، بانقضاء المدة إلا لعذر، ج: 5، ص: 3863، ط: دار الفكر)
النتف فی الفتاوی میں ہے:
"والاجارۃ لا تخلو: اماان تقع علی وقت معلوم او عمل معلوم فان وقعت علی عمل معلوم فان وقعت علی عمل معلوم فلا تجب الاجرۃ الاباتمام العمل۔۔۔۔۔وان وقعت علی وقت معلوم فتجب الاجرۃ بمضی الوقت."
( کتاب الاجارۃ، معلومیة الوقت والعمل، ج: 2، ص: 559، ط: مؤسسة الرسالة )
فقط والله أعلم
فتویٰ نمبر : 144705100503
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن