بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

18 ذو الحجة 1447ھ 04 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

ادارہ کا مریضوں پر اپنی طرف سے خرچ کردہ رقم زکات فنڈ سے وصول کرنا


سوال

ہمارا ادارہ " بقائی انسٹیٹیوٹ آف ڈائیبیٹولوجی اینڈو کرائنولوجی" مستحق و نادار مریضوں کے علاج کے لیے ایک مستقل زکوۃ فنڈ قائم کیے ہوئے ہے، جس کے لیے علیحدہ بینک اکاؤنٹ مختص ہے۔ مریضوں سے باقاعدہ وکالت نامہ اور اجازت نامہ حاصل کیا جاتا ہے کہ ان پر ہونے والے اخراجات شرعًا ان ہی کی طرف سے زکوۃ فنڈ سے پورا کیے جائیں، عملی صورت حال یہ ہے کہ مستحق مریضوں کے علاج کے لیے جو ابتدائی اور جاری اخراجات ہیں، وہ ہمارا ادارہ اپنی اصل آمدنی (Income Account) سے ادا کرتا ہے۔کیا ادارہ شرعًا اس بات کا حق رکھتا ہے کہ اپنی آمدنی سے کیے گئے ان اخراجات کو بعد میں زکوة فنڈ سے اپنے انکم اکاؤنٹ میں منتقل کرلے ؟مریض کی جانب سے حاصل کردہ وکالت واجازت کی بنا پر  کیا ادارہ اپنے ادا کر دہ اخراجات زکوۃ فنڈ سے واپس لے سکتا ہے ؟شرعی اصولوں کے مطابق اس طریق کار کو درست طور پر استعمال کرنے کی کیا صورت ہو گی ؟براہ کرم اس پورے معاملے کی شرعی حیثیت واضح فرمائیں۔

وضاحت:

اپنی ذاتی آمدنی سے ادارہ لیبارٹری ، دوائیوں اور  ہر ڈیپارٹمنٹ کا مجموعی بل ادا کردیتا ہے، اس لیے ادارہ اپنی ذاتی آمدنی استعمال کرتا ہے،کیوں کہ اگر زکاۃ کا اکاؤنٹ استعمال کریں تو ہر ہر مریض کا الگ الگ بل ادا کرنا پڑے گا جو کہ مشکل، وقت طلب اور مزید اسٹاف طلب عمل ہے،جیسے ڈاکٹر اگر پچاس مریضوں کو دیکھتا ہے، جس میں سے پندرہ زکات الے ہوں تو ہم اپنی آمدنی سے کل پچاس کا بل ڈاکٹر کو ادا کرتے ہیں، اگر زکات کے اکاؤنٹ سےزکات والوں کی ادائیگی کریں تو مزید اسٹاف رکھنا پڑے گا، کافی محنت ہوگی۔

وکالت نامہ کی عبارت یہ ہے:

ہسپتال کی انتظامیہ کو اس بات کا وکیل بناتا/ بتاتی ہوں کہ ہسپتال کی انتظامیہ یا ان کے نمائندے میری طرف سے وکیل کی حیثیت سے زکوۃ وصدقات کی رقوم یا اشیاءوصول کریں اور اسے میرے علاج و معالجہ اور طعام وغیرہ کی ضروریات میں حسب صوابدید خرچ کریں۔

جواب

صورتِ مسئولہ میں ادارہ کا اپنی اصل آمدنی (Income Account) سے مستحقِ زکوٰۃ مریض پر خرچ کرنے کے بعد زکوٰۃ فنڈ میں سے ان اخراجات کو وصول کرنے کی صورتیں اور ان کے احکام مندرجہ ذیل ہیں:

  1. اگر زکوٰۃ فنڈ میں رقم موجود ہو ، اور ادارہ  اپنی اصل آمدنی (Income Account) سے مستحقِ زکوٰۃ مریض پر اس نیت سے خرچ کرے کہ وہ بعد میں زکوٰۃ فنڈ میں سے یہ اخراجات وصول کرلے گا تو ادارہ کے لیے وہ اخراجات زکوٰۃ  فنڈ میں سے وصول کرنا جائز ہے۔
  2. اگر زکوٰۃ فنڈ میں رقم موجود نہ ہو ، اور  ادارہ مستحقِ زکوٰۃ مریض سے یہ وکالت اور اجازت لے کر اپنی اصل آمدنی (Income Account) سے مریض پر اس نیت سے خرچ کرے کہ وہ بعد میں زکوٰۃ فنڈ میں سے یہ اخراجات وصول کرلے گا تو ادارہ کے لیے وہ اخراجات بھی زکوٰۃ  فنڈ  میں سے وصول کرنا جائز ہے۔
  3. اگرزکوٰۃ فنڈ میں رقم نہ ہو  اور ادارے نے مستحقِ زکوٰۃ مریض سے وکالت بھی نہ لی ہو  یا رقم  واپس لینے کی نیت کے بغیر رقم خرچ کی تو ادارے کو یہ اخراجات واپس لینے کا حق نہیں ہوگا، بلکہ یہ ادارے کی طرف سے تبرع ہوگا۔

فتاویٰ شامی میں ہے:

"اعلم أن أداء الدين عن الدين و العين عن العين، و عن الدين يجوز وأداء الدين عن العين، وعن دين سيقبض لا يجوز. وحيلة الجواز أن يعطي مديونه الفقير زكاته ثم يأخذها عن دينه. 

و الحيلة إذا خاف ذلك ما في الأشباه، و هو أن يوكل المديون خادم الدائن بقبض الزكاة ثم بقضاء دينه، فبقبض الوكيل صار ملكا للموكل، ولا يسلم المال للوكيل إلا في غيبة المديون لاحتمال أن يعزله عن وكالة قضاء دينه حال القبض قبل الدفع."

(كتاب الزكاة، ج: 2، ص: 271، ط: دار الفكر)

فتاوی هندیہ میں ہے:

‌ولو ‌قضى ‌دين ‌الفقير بزكاة ماله إن كان بأمره يجوز، وإن كان بغير أمره لا يجوز.

 (کتاب الزکاۃ، فصل ما يوضع في بيت المال من الزكاة، ج: 1، ص: 190، ط: رشیدیة)

بدائع الصنائع میں ہے:

ولو قضى دين حي فقير إن قضى بغير أمره لم يجز؛ لأنه لم يوجد التمليك من الفقير لعدم قبضه وإن كان بأمره يجوز عن الزكاة لوجود التمليك من الفقير؛ لأنه لما أمره به صار وكيلا عنه في القبض فصار كأن الفقير قبض الصدقة بنفسه وملكه من الغريم. 

(کتاب الزکاۃ، فصل رکن الزکاۃ، ج:2، ص:39، ط: دار الکتب العلمیة)

فقط والله أعلم


فتویٰ نمبر : 144706100969

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں