
میں ایک جگہ ایک دینی مدرسےمیں خدمت کر رہا ہوں، ادارے کی طرف سے مجھ پر لازم ہے کہ ہر تین ماہ بعد اپنی تصویر اور پوری کلاس کی تصویر اسی طرح کلاس میں پڑھتے ہوئے بچوں کی ویڈیو بنا کر ہیڈ آفس بھیجا کروں، اب سوال یہ ہے کہ کیا یہ تصویر اور ویڈیو بنا کر بھیجنا میرے لیے جائز ہے؟ جب کہ ادارے کی طرف سے مجھ پر لازم ہے؟
صورتِ مسئولہ میں سائل کا ادارے کے مطالبے پراپنی اور طلبہ کی تصاویر یا ویڈیو زبناکر بھیجنا جائز نہیں، نیز ادارے کو سائل سے اس طرح کا مطالبہ بھی نہیں کرنا چاہیے۔
اگر ادارے کا مقصود نگرانی ہے تو اس کے لیے کوئی اور مناسب اور جائز تدبیر اختیار کرلی جائے ۔
صحیح بخاری میں ہے:
"عن نافع: أن عبد الله بن عمر رضي الله عنهما أخبره: أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: (إن الذين يصنعون هذه الصور يعذبون يوم القيامة، يقال لهم: أحيوا ما خلقتم."
( كتاب اللباس، باب عذاب المصورين يوم القيامة ،ج:5، ص:2220، ط: دار ابن كثير)
مشکاۃ المصابیح میں ہے:
"وعن عبد الله بن مسعود قال: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: «أشد الناس عذابا عند الله المصورون»."
( کتاب اللباس، باب التصاویر،ج:3، ص:383، ط:المکتب الاسلامی)
البحر الرائق میں ہے:
"وظاهر كلام النووي في شرح مسلم الإجماع على تحريم تصويره صورة الحيوان وأنه قال قال أصحابنا وغيرهم من العلماء تصوير صور الحيوان حرام شديد التحريم
وهو من الكبائر لأنه متوعد عليه بهذا الوعيد الشديد المذكور في الأحاديث."
(کتاب الصلاۃ،باب ما يفسد الصلاة وما يكره فيها،ج:2، ص:2،ط:دار الکتب الاسلامی)
فقط والله اعلم
فتویٰ نمبر : 144801101049
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن