بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

26 ذو الحجة 1447ھ 12 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

ادارہ کے قوانین کی پاسداری کا حکم


سوال

 ہماری تنظیم مختلف ریاستوں کے مختلف اضلاع کے شہروں اور دیہاتوں میں تقریباً ۸۵۰ مکتب چلا رہی ہے۔ ان مکاتب میں مدرس حضرات دیہات اور شہروں میں روزانہ تقریباً ایک گھنٹے سے تین گھنٹے تک خدمت انجام دیتے ہیں۔ اب تک مدرسین کی حاضری، رخصت کی درخواستیں اور بچوں کی حاضری کاغذی رجسٹروں کے ذریعے درج کی جاتی رہی ہے، لیکن اس نظام میں درج ذیل مشکلات سامنے آ رہی ہیں: اسٹیشنری اور رجسٹروں پر سالانہ خرچ تقریباً ₹1,00,000/- کے قریب ہو جاتا ہے۔ مدرسین کی رخصت کی درخواستوں کا نظام بے ترتیبی کا شکار رہتا ہے۔ بچوں کی حاضری بھی باقاعدہ اور قابلِ اعتماد طریقے سے درج نہیں ہو پاتی۔ گزشتہ پانچ سال کے تجربے میں یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ جمعہ اور سرکاری تعطیلات کے دنوں میں بھی مکمل حاضری دکھا دی جاتی ہے، جبکہ حقیقت میں حاضری نہیں ہوتی۔ تنظیم کی جانب سے مکمل حاضری پر مدرسین اور طلبہ کو انعام (Incentive) بھی دیا جاتا ہے، لیکن موجودہ صورتِ حال میں تنظیم کو مدرسین کی بتائی ہوئی حاضری پر ہی اعتماد کرنا پڑتا ہے۔ (الحمد للہ، تمام مدرسین ایسے نہیں ہیں؛ چند معاملات میں ہی یہ مسئلہ سامنے آیا ہے۔) ان حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے، موجودہ ٹیکنالوجی کے دور میں تنظیم نے موبائل ایپ کے ذریعے درج ذیل نظام نافذ کرنے کا ارادہ کیا ہے: آن لائن حاضری آن لائن رخصت کی درخواست دیگر ضروری انتظامی معلومات اس نظام پر آنے والا یک وقتی خرچ، موجودہ سالانہ رجسٹر کے خرچ کے آدھے سے بھی کم ہے، اور اس سے نظام زیادہ شفاف، آسان اور قابلِ اعتماد بن جاتا ہے۔ تاہم بعض پرانے مدرسین حضرات کی جانب سے یہ اعتراض سامنے آ رہا ہے کہ: “کیا تنظیم کو ہم پر اعتماد نہیں ہے؟” “ہم اس طریقۂ کار کو قبول نہیں کر سکتے۔” “بزرگوں کا طریقہ یہ نہیں ہے۔” تنظیم کی انتظامیہ کا موقف یہ ہے کہ: یہ نظام عدمِ اعتماد کے لیے نہیں، بلکہ نظم و ضبط اور امانت داری کے لیے ہے۔ تنخواہوں کے بارے میں تو بھی یہ نہیں کہتا کہ پرانے زمانے کے حساب سے دو جو بزرگانِ دین لیتے تھے؟ اگر انتظامیہ نے باہمی مشورے سے کوئی اصول مقرر کیا ہے، تو شریعت کی حدود میں رہتے ہوئے اس کی پابندی ضروری ہے۔ اب شریعت کی روشنی میں ہم درج ذیل امور پر رہنمائی چاہتے ہیں: کیا تنظیم کی جانب سے حاضری، رخصت اور دیگر امور کے لیے موبائل ایپ کے ذریعے نظام بنانا شریعت کی نظر میں جائز اور درست ہے؟ کیا اس نظام کو عدمِ اعتماد شمار کیا جائے گا یا نظم و نسق اور امانت کی حفاظت کے لیے مناسب سمجھا جائے گا؟ اگر تنظیم نے مشورے سے اس قسم کا ضابطہ بنایا ہو تو کیا مدرسین حضرات پر اس کی پابندی شریعت کے مطابق لازم ہوگی؟ اگر کوئی مدرس شریعت کے مطابق درست انتظامی اصولوں میں تعاون نہ کرے تو شریعت اس بارے میں کیا رہنمائی دیتی ہے؟ کیا تنظیم ایسے اصولوں کو نہ ماننے والوں کے خلاف انتظامی کارروائی کر سکتی ہے؟ محترم مفتی صاحب! براہِ کرم قرآن، حدیث اور فقہی اصولوں کی روشنی میں ہمیں واضح اور رہنمائی پر مبنی جواب عنایت فرمائیں، تاکہ ہم تنظیم کے نظام کو شریعت کے مطابق خوش اسلوبی سے چلا سکیں۔ جزاکم اللہ خیراً

جواب

صورتِ مسئولہ میں اگر مکاتب و مدارس کے اساتذہ اور عملے کی حاضری میں واقعی بے ضابطگی اور خیانت پائی جا رہی ہو کہ وہ باقاعدہ حاضری کا اہتمام نہیں کرتے، یا درست حاضری لکھنے میں کوتاہی کرتے ہیں، تو ایسی صورت میں درست حاضری کو یقینی بنانے کی غرض سےنظم و ضبط کو بہتر بنانے کے لیے حاضری، رخصت اور دیگر انتظامی امور کے لیے  دور جدید کےآن لائن سسٹم (موبائل ایپ وغیرہ) کا استعمال کرنے کی گنجائش ہے، جبکہ ایپ ایسا ہو جس میں تصویر سازی اور  تصویر کے ذریعے حاضری نہ لی جائے، بلکہ فنگر پرنٹ وغیرہ پر اکتفا کیا جائے، چونکہ اس طرح کی حاضری لینے میں کچھ بے اعتمادی کی فضا بھی قائم ہونے لگتی ہے، اس لیے جہاں پر معروف طریقہ پر حاضری سے کام حل ہو سکتا ہو ،اساتذہ اور عملے میں کی حاضری میں واضح  خیانت ظاہر نہیں ہوتی ہو، وہاں اس طرح کا نظام رائج نہ کرنا ہی  مناسب ہے، تاکہ باہم بے اعتمادی کی فضا پیدا نہ ہو ، کیونکہ باہمی اعتماد اور حسن ظن اور خدا ترسی کے ساتھ ہی کام  عمدہ طریقہ پرلیا جا سکتا ہے اور اس میں اخلاص و للہیت غالب رہتی ہے، جو کہ دینی کام میں  نہ صرف محمود ہے ،بلکہ مقصود بھی ہے،بہر صورت اگر انتظامیہ ایسا کوئی نظام حاضری رائج کرنے کو ضروری محسوس کرتی ہو ،جو کہ غیر شرعی امور پر مشتمل نہ ہو تومدرسین اورعملے پر اس کی پابندی کرنا شرعاً لازم ہوگی، اور اس سلسلے میں تعاون کرنا ضروری ہوگا،اگر کوئی مدرس ان جائز انتظامی ضوابط کی بلا وجہ خلاف ورزی کرے یا تعاون سے انکار کرے، تو ادارے کی جانب سے اس کے خلاف مناسب انتظامی کارروائی کرنا بھی شرعاً درست ہوگا،کیوں  کہ اجیر خاص کےلیے مؤجر کی جائز ہدایات کی پاسداری دوران ڈیوٹی لازم ہوتی ہے۔

رد المحتار على الدر المختار میں ہے:

"وفي شرح الْجواهر: تجب إطاعته فيم أَباحه الشرع، وهو ما يعود نفعه على العامة، وقد نصوا في الجهاد على امتثال أمره في غير معصية."

( كتاب الأشربة، ج: 6، ص: 460، ط: دار الفكر)

احكام القرآن لظفر احمد عثماني میں ہے:

"و هذا الحكم اي وجوب طاعة الامير يختص بما اذا لم يخالف امره الشرع، يدل عليه سياق الآية فإن الله تعالي امر الناس بطاعة اولي الأمر بعد ما أمرهم بالعدل، في الحكم تنبيها علي أن طاعتهم واجبة ماداموا علي العمل."

(طاعة الأمير فيما لا يخالف الشرع، النساء: 59، ج: 2، ص: 292، ط: ادارة القرآن)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144708100431

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں