بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

ادارہ کا مدرس کی تنخواہ کو چندہ کے ساتھ مشروط کرنا


سوال

اگر مدرسے کی ایک شوری ہو اور وہ فیصلہ کرے کہ اگر چندہ جمع ہو تو مدرسین کی تنخوا ہ 10 ہزار ہے اور اگر چندہ جمع نہیں ہوا تو جتنا جمع ہو خواہ  دو دو ہزار ہو یا بالکل جمع نہیں ہوا تو مدرسین کا مدرسہ پر کوئی قرض نہیں ہوگا، بلکہ  آئندہ مہینہ کا اپنا حساب ہوگا۔ مدرس مجبور ہے، اگر وہاں تدریس نہ کرے تو اور کوئی جگہ نہیں اور وہ فیصلہ سے خوش نہیں اگر چہ وہ خود اس شوری کا رکن ہے، لیکن یہ فیصلہ اس کی غیر موجودگی میں ہوا ہے ، باقی مدرسین موجود تھے، اس وقت اس نے ظاہری طور پر فیصلہ کو مانا تھا۔ 

جواب

صورتِ مسئولہ میں ادارہ کا  مدرسین کے ساتھ اس طرح معاملہ کرنا کہ  ”اگر چندہ ہوگا تو 10 ہزار تنخواہ ملے گی اور اگر  چندہ نہ ہوگا تو تنخواہ نہیں ملے گی“   تو شرعاً یہ اجارہ فاسد ہے، عقد اجارہ میں اجرت کا متعین ہونا شرعاً لازم ہے، لہذا اگر مدرسین نے اس معاہدہ کے بعد بھی ادارہ کی طرف سے مقرر کردہ کام انجام دیے ہیں تو ایسی صورت میں مدرسین اجرتِ مثلی کے حق دار ہوں گے، اور مدرسین کو اجرت مثل دینا ادارہ کے ذمہ لازم ہوگا۔

بدائع الصنائع میں ہے:

"وهو أن تكون الأجرة مالا متقوما معلوما وغير ذلك مما ذكرناه في كتاب البيوع.

والأصل في شرط العلم بالأجرة قول النبي صلى الله عليه وسلم «من استأجر أجيرا فليعلمه أجره» والعلم بالأجرة لا يحصل إلا بالإشارة والتعيين أو بالبيان وجملة الكلام فيه أن الأجر لا يخلو إما إن كان شيئا بعينه وإما إن كان بغير عينه....وإن كان بغير عينه فإن كان مما يثبت دينا في الذمة في المعاوضات المطلقة كالدراهم، والدنانير والمكيلات، والموزونات، والمعدودات المتقاربة، والثبات لا يصير معلوما إلا ببيان الجنس، والنوع من ذلك الجنس، والصفة والقدر إلا أن في الدراهم، والدنانير إذا لم يكن في البلد إلا نقد واحد لا يحتاج فيها إلى ذكر النوع، والوزن ويكتفى بذكر الجنس ويقع على نقد البلد، ووزن البلد وإن كان في البلد نقود مختلفة يقع على النقد الغالب وإن كان فيه نقود غالبة لا بد من البيان فإن لم يبين فسد العقد."

(کتاب الإجارۃ، فصل في أنواع شرائط رکن الإجارۃ، ج :4، ص:194، ط: دار الکتب العلمیة)

فتاوی ہندیہ  میں ہے:

"الباب الأول في تفسير الإجارة وركنها وألفاظها وشرائطها...(وأما شرائطها) فأنواع...وأما شرائط الصحة... ومنها أن تكون الأجرة معلومة."

(كتاب الإجارة، الباب الأول، ج:4، ص:411، ط: رشيدية)

البحر الرائق شرح كنز الدقائق  میں ہے:

"قال رَحِمَهُ اللَّهُ ( وَالْخَاصُّ يَسْتَحِقُّ الْأَجْرَ بِتَسْلِيمِ نَفْسِهِ في الْمُدَّةِ وَإِنْ لم يَعْمَلْ كَمَنْ اُسْتُؤْجِرَ شَهْرًا لِلْخِدْمَةِ أو لِرَعْيِ الْغَنَمِ ) يَعْنِي الْأَجِيرَ الْخَاصَّ يَسْتَحِقُّ الْأَجْرَ بِتَسْلِيمِ نَفْسِهِ في الْمُدَّةِ عَمِلَ أو لم يَعْمَلْ."

(باب الإجارة، ج:8، ص:51، ط: رشيدية)

فقط والله أعلم


فتویٰ نمبر : 144710101023

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں