
ادارہ چھوڑ کر جانے والے ملازمین کا سامان،مثلا استعمال شدہ کاپی، اور بچوں کے کورس کی کاپیاں ، گزشتہ سال کی کتابیں، جبکہ ان سے کوئی رابطہ نہ ہو، ادارہ کتنی مدت تک سنبھال کر رکھے، اور اس مدت کے بعدیہ اشیاء ردی میں دے سکتے ہیں؟ یا صدقہ کرسکتے ہیں؟
ادارہ چھوڑنے والے ملازمین اگر اپنا سامان جان بوجھ کر چھوڑیں تو وہ مالِ مباح کے حکم میں ہے، جس نے بھی پہلے اٹھایا وہی اس سامان کا مالک ہوگا، اور اگر یہ سامان بھولے سے رہ جائے تو اس کی حیثیت لقطہ کی ہوگی،اور لقطہ کاحکم یہ ہے وہ چیز(یعنی لاوارث کتابیں وغیرہ) قیمتی ہوں گی یا قیمتی نہیں ہوں گی ( قیمتی نہ ہونے کا مطلب یہ ہے کہ عرفاً اس کے مالک کا خاص اسے ڈھونڈنے کے لیے آنا متوقع نہیں ہے)، اگر وہ چیز قیمتی ہےتواس چیزکو اس کے مالک تک پہنچانے کے لیے اس کی حتی الوسع تشہیر کرنا لازم ہے یہاں تک کہ غالب گمان ہوجائے کہ اب اس کے مالک تک نہیں پہنچ سکتا، اگر تشہیر کے باوجود مالک کا پتہ نہ لگے تو اس کو محفوظ رکھے تاکہ مالک کے آجانے کی صورت میں مشکل پیش نہ آئےاور (حتی الوسع تشہیر کے ذرائع استعمال کرنے کے باوجود اگر مالک ملنے سے مایوسی ہوجائے تو) یہ صورت بھی جائز ہے کہ مالک ہی کی طرف سے مذکورہ چیز کسی فقیر کو صدقہ کردے، اور اگر خود زکات کا مستحق ہے تو خود بھی استعمال کرسکتاہے،البتہ صدقہ کرنے یاخود استعمال کرنے کے بعد اگر مالک آجاتاہے تواسے اپنی چیز کے مطالبے کا اختیار حاصل ہوگا، اور اگر قیمتی چیز نہ ہو تو بغیر تشہیر کے بھی صدقہ کرنے کی گنجائش ہے، اور اگر خود مستحقِ زکات ہو تو استعمال کرنے کی بھی گنجائش ہے۔
ملتقی الابحر میں ہے:
"وللملتقط أن ينتفع باللقطة بعد التعريف لو فقيرا وإن غنيا تصدق بها ولو على أبويه أو ولده أو زوجته لو فقراء وإن كانت حقيرة كالنوى وقشور الرمان والسنبل بعد الحصاد ينتفع بها بدون تعريف وللمالك أخذها ولا يجب دفع اللقطة إلى مدعيها إلا ببينة ويحل إن بين علامتها من غير جبر."
(کتاب اللقطة، ج: 1، ص: 529، ط: دارالکتب العلمیة)
بدائع الصنائع میں ہے:
"فلها أحوال مختلفة قد يكون مندوب الأخذ، وقد يكون مباح الأخذ، وقد يكون حرام الأخذ أما حالة الندب: فهو أن يخاف عليها الضيعة لو تركها فأخذها لصاحبها أفضل من تركها؛ لأنه إذا خاف عليها الضيعة كان أخذها لصاحبها إحياء لمال المسلم معنى فكان مستحبًّا -والله تعالى أعلم- وأما حالة الإباحة: فهو أن لايخاف عليها الضيعة فيأخذها لصاحبها، وهذا عندنا."
(كتاب اللقطة، فصل في بيان أحوال اللقطة، ج: 6، ص: 200، ط: دارالكتب العلمیة)
فقط والله اعلم
فتویٰ نمبر : 144711100857
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن