
1۔میرا ایک بیٹا اورتین بیٹیاں جوکہ شادی شدہ ہیں ،میری جائیداد میں ایک دکان ہے،ایک فلیٹ جس میں میں رہائش پذیر ہوں اورایک پرانی کار ہے،میں نے اپنے فلیٹ کے متعلق یہ فیصلہ کیا ہےکہ میرے مرنے کے بعداسے فروخت کرکے رقم کو پانچ حصوں میں تقسیم کرکے دو حصے بیٹے کو اورایک ،ایک حصہ ہرایک بیٹی کو دیا جا ئے،کیایہ فیصلہ شرعاًدرست ہے؟
2۔اسی طرح میں اپنی زندگی میں اپنی دوکان اپنے پانچ سالہ پوتے کے نام کرنا چاہتا ہوں؛ کیونکہ مجھے کسی نے کہا ہے کہ جائیدادکا تیسرا حصہ کسی کو بھی دیا جا سکتا ہے تودوکان پوتے کو دینا شرعاً درست ہے؟
1۔سائل کی بیوی اور والدین حیات نہ ہواور سائل کے انتقال کے وقت ایک بیٹا اور تین بیٹیاں زندہ ہیں، تو اس صورت میں سائل کا اپنی موت کے بعد مذکورہ فلیٹ پانچ حصوں میں تقسیم کرکے دو حصے اکلوتے بیٹے کے لیے اور ایک ایک حصہ ہر ایک بیٹی کے لیے مختص کرنے کا فیصلہ کرنا شرعاً درست ہو گا،پس سائل کی وفات تک اگر یہی ورثاء زندہ رہے تو وصیت کے مطابق انہیں مذکورہ مکان سے دواورایک کےتناسب سے حصہ ملے گا ۔
البتہ اگر سائل کے ورثاء میں بیوہ یا اس کے والدین بھی شامل ہوں، ان کا وراثتی حصہ نکالنے کے بعد ما بقیہ ترکہ اکلوتے بیٹے اور تین بیٹیوں میں دواور ایک کے تناسب سے تقسیم کیا جائے گا،اس صورت میں تمام ترکہ پانچ حصوں میں تقسیم کرنا درست نہیں ہوگا،اسی طرح سائل کی اولادمیں سے کسی کا انتقال اگر سائل کی زندگی میں ہوگیاتو اس صورت میں پانچ حصوں میں فلیٹ کی تقسیم درست نہیں ہوگی ۔
2۔ اگر سائل کا مقصد پوتے کے لیے دوکان کی وصیت کرنا ہو، تو سائل کی وفات کے وقت اگر مذکورہ دوکان کی مالیت سائل کےکل ترکہ کے ایک تہائی یا اس سے کم ہو، تو بعینہ مذکورہ دوکان پوتےکو دےدی جائے گی، تاہم اگر دوکان کی مالیت ترکہ کے ایک تہائی سے زائد ہو، تو فقط ترکہ کا ایک تہائی پوتےکو دیا جائے گا، جبکہ بقیہ مالیت ترکہ میں شامل کر کے تمام ورثاءمیں وراثتی حصوں کے تناسب سےتقسیم کی جائے گی ۔
اور اگر گفٹ کرنا چاہتا ہے تو اگر پوتا بالغ ہے تو اس کو چابی دے کر قبضہ دینا پڑے گا،اور اگر نابالغ ہے تو اس کےو الد کو قبضہ دینا پڑے گا۔ دونوں صورتوں میں یہ بات ملحوظ رہے کہ اس سے مقصد بیٹے کو فائدہ پہنچانا اور بیٹیوں کے حصے میں کمی کرنا مقصود نہ ہو، ورنہ یہ عمل درست نہیں ہوگا اور نا انصافی پر مبنی ہوگا۔
فتاوی ہندیہ میں ہے :
"تصح الوصية لأجنبي من غير إجازة الورثة، كذا في التبيين ولا تجوز بما زاد على الثلث إلا أن يجيزه الورثة بعد موته وهم كبار ولا معتبر بإجازتهم في حال حياته .... ولو أوصى لابن وارثه جاز."
(كتاب الوصايا، الباب الأول في تفسير الوصية، ج: 6، ص: 90، ط: رشیدية)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144707100099
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن