
کیا ذاتی رہائش کو اس میں رہتے ہوئے کسی اور کے نام پر ہائرنگ میں لگانا اور ادارے سے اس کا کرایہ لیتے رہنا جائز ہے یا ناجائز ؟اور اس طرح جو پیسے ملتے ہیں اس کا کیا حکم ہے؟
اگر سوال سے مقصود یہ ہو کہ اگر ایک شخص کو کسی ادارے کی طرف سے کرایہ دار ہونے کی شرط کے ساتھ رہائشی الاؤنس یا رینٹ ملتا ہے اور اس شخص کے پاس ذاتی مکان ہے جس کی بنا پر وہ ادارے کی پالیسی کے مطابق الاؤنس یا رینٹ کی رقم کا حق دار نہیں بنتا لیکن وہ جعلسازی کر کے ادارے سے کرایہ وصول کرتا ہے تو شرعاً ایسا کرنا دھوکہ دہی اور جھوٹ کی بناء پر جائز نہیں ہے ،اور اس طرح حاصل کی جانے والی رقم بھی جائز نہیں ہے ، ادارے کو واپس کردی جائے اور واپس کرنا ممکن نہ ہو تو ثواب کی نیت کے بغیر مستحق افراد کو دے دی جائے ۔
حاشیہ ابن عابدین میں ہے:
"والحاصل أنه إن علم أرباب الأموال وجب رده عليهم، وإلا فإن علم عين الحرام لا يحل له ويتصدق به بنية صاحبه".
(كتاب البيوع، باب البيع الفاسد، مطلب فيمن ورث مالا حراما، 5/ 99، ط: سعيد)
معارف السنن میں ہے:
"قال شیخنا: ویستفاد من کتب فقهائنا کالهدایة وغیرها: أن من ملك بملك خبیث، ولم یمكنه الرد إلى المالك، فسبیله التصدقُ علی الفقراء ... قال: و الظاهر أن المتصدق بمثله ینبغي أن ینوي به فراغ ذمته ولایرجو به المثوبة، نعم يرجوها بالعمل بأمر الشارع."
(أبواب الطهارة، باب ما جاء: لاتقبل صلاة بغیر طهور، 1/34، ط: سعيد)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144708101269
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن