
میں ایک سرکاری ادارے میں نوکری کرتا ہوں۔ ادارے کے قانون کے مطابق جس دن کوئی ملازم غیر حاضر رہتا ہے، اس دن کی تنخواہ کاٹ دی جاتی ہے۔ یہ عمومی اصول ہے کہ جس دن حاضر رہو گے ٹھیک، اور جس دن چھٹی کرو گے، تنخواہ کٹ جائے گی۔
لیکن بعض دفعہ ایسا ہوتا ہے کہ چھٹی کرنے کے باوجود غلطی سے حاضری لگ جاتی ہے۔ چونکہ سرکاری ادارہ بہت بڑے پیمانے پر ہوتا ہے، اس لیے کچھ مخصوص افراد کی ڈیوٹی یہ ہوتی ہے کہ وہ سب کی حاضری لگائیں۔ وہ پورے مہینے کی حاضری لگا کر آگے بھیج دیتے ہیں، جس کے مطابق سب کی تنخواہیں بنتی ہیں۔
بعض دفعہ وہ جان بوجھ کر اپنی طرف سے احسان کرتے ہوئے اپنے دوستوں کی حاضری لگا دیتے ہیں، یا کبھی غلطی سے کسی غیر حاضر شخص کی حاضری لگ جاتی ہے۔ بلکہ اکثر لوگ ان سے دوستی کر لیتے ہیں تاکہ چھٹی کے دن بھی حاضری لگ جائے اور تنخواہ نہ کٹے۔
میری عادت یہ ہے کہ میں روزانہ کا حساب اپنے پاس لکھ لیتا ہوں کہ کس دن گیا، کس دن نہیں گیا، کس دن جلدی آگیا یا دیر سے گیا۔ پھر جب مہینے کے آخر میں تنخواہ آتی ہے تو حساب کتاب کرنے کے بعد جو رقم حلال (یعنی میرے حقیقی کام کے بقدر) بنتی ہے، اسے الگ کر لیتا ہوں، اور جو زائد رقم ہوتی ہے اسے بھی الگ کر لیتا ہوں۔
اب کوئی ایسا ذریعہ نہیں ہے کہ یہ زائد رقم واپس کر سکوں۔ کوئی چھوٹی کمپنی نہیں کہ کمپنی کے مالک کو لوٹا دوں۔ یہ سرکاری ادارہ ہے، اور رقم واپس کرنے کا کوئی طریقہ موجود نہیں۔ اس سلسلے میں کوئی قانون بھی میرے علم میں نہیں ہے۔ بلکہ یقیناً کوئی قانون ہے بھی نہیں، کیونکہ اکثر لوگ اس رقم کو بھی بے تکلف اپنا حق سمجھ کر باقی پیسوں کی طرح استعمال کر لیتے ہیں، اور اس بارے میں سوچتے تک نہیں۔
تو سوال یہ ہے: کیا میں اس رقم کو ثواب کی نیت سے صدقہ کر سکتا ہوں؟ مثلاً مسجد، مدرسے میں دے سکتا ہوں، یا کسی غریب کو دے سکتا ہوں؟ یعنی جو بھی نفلی صدقہ کے مصارف ہیں، کیا ان میں یہ رقم دے سکتا ہوں؟ کیا اس رقم کے بارے میں وہی مسئلہ ہے جو سود کی رقم کا ہوتا ہے کہ سود کی رقم کو بغیر ثواب کی نیت کے خرچ کرنا ہوتا ہے؟
مزید وضاحت اور اپنے ہم پیشہ ساتھیوں کی تسلی کے لیے پوچھنا چاہتا ہوں (جو کسی بھی جگہ، کسی بھی صورت میں ملازمت کر رہے ہیں اور تنخواہ لیتے ہیں) تاکہ وہ بھی یہ مسئلہ سمجھیں، غور کریں، عمل کریں اور حرام سے بچیں۔ سوال یہ ہے: کیا میں درست سمجھتا ہوں کہ یہ زائد رقم (جس دن میں نہیں گیا، یا دیر سے گیا، یا جلدی واپس آگیا) میرے لیے استعمال میں لانا حرام ہے؟
واضح رہے کہ یہاں چھٹی اور تاخیر سے جانے سے مراد وہ صورت ہے جو ادارے کے قانون کے مطابق نہ ہو۔ اگر باقاعدہ اور باضابطہ چھٹی لی ہو تو وہ اس میں شامل نہیں ہے۔ اس حوالے سے ہر ادارے کے اپنے قوانین ہوتے ہیں۔
صورتِ مسئولہ میں جب کسی فرد کا تقرر کسی ادارے میں بطور ملازم ہوتا ہے، تو شرعاً اس شخص کو اجیر خاص کہلاتا ہے،ایسے فرد کے لیے ادارے کی جانب سے مقرر کردہ اوقات میں مکمل حاضر رہنا لازم ہوتا ہے، خواہ اس دوران کوئی خاص کام نہ بھی لیا جائے۔
اس بنیاد پر ادارے کے ساتھ جتنے وقت کا معاہدہ ہو ،اگر ملازم اسے پورا نہ کرے، یعنی مکمل وقت نہ دے یا غیر حاضری کرے تو جتنا وقت غیر حاضر رہا اس کے بقدر لی گئی تنخواہ ادارے کو واپس کرنا لازم ہوگی، اور وہ رقم لینا جائز نہ ہوگا۔اگر غیر حاضری کے باوجود حاضری لگا دی جائے تو یہ صریح خیانت بھی ہے۔
اور کسی دوسرے شخص کے لیے بھی یہ ہرگز جائز نہیں کہ وہ دوستی یا تعلقات کی بنا پر کسی کی جھوٹی حاضری لگائے،یا روز کی حاضری، غیر حاضری کے اہتمام کے بجاۓ مہینے کے آخر میں ملازمین کی تمام حاضریاں لگادے، ایسا کرنا ناجائز اور تعاون علی المعصیت ہے۔ اس صورت میں غیر حاضری کے بقدر حاصل ہونے والی رقم ادارے کا حق ہے جسے واپس کرنا واجب ہے۔
ورنہ ادارے کے ساتھ معاہدے کی بنیاد پر اتنے دن اس میں اضافی کام کریں یا اتنے دن چھٹی میں لگا دیں، اس طرح اُن دنوں کی رقم ادارے کو مل جائے گی اور کام کا عوض ادا ہو جائے گا۔
البتہ اگر واپسی کی کوئی صورت ممکن نہ ہو تو اس کا مصرف یہی ہے کہ کسی مستحقِ زکاۃ کو وہ رقم ثواب کی نیت کے بغیر مالک بناکر دے دی جائے۔
النتف فی الفتاوی میں ہے:
"والاجارۃ لا تخلو: اماان تقع علی وقت معلوم او عمل معلوم فان وقعت علی عمل معلوم فان وقعت علی عمل معلوم فلا تجب الاجرۃ الاباتمام العمل۔۔۔۔۔وان وقعت علی وقت معلوم فتجب الاجرۃ بمضی الوقت."
( کتاب الاجارۃ، معلومیۃ الوقت والعمل،ج:2، ص:559، ط: مؤسسة الرسالة - بيروت)
وفیہ أیضا:
واما اذا كَانَ مسكوتا عَنْهَا فانها تكون على أَرْبَعَة أوجه
احدها ان تكون الاجارة وَاقعَة على الْمسير فمقدار مَا سَار وَجَبت الاجرة
وَالثَّانِي ان تكون الاجارة وَاقعَة على الْوَقْت فبمقدار مَا يمْضِي من لوقت تجب الاجرة
وَالثَّالِث ان تكون وَاقعَة على عمل يصلح اوله دون آخِره فَيجب لَهُ من الاجرة بِمِقْدَار مَا عمل
وَالرَّابِع ان تكون وَاقعَة على عمل لَا يصلح اوله دون آخِره وَلَا ينْتَفع من أَوله بِدُونِ آخِره فانه لَا يجب لَهُ الاجر حَتَّى يتم الْعَمَل ويفرغ مِنْهُ
(انواع الْأجْرة، الْأجْرة الْمسْكوت عنْها، ج:2، ص: 564، ط:مؤسسة الرسالة - بيروت)
فتاوی شامی میں ہے:
"(والثاني) وهو الأجير (الخاص) ويسمى أجير وحد (وهو من يعمل لواحد عملا مؤقتا بالتخصيص ويستحق الأجر بتسليم نفسه في المدة۔۔۔وليس للخاص أن يعمل لغيره، ولو عمل نقص من أجرته بقدر ما عمل فتاوى النوازل."
’’قولہ: (ولیس للخاص ان یعمل لغیرہ) بل ولا ان یصلي النافلۃ: قال في التاتارخانیۃ: وفي فتاویٰ الفضلي: وإذا استاجر رجلا یوما یعمل کذا فعلیہ ان یعمل ذلک العمل الی تمام المدۃ؛ ولا یشتغل بشئ آخر سوی المکتوبۃ..... قال في التاتارخانیۃ: نجار استؤجر إلی اللیل فعمل الآخر دواۃ بدرھم وھو یعلم فھو آثم وإن لم یعلم فلا شيئ علیہ وینقص من اجر النجار بقدر ما عمل في الدواۃ‘‘.
(كتاب الأجرة، باب ضمان الأجير، ج:6 ، ص:69-70، ط:سعید)
وفیہ أیضا:
"(وإذا شرط عمله بنفسه) بأن يقول له اعمل بنفسك أو بيدك (لا يستعمل غيره إلا الظئر فلها استعمال غيرها) بشرط وغيره خلاصة (وإن أطلق كان له) أي للأجير أن يستأجر غيره، أفاد بالاستئجار أنه لو دفع لأجنبي ضمن الأول
(قوله: بأن يقول له اعمل بنفسك أو بيدك) هذا ظاهر إطلاق المتون وعليه الشروح، فما في البحر والمنح عن الخلاصة من زيادة قوله ولا تعمل بيد غيرك فالظاهر أنه لزيادة التأكيد لا قيد احترازي ليكون بدونه من الإطلاق تأمل.
(قوله: لايستعمل غيره) ولو غلامه أو أجيره قهستاني؛ لأن عليه العمل من محل معين فلا يقوم غيره مقامه كما إذا كان المعقود عليه المنفعة، بأن استأجر رجلا شهرا للخدمة لا يقوم غيره مقامه؛ لأنه استيفاء للمنفعة بلا عقد زيلعي.
قال في العناية: وفيه تأمل،؛ لأنه إن خالفه إلى خير بأن استعمل من هو أصنع منه أو سلم دابة أقوى من ذلك ينبغي أن يجوز اهـ وأجاب السائحاني بأن ما يختلف بالمستعمل فإن التقييد فيه مفيد وما ذكر من هذا القبيل اهـ.
وفي الخانية: لو دفع إلى غلامه أو تلميذه لا يجب الأجر اهـ.
وظاهر هذا مع التعليل المار أنه ليس المراد بعدم الاستعمال حرمة الدفع مع صحة الإجارة واستحقاق المسمى أو مع فسادها واستحقاق أجر المثل وأنه ليس للثاني على رب المتاع شيء لعدم العقد بينهما أصلا وهل له على الدافع أجر المثل؟ محل تردد فليراجع. (قوله: بشرط وغيره) لكن سيذكر الشارح في الإجارة الفاسدة عن الشرنبلالية أنها لو دفعته إلى خادمتها أو استأجرت من أرضعته لها الأجر إلا إذا شرط إرضاعها على الأصح، وكأن وجه ما هنا أن الإنسان عرضة للعوارض فربما يتعذر عليها إرضاع الصبي فيتضرر فكان الشرط لغوا تأمل (قوله وإن أطلق) بأن لم يقيده بيده وقال خط هذا الثوب لي أو اصبغه بدرهم مثلا؛ لأنه بالإطلاق رضي بوجود عمل غيره قهستاني."
( كتاب الاجارة، شروط الاجارة، ج:6، ص:18، ط: دار الفكر)
معارف السنن میں ہے:
"قال شیخنا: ویستفاد من کتب فقهائنا کالهدایة وغیرہا: أن من ملک بملک خبیث، ولم یمکنه الرد إلی المالک، فسبیله التصدقُ علی الفقراء … قال: إن المتصدق بمثله ینبغي أن ینوي به فراغ ذمته، ولا یرجو به المثوبة."
(كتاب الطهارة، باب ما جاء لا تقبل صلاۃ بغیر طھور، ج: 1، ص: 34، ط: سعید)
فتاویٰ محمودیہ میں ہے:
"جس قدر مال بطریق حرام کمایا ، اس کی واپسی لازم ہے، اگر وہ شخص موجود نہ ہو جس سے مثلا مال حرام( مثلا رشوت یا غصب ) لیا ہو، مر گیا ہو تو اس کے ورثاء کو دیا جائے ۔ ورثاء بھی موجود نہ ہوں، یا کوشش کے باوجود ان کا علم نہ ہو سکے تو غر یوں محتاجوں کو صدقہ کر دیا جاۓ ، لیکن اس مال کے ذریعہ دوسرا حلال مال کمایا گیا تو اس کو حرام نہیں کیا جائے گا۔کذا فی رد المحتار۔"
(کتاب الحظر و الاباحۃ، باب المال الحرام و مصرفہ، ج:18، ص:408، ط:ادارہ الفاروق کراچی)
الاختیار لتعلیل المختار میں ہے:
"والملك الخبيث سبيله التصدق به، ولو صرفه في حاجة نفسه جاز. ثم إن كان غنيا تصدق بمثله، وإن كان فقيرا لا يتصدق."
(كتاب الغصب، ج:3، ص:61، ط: دارالفكر)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144710100485
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن