بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

25 محرم 1448ھ 11 جولائی 2026 ء

دارالافتاء

 

ابن مبارک رحمہ اللہ کے مقولہ ’’جس نے علما کی توہین کی اس کی آخرت برباد ہوئی، اور جس نے امراء و حکام کی اہانت کی اس کی دنیا تباہ ہوئی... إلخ کا حوالہ


سوال

 جس نے علما کی توہین کی اس کی آخرت برباد ہوئی، اور جس نے امراء و حکام کی اہانت کی اس کی دنیا تباہ ہوئی ،اور جس نے دوستوں کی تحقیر کی  اس کی مروت فنا ہوئی۔

کیا یہ امام ابن المبارک رحمہ اللّٰہ کا قول ہے ؟رہنمائی فرمائیں۔

جواب

مذکورہ قول ابن مبارک رحمہ اللہ سے حافظ ابن عساکر  رحمہ اللہ  (المتوفى: 571ھ) نے اپنی سند کے ساتھ نقل فرمایا ہے، ان کی عبارت ملاحظہ فرمائیں: 

" أخبرنا أبو سعيد محمد بن إبراهيم بن أحمد، أنا محمد بن إسماعيل، أنا أبو عبد الرحمن، قال: سمعت أحمد بن سعيد المعداني، يقول: سمعت أحمد بن علي، يحكي عن ابن المبارك، قال: من استخف بالعلماء ذهبت آخرته، ومن استخف بالأمراء ذهبت دنياه، ومن استخف بالإخوان ذهبت مروءته."

(تاريخ دمشق، حرف الميم  في أسماء آباء العبادلة، (32/ 444)، ط/ دار الفكر)

اور اسی قول كو علامہ ذهبی رحمہ الله نے بھی  مُحَمَّدُ بنُ الحُسَيْنِ بنِ مُحَمَّدِ بنِ مُوْسَى السُّلَمِي کےتذکرہ میں  ان کی سند کے ساتھ نقل فرمایا ہے ،ان کی عبارت ملاحظہ فرمائیں:

" السُّلَمِيّ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بنُ العَبَّاسِ الضَّبِّيّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بنُ أَبِي عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا الفَضْلُ بنُ مُحَمَّدِ بنِ نعيم، سَمِعْتُ عَلِيَّ بنَ حُجْرٍ، سَمِعْتُ أَبَا حَاتِمٍ الفَرَاهيجِي، سَمِعْتُ فَضَالَة النَّسَوِيَّ، سَمِعْتُ ابْنَ المُبَارَك يَقُوْلُ: حقٌّ عَلَى العَاقِلِ أَنْ لاَ يَسْتَخفَّ بِثَلاَثَةٍ: العُلَمَاءِ وَالسَّلاَطِيْنِ وَالإِخْوَانِ، فَإِنَّهُ مَنِ اسْتَخَفَّ بِالعُلَمَاءِ ذَهَبَتْ آخِرَتُهُ، وَمَنِ اسْتَخَفَّ بِالسُّلْطَانِ ذَهَبَتْ دُنيَاهُ، وَمَنِ اسْتَخَفَّ بِالإِخْوَانِ ذَهَبَتْ مُرُوءتُهُ. "

(سير أعلام النبلاء، الطبقة الثانية والعشرون، السُّلَمِيُّ مُحَمَّدُ بنُ الحُسَيْنِ بنِ مُحَمَّدِ بنِ مُوْسَى، (17/ 250)، رقم الترجمة(152)، ط/ مؤسسة الرسالة)

فقط والله اعلم 


فتویٰ نمبر : 144503100014

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں