
شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ کے عقائد و نظریات کے بارے میں مختلف حلقوں میں بحث مباحثہ جاری ہے۔
بعض حضرات ان کو اہل سنت و الجماعت میں سے شمار کرتے ہیں ، جب کہ بعض حضرات ان پر کفر اور گمراہی کے فتوی بھی عائد کرتے ہیں۔ اس سلسلہ میں گزارش ہے کہ اکابر علماء دیوبند کا شیخ الاسلام ابن تیمیہ کے بارے میں متوازن اور مستند موقف کیا ہے؟
کیا اکابر دیوبند میں سے کسی نے انہیں صراحتًا گمراہ یا اہل سنت سے خارج قرار دیا ہے؟
براہ کرم راہنمائی فرمائیں۔
شیخ الاسلام علامہ ابن تیمیہ رحمہ اللہ ایک بلند پایہ محقق فقیہ و محدث تھے، بعض مسائل میں انہوں نے جمہور فقہاء ومحدثین اور علمائے امت سے اختلاف کیا ہے، لیکن اس کے باوجود اکابرِ دیوبند میں سے کسی نے نہ تو انہیں گمراہ قرار دیا ہے اور نہ ہی اہلِ سنت و الجماعت سے خارج قرار دیا ہے۔
ان کے مفصل حالات کے لیے علامہ ابوزہرہ کی کتاب " ابن تیمیہ " (عربی/ اردو ترجمہ) اور تاریخِ دعوت و عزیمت از مولانا سید ابو الحسن علی ندوی جلد دوم کا مطالعہ کرلیجیے۔
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144709100149
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن