بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

5 محرم 1448ھ 21 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

علامہ ابن تیمیہ رحمہ اللہ کے متعلق اکابر کا موقف


سوال

شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ کے عقائد و نظریات کے بارے میں مختلف حلقوں میں بحث مباحثہ جاری ہے۔

بعض حضرات ان کو اہل سنت و الجماعت میں سے شمار کرتے ہیں ، جب کہ بعض حضرات ان پر کفر اور گمراہی کے فتوی بھی عائد کرتے ہیں۔ اس سلسلہ میں گزارش ہے کہ اکابر علماء دیوبند کا شیخ الاسلام ابن تیمیہ کے بارے میں متوازن اور مستند موقف کیا ہے؟

کیا اکابر دیوبند میں سے کسی نے انہیں صراحتًا  گمراہ یا اہل سنت سے خارج قرار دیا ہے؟

براہ کرم راہنمائی فرمائیں۔

جواب

شیخ الاسلام علامہ ابن تیمیہ رحمہ اللہ   ایک بلند  پایہ محقق فقیہ و محدث تھے، بعض مسائل میں انہوں نے جمہور فقہاء ومحدثین اور علمائے امت سے اختلاف کیا ہے،  لیکن اس کے باوجود  اکابرِ دیوبند میں سے کسی نے  نہ تو  انہیں گمراہ قرار دیا ہے اور نہ ہی اہلِ سنت و الجماعت سے خارج قرار دیا ہے۔ 

ان کے مفصل حالات  کے لیے علامہ ابوزہرہ  کی کتاب " ابن تیمیہ "   (عربی/ اردو ترجمہ) اور تاریخِ دعوت و عزیمت  از مولانا سید ابو الحسن علی ندوی  جلد  دوم کا مطالعہ کرلیجیے۔

 فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144709100149

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں