بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

18 ذو الحجة 1447ھ 04 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

عبادات میں فساد اور بطلان کا ایک ہی معنی ہے


سوال

ایک ہے نماز کا باطل ہونا اور ایک ہے نماز کا فاسد ہونا،  ان میں فرق کیا ہے؟ نماز کب باطل ہوتی اور کب فاسد ہوتی ہے؟

جواب

واضح رہے کہ عبادات میں فاسد اور باطل ایک ہی معنی میں استعمال ہوتے ہیں البتہ معاملات میں فاسد اور باطل ہونے میں فرق ہوتا ہے لہذا صورت مسئولہ میں نماز کا تعلق چونکہ عبادات سے ہے لہذا نماز کے فاسد اور باطل ہونے کا ایک ہی معنی ہے، دونوں میں فرق نہیں ہے۔

فتاوی شامی میں ہے:

«قوله( لا تفسد بتركها) أشار به إلى الرد على القهستاني حيث قال: تفسد ولا تبطل اهـ. قال الحموي في شرح الكنز: والفرق بينهما أن الفاسد ما فات عنه وصف مرغوب، والباطل ما فات عنه شرط أو ركن. وقد يطلق الفاسد بمعنى الباطل مجازا. اهـ. ووجه الرد أن أئمتنا لم يفرقوا ‌في ‌العبادات ‌بينهما وإنما فرقوا في المعاملات ح»

(كتاب الصلاة، واجبات الصلاة، ج1، ص456، الحلبي)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144504100317

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں