
بندہ کئی سالوں سے رمضان المبارک کے آخری عشرے میں مسجد نبوی میں اعتکاف کرتارہا تھا، پچھلے سال بندہ کے لئے اعتکاف کی اجازت لینا تقریباً ناممکن تھا ،اس لئے وہاں کے ایک مقیم نے اپنے نام پر رجسٹرڈ کیا پھر اس کی جگہ بندہ اعتکاف میں بیٹھ گیا ، چونکہ رجسٹر کی ہوئی تصویر اور بندہ کی شکل وصورت میں فرق تھا اس لئے کچھ دشواری تو ہوئی لیکن بالآخر انتظامیہ نے اعتکاف کرنے کی اجازت دے دی۔
امسال ایسا ہوا کہ وہاں کے مقیم نے اپنے نام پر رجسٹرڈ کیا لیکن تصویر بندہ کی لگادی ، لیکن بندہ کی ایپلیکیشن رجیکٹ ہوگئی، بندہ کے ساتھ ایک ساتھی نے بھی اپنے لئے رجسٹرڈ کیا جو منظور ہوگیا ، لیکن اس کو حرمین شریفین کی حاضری کا موقع نہیں ملا ، اس لئے اس کا اجازت نامہ لے کر بندہ اعتکاف میں بیٹھ گیا ، پھر تصویر اور شکل ملتی نہ تھی اس لئے جھوٹ بولنا پڑا ،بالآخر بندہ کو اعتکاف کی اجازت مل گئی۔
چونکہ کئی سالوں سے بندہ اس اعتکاف کا اہتمام کررہا تھا ، اس لئے ان مسائل میں بندہ نے ایک مفتی سے رابطہ کیا ، ان مفتی صاحب نے بتایا کہ ایک عظیم عبادت کے لئے اس طرح کرنے کی گنجائش ہے، لیکن بندہ کے ایک مخلص نے بندہ کو اس کی طرف توجہ دلائی کہ یہ دھوکہ ہے، اب دل میں عجیب سی کیفیت پیدا ہوگئی ہے۔
اس لئے سوال یہ ہے کہ :
بندہ کا اس طرح اعتکاف کرنا صحیح تھا یا غلط؟ بندہ یہ سمجھتا رہا کہ کسی کو تکلیف دینے کے لئے دھوکہ دینا گناہ ہے، اس میں کسی کو تکلیف نہیں بس ایک کی جگہ دوسرا اعتکاف میں چلاگیا، اس لئے اس کی گنجائش ہوگی، بندہ کا یہ خیال صحیح تھا یا غلط؟
جب تک استطاعت ہے بندہ کا ارادہ مسجد نبوی میں اعتکاف کرنے کا ہے ،اس لئے اگلے سالوں میں بندہ کو کیا کرنا چاہئے؟
1۔ صورتِ مسئولہ میں اعتکاف درست ہے،البتہ جھوٹ بولنے کا گناہ ہوگا،اس لئے توبہ استغفار کرے۔
آئندہ سالوں میں پہلے ہی کوشش کرکے اپنے لیے قانونی طور پر اجازت نامہ حاصل کیا جائے ، اگر اجازت نامہ مل جائے تو مسنون اعتکاف کرلیں ، اور اگر اجازت نامہ نہ مل سکے اور اپنے طور پر بھی مسنون اعتکاف کرنا ممکن نہ ہو تو نفلی اعتکاف کرلیا جائے ۔
شرح مختصر الطحاوی میں ہے:
" قال: (ويجوز الاعتكاف في كل مسجد له إمام ومؤذن، كان مسجد جماعة أو لم يكن).
قال أبو بكر أحمد: يعني بقوله: مسجد جماعة: مسجد الجامع؛ لأن كل مسجد له إمام ومؤذن، فهو مسجد جماعة.ويجوز الاعتكاف فيه، لقول الله تعالى: {ولا تباشروهن وأنتم عاكفون في المساجد}، فعم المساجد كلها، وأجاز الاعتكاف فيها.وقد روى أبو وائل أن حذيفة قال لعبد الله بن مسعود رضي الله عنه:"إن قومًا عكفوا بين دارك ودار أبي موسى، وأنت لا تغير؟! وقد علمت أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: "لا اعتكاف إلا في المساجد الثلاثة: المسجد الحرام، ومسجدي هذا، والمسجد الأقصى "
(باب الاعتكاف،ج:2، ص:470، ط:دار البشائر الإسلامية)
الكتاب الأصل میں ہے:
"ولو اعتكف الرجل في المسجد الحرام في اعتكاف واجب فذلك أفضل من اعتكافه في غيره وكذلك مسجد رسول الله صلى الله عليه وسلم فهو أفضل من الاعتكاف فيما سواه إلا المسجد الحرام وكل ما عظم من المساجد وكثر أهله فهو أفضل ومسجد الجامع أفضل مما سواه من المساجد بعد المسجد الحرام ومسجد رسول الله صلى الله عليه وسلم إلا ما كان مثله من مساجد الجماعة ما خلا هذين المسجدين"
(باب الاعتكاف،ج:2، ص:283، ط:إدارة القرآن والعلوم الإسلامية)
البحر الرائق میں ہے:
"(قوله: وأقله نفلا ساعة) لقول محمد في الأصل إذا دخل المسجد بنية الاعتكاف فهو معتكف ما أقام تارك له إذا خرج فكان ظاهر الرواية واستنبط المشايخ منه أن الصوم ليس من شرطه على ظاهر الرواية؛ لأن مبنى النفل على المسامحة حتى جازت صلاته قاعدا، أو راكبا مع قدرته على الركوب والنزول ونظر فيه المحقق في فتح القدير بأنه لا يمتنع عند العقل القول بصحة اعتكاف ساعة مع اشتراط الصوم له وإن كان الصوم لا يكون أقل من يوم وحاصله أن من أراد أن يعتكف فليصم سواء كان يريد اعتكاف يوم، أو دونه ولا مانع من اعتبار شرط يكون أطول من مشروطه ومن ادعاه فهو بلا دليل فهذا الاستنباط غير صحيح بلا موجب فالاعتكاف لايقدر شرعًا بكمية لاتصح دونها كالصوم بل كل جزء منه لايفتقر في كونه عبادة إلى الجزء الآخر ولم يستلزم تقدير شرطه تقديره. اهـ."
(ج:2، ص:323، ط:دار الكتاب الإسلامي)
فتاوی شامی میں ہے:
"واعلم أن الكذب قد يباح وقد يجب والضابط فيه كما في تبيين المحارم وغيره عن الإحياء أن كل مقصود محمود يمكن التوصل إليه بالصدق والكذب جميعا، فالكذب فيه حرام، وإن أمكن التوصل إليه بالكذب وحده فمباح إن أبيح تحصيل ذلك المقصود، وواجب إن وجب تحصيله."
(فصل في البيع، ج:6، ص:427، ط:سعید)
فقط والله أعلم
فتویٰ نمبر : 144710101701
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن