بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بیٹھنے کے انداز


سوال

آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کن کن انداز میں بیٹھتے تھے؟

جواب

مختلف احادیث میں چار انداز سے  حضورِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بیٹھنے کا طریقہ مروی ہے، جس کی تفصیل درجِ ذیل ہے:

1: احتباء :

گوٹھ مار کر بیٹھنا، یعنی کسی کپڑے یا ہاتھوں سے اپنے پاؤں اور پیٹ کو ملا کر کمر سے جکڑ لینا، احتباء کاذکر درجِ ذیل روایت میں ہے:

"عن أبي هريرة قال : ما رأيت حسنا قط إلا فاضت عيناي دموعا ، وذلك أن النبي صلى الله عليه وسلم خرج يوما ، فوجدني في المسجد ، فأخذ بيدي ، فانطلقت معه ، فما كلمني حتى جئنا سوق بني قينقاع ، فطاف فيه ونظر ، ثم انصرف وأنا معه ، حتى جئنا المسجد ، فجلس فاحتبى  ثم قال : « أين لكاع ؟ ادع لي لكاعا » ، فجاء حسن يشتد فوقع في حجره ، ثم أدخل يده في لحيته ، ثم جعل النبي صلى الله عليه وسلم يفتح فاه فيدخل فاه في فيه ، ثم قال : « اللهم إني أحبه ، فأحببه ، وأحب من يحبه »".

(الادب المفرد للبخاری، باب الاحتباء، رقم الحدیث:1183، ص:559، ط:دارالصدق للنشر)

ترجمہ:سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: میں جب بھی سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کو دیکھتا ہوں میری آنکھوں سے آنسوں چھلک پڑتے ہیں۔ اور اس کی وجہ یہ ہے کہ ایک دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم گھر سے نکلے تو مجھے مسجد میں دیکھا اور میرا ہاتھ پکڑ لیا اور میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ چل پڑا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے ساتھ کوئی بات نہ کی یہاں تک کہ ہم بنو قینقاع کے بازار میں آگئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا چکر لگایا اور صورت حال کا جائزہ لیا۔ پھر واپس ہوئے اور میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہی تھا، یہاں تک کہ ہم مسجد میں آگئے۔ پھر گوٹ مار کر بیٹھ گئے اور فرمایا: ”منّا کہاں ہے؟ منے کو میرے پاس لاو۔“ چنانچہ سیدنا حسن رضی اللہ عنہ دوڑتے ہوئے آئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی گود میں گر گئے، پھر اپنا ہاتھ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی داڑھی میں داخل کر لیا۔ پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنا منہ مبارک کھولتے اور سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کے منہ میں داخل کر دیتے۔ پھر فرمایا: ”اے اللہ! میں اس سے محبت کرتا ہوں، تو بھی اس سے محبت فرما اور جو اس سے محبت کرے اس سے بھی محبت فرما۔

2: تربع: 

تربع یعنی چار زانو ہو کر بیٹھنے کو کہتے ہیں۔ جسے ہم چوکڑی مار کر بیٹھنا بھی کہتے ہیں، تربع کا ذکر درجِ ذیل روایت میں ہے:

"عن حنظلة بن حذيم قال: " أتيت النبي صلى الله عليه وسلم فرأيته جالسا متربعا".

(الادب المفرد للبخاری، باب التربع، رقم الحدیث:1179، ص:559، ط:دارالصدق للنشر)

ترجمہ: حضرت حنظلہ ابن حزیم رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی ہے: کہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا تو حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو تربع کی حالت میں بیٹھتے ہوئے دیکھا۔

3: قرفصاء:

اور بیٹھنے کا تیسرا انداز قرفصاء ہے، یعنی آدمی اپنے پاؤں پر بیٹھا اور رانوں کو پنڈلیوں سے ملا دیا، اس انداز کا ذکر درجِ ذیل روایت میں ہے:

"عن قيلة قالت: "رأيت النبي صلى الله عليه وسلم قاعدا القرفصاء، فلما رأيت النبي صلى الله عليه وسلم المتخشع في الجلسة، أرعدت؛ من الفرق".

(الادب المفرد للبخاری، باب القرفصاء، رقم الحدیث:1178، ص:558، ط:دارالصدق للنشر)

ترجمہ: حضرت قیلہ فرماتی ہیں: کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا قرفصا کی حالت میں ، تو جب میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بیٹھنے میں عاجزی کرنے والا پایا، تو میں خوف سے لرز گئی۔

 4:اقعاء:

بیٹھنے کی چوتھی شکل ہے اقعاء ہے، اور اقعاء بھی دو طرح کا ہے، ایک اقعاء وہ ہے جو کہ ممنوع ہے،  اور یہ ہے کہ آدمی اپنی سرین زمین پر لگا دے اور دونوں رانوں نیز پنڈلیوں کو کھڑا کرے اور دونوں ہاتھ زمین پر رکھے، یہ اقعاء نماز میں ممنوع ہے، بلکہ اسے کتے کے بیٹھنے کا انداز کہا گیا ہے، جیسے کہ مروی ہے:

"عن أبي هريرة، قال: أمرني رسول الله صلى الله عليه وسلم بثلاث، ونهاني عن ثلاث: " أمرني بركعتي الضحى كل يوم، والوتر قبل النوم، وصيام ثلاثة أيام من كل شهر، ونهاني عن نقرة كنقرة الديك، وإقعاء كإقعاء الكلب، والتفات كالتفات الثعلب " .

(مسند احمد بن حنبل، مسند أبي هريرة رضي الله عنه، رقم الحدیث:8106، ج:13، ص:468، ط:مؤسسۃ الرسالۃ)

ترجمہ: حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں منع فرمایا مرغیوں کی طرح چونچ مارنے سے اور کتے کی طرح بیٹھنے سے اور لومڑی کی طرح ادھر ادھر دیکھنے سے۔

جب کہ اس اقعاء کی دوسری شکل یہ ہے کہ پاؤں کے پائنچے زمین پر ہوں، اور پاؤں کھڑے ہوں، اور آدمی اپنی پاؤں کی ایڑیوں پر سرین رکھ کر بیٹھے۔ دو سجدوں کے درمیان والے جلسے میں اور عام حالت میں اس طرح بیٹھنا بھی حضوراکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہے، جیسے کہ درج ذیل روایت میں مروی ہے:

" أخبرني أبو الزبير، أنه سمع طاوسا يقول: قلنا لابن عباس في الإقعاء على القدمين، فقال: «هي السنة»، فقلنا له: إنا لنراه جفاء بالرجل فقال ابن عباس: «بل هي سنة نبيك صلى الله عليه وسلم»".

(صحیح مسلم، کتاب الصلوۃ، باب جواز الإقعاء على العقبين، رقم الحدیث:32، ج:1، ص:380، ط:داراحیاء التراث العربی)

ہمیں ابو زبیر نے خبر دی کہ انہوں نے حضرت طاؤس سے سنا یہ کہتے ہوئے کہ ہم نےہم نے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنھما سے اقعاء (پیروں پر بیٹھنے) کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا: یہ سنت ہے۔ ہم نے کہا کہ یہ تو انسان کے لیے مشکل معلوم ہوتا ہے۔ عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے جواب دیا: یہ تمہارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت ہے۔”

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144703102120

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں