بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

18 ذو الحجة 1447ھ 04 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

حصول علم کی فضیلت اور روزی کمانے کی شرعی حیثیت


سوال

میرا سوال یہ ہے کہ ایک شخص دینی تعلیم حاصل کر رہا ہے اور اس کی شادی بھی ہوئی ہے۔ اب یہ شخص پڑھائی چھوڑنا چاہ رہا ہے، کام کرنا چاہتا ہے بیوی بچوں کے خرچے کے لئے، لیکن اس کا والد  کہہ رہا ہے کہ آپ پڑھائی نہ چھوڑیں، میں آپ کو ماہانہ خرچہ دوں گا۔ لیکن جو خرچہ والد دے رہا ہے اس سے گزارہ نہیں ہوسکتا اس شخص کا، اب اگر یہ شخص پڑھائی چھوڑ کر کام شروع کرے ،اوروالد  ناراض ہوجائےتو کیا یہ شخص گناہ گار ہوگا یا نہیں؟ دوسری بات یہ ہے کہ کیا یہ صحیح ہے کہ بندہ اتنا علم حاصل کرے کہ وہ حلال حرام کو سمجھے (تین درجہ مکمل کرکے) اور پھر پورا عالم نہ بنے بلکہ وہ اپنی روزی تلاش کرے؟

 

جواب

طالب علمی کا زمانہ بلاشبہ آزمائشوں اور مشقتوں کا دور ہوتا ہے، لیکن جیسا کہ آپ بخوبی جانتے ہیں، اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے طالب علم کو بہت بلند مقام اور عظیم فضیلت عطا فرمائی ہے۔ زندگی کا ایک اہم سبق یہ ہے کہ وہ چیز جو محنت اور صبر سے حاصل کی جائے، اس کی قدر و قیمت ان چیزوں سے کہیں بڑھ کر ہوتی ہے جو بغیر مشقت کے حاصل ہو جائیں۔ اور یہ حقیقت بھی ہمیشہ ذہن میں رہنی چاہیے کہ علم دین حاصل کرنے کی توفیق ہر کسی کو نہیں ملتی، بلکہ جیسا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
"جس کے ساتھ اللہ تعالیٰ بھلائی کا ارادہ فرماتا ہے، اسے دین کی سمجھ عطا فرماتا ہے۔" لہٰذا جب والد کی طرف سے حوصلہ مل رہا ہے کہ آپ اپنی تعلیم مکمل کرو، پڑھائی نہ چھوڑو، خرچہ میں اٹھاؤں گا تو یہ بہت بڑا سہارا ہے، لہذا اگر آپ اس وقت اپنی ضروریاتِ زندگی پر صبر و قناعت اختیار کرتے ہیں، تو ان شاء اللہ تعالیٰ اس قربانی کے مثبت نتائج آپ کو دنیا و آخرت دونوں میں ضرور حاصل ہوں گے۔ البتہ، اگر حالات واقعی بہت زیادہ دشوار ہو جائیں اور برداشت سے باہر ہوں، تو ایسی صورت میں اگر آپ ضروری دینی تعلیم حاصل کرنے کے بعد اپنے خاندان کی کفالت کے لیے روزی کمانے میں مشغول ہو جائیں ، تو یہ بھی شرعا جائز ہوگا۔

مشکاۃ المصابیح میں ہے:

" وعن أنس بن مالك قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «‌طلب ‌العلم ‌فريضة على كل مسلم."

(مشكاة المصابيح, كتاب العلم, ج: 1, ص: 76, الرقم: 218, ط: المكتب الإسلامي - بيروت)

فتح القدیر میں ہے:

"قال (النفقة واجبة للزوجة على زوجها مسلمة كانت أو كافرة إذا سلمت نفسها إلى منزله فعليه نفقتها وكسوتها وسكناها)."

(فتح القدير, باب النفقة, ج: 4, ص: 378, ط: دار الفكر - بيروت)

سنن ترمذی میں ہے:

"عن أبي هريرة، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: من ‌سلك طريقا يلتمس فيه علما، سهل الله له طريقا إلى الجنة."

(سنن الترمذي, باب فضل طلب العلم, ج: 4, ص: 589, الرقم: 2837, ط: دار الرسالة العالمية)

مشکاۃ المصابیح میں ہے:

"وعن معاوية قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: من يرد الله به خيرا يفقهه في الدين وإنما أنا قاسم والله يعطي."

(مشكاة المصابيح, كتاب العلم, ج: 1, ص: 70, الرقم: 300, ط: المكتب الإسلامي - بيروت)

فقط والله أعلم


فتویٰ نمبر : 144611100518

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں