بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

18 ذو الحجة 1447ھ 04 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

حرمت مصاہرت کے باب میں امام شافعی رحمہ اللہ کے مذہب پر عمل کرنا


سوال

 میں نے سنا ہے کہ حرام کو حلال سمجھ کر کرنے سے بندہ کافر ہو جاتا ہے، مثلاً زید حنفی ہے اور اس کی کسی عورت کے ساتھ حرمت مصاہرت ثابت ہو چکی ہے، تو اس نے امام شافعی رحمہ اللہ کے فقہ پر عمل کرکے اس عورت کی بیٹی سے شادی کر لی، جبکہ ہم چاروں علماء کو اہل سنت والجماعت اور اہل حق سمجھتے ہیں، اب کیا یہ بندہ کافر ہو جائے گا؟ جیسا کہ اوپر بیان ہوا ہے کہ حرام کو حلال سمجھ کر کرنے سے کافر ہو جاتا ہے ۔

جواب

جو شخص کسی ایسی چیز کو حلال سمجھ لے جس پر شریعت میں قطعی حرمت کا حکم ہو، وہ کافر ہوجاتا ہے، بشرط یہ کہ وہ حرمت قطعی الدلالہ اور قطعی الثبوت ہو۔ مثلاً اگر کوئی یہ کہے کہ زنا یا شراب حلال ہے تو وہ کافر ہوجائے گا، کیونکہ وہ ایسی چیز کو حلال سمجھ رہا ہے جس کی حرمت پر قطعی دلیل موجود ہے۔

لیکن صورتِ مسئولہ میں اگر زید حنفی ہے، مگر اس نے نکاح شافعی فقہ کے مطابق کیا، اور یہ مسئلہ حرمتِ مصاہرت (یعنی سسرالی رشتوں سے نکاح کی حرمت) سے متعلق ہے، تو اس معاملے میں فقہائے احناف اور فقہائے شوافع کے درمیان اجتہادی اختلاف پایا جاتا ہے۔ یعنی بعض صورتوں میں احناف حرمتِ مصاہرت کو ثابت سمجھتے ہیں، جبکہ شوافع اس خاص صورت میں حرمت ثابت نہیں سمجھتے۔ یہ ایک اجتہادی (ظنی) مسئلہ ہے، قطعی حرمت والا نہیں۔لہٰذا اگر زید نے امام شافعیؒ کے مسلک پر عمل کیا، اور اس نیت سے کیا کہ یہ شریعت میں جائز ہے، کیونکہ امام شافعیؒ نے اس کی اجازت دی ہے، اور وہ دونوں ائمہ کو اہلِ حق اور اہلِ سنت مانتا ہے، تو ایسی صورت میں وہ کافر نہیں ہوگا، کیونکہ اس نے کسی قطعی حرام چیز کو حلال نہیں سمجھا، بلکہ اجتہادی اختلاف کے دائرے میں عمل کیا ہے۔

البتہ خواہشِ نفس یا آسانی (رخصت) کی تلاش میں دوسرے مذہب کی رائے پر عمل کرنا جائز نہیں۔حرمتِ مصاہرت ثابت ہونے کے باوجود محرمہ سے شادی کرنا نہ تو حالتِ اضطراری میں شمار ہے اور نہ ہی شدید مجبوری میں آتا ہے، بلکہ حرام ہے۔

فتاوی شامی  میں ہے:

"مطلب استحلال المعصية القطعية كفر لكن في شرح العقائد النسفية: استحلال المعصية كفر إذا ثبت كونها معصية بدليل قطعي، وعلى هذا تفرع ما ذكر في الفتاوى من أنه إذا اعتقد الحرام حلالا، فإن كان حرمته لعينه وقد ثبت بدليل قطعي يكفر وإلا فلا بأن تكون حرمته لغيره أو ثبت بدليل ظني. وبعضهم لم يفرق بين الحرام لعينه ولغيره وقال من استحل حراما قد علم في دين النبي - عليه الصلاة والسلام - تحريمه كنكاح المحارم فكافر. اهـ. قال شارحه المحقق ابن الغرس وهو التحقيق. وفائدة الخلاف تظهر في أكل مال الغير ظلما فإنه يكفر مستحله على أحد القولين. اهـ. وحاصله أن شرط الكفر على القول الأول شيئان: قطعية الدليل، وكونه حراما لعينه. وعلى الثاني يشترط الشرط الأول فقط وعلمت ترجيحه، وما في البزازية مبني عليه."

(کتاب الزکاۃ، ج:2، ص:293، ط:سعید)

فتاوی شامی میں ہے:

"اختلاف بين أهل المذهب والمعتمد عدم التفكير كما هو ظاهر المذهب، ‌بل ‌قالوا لو وجد سبعون رواية متفقة على تكفير المؤمن ورواية ولو ضعيفة بعدمه يأخذ المفتي والقاضي بها دون غيرها".

(كتاب الطهارة، ج:1، ص:81، ط:سعید)

البحر الرائق میں ہے:

"وفي التتارخانية لا يكفر بالمحتمل لأن الكفر نهاية في العقوبة فيستدعي نهاية في الجناية ومع الاحتمال لا نهاية اهـ .....والذي تحرر أنه لا يفتى بتكفير مسلم أمكن حمل كلامه على محمل حسن أو كان في كفره اختلاف ولو رواية ضعيفة فعلى هذا فأكثر ألفاظ التكفير المذكورة لا يفتى بالتكفير بها ولقد ألزمت نفسي أن لا أفتي بشيء منها".

(كتاب السير، باب أحكام المرتدین، ج:5، ص:135، ط:دار الكتاب الاسلامي)

اکفار الملحدین میں ہے:

"وخرق الإجماع القطعي الذي صار من ضروريات الدين كفر، ولا نزاع في إكفار منكر شيء من ضروريات الدين: وإنما النزاع في إكفار منكر القطعي بالتأويل، فقد ذهب إليه كثير من أهل السنة من الفقهاء والمتكلمين، ومختار جمهور أهل السنة منهما عدم إكفار أهل القبلة من المبتدعة المأولة في غير الضرورية، لكون التأويل شبهة.....لا خلاف في كفر من جحد ذلك المعلوم بالضرورة الجميع، وتستر بالتأويل فيما لا يمكن تأويله كالملاحدة".

(‌‌التأويل في ضروريات الدين لا يقبل، ويكفر المتأول فيها، ص:82،72، ط:المجلس العلمي)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144703101812

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں