
الحمد للہ اس سال اللہ تعالیٰ نے مجھے حج کی سعادت عطا فرمائی ہے۔ حج کے بعد میری یہ خواہش اور کوشش ہے کہ میں اپنی زندگی میں حقوق اللہ کے ساتھ ساتھ حقوق العباد بھی صحیح طور پر ادا کروں تاکہ اللہ تعالیٰ کے سامنے کسی کے حق میں کوتاہی کا مواخذہ نہ ہو۔ میری شادی ہو چکی ہے، میری ایک بیٹی اور ایک بیٹا ہے۔ الحمد للہ میرے والدین دونوں حیات ہیں۔ میرے ساس اور سسر بھی حیات ہیں۔ میری بہنوں اور بھائیوں میں بعض شادی شدہ ہیں اور بعض غیر شادی شدہ۔ میرے والدین اور بہن بھائی (سوائے ایک بہن کے) بیرونِ ملک رہتے ہیں، جبکہ ایک شادی شدہ بہن میرے ملک میں رہتی ہیں۔ میں درج ذیل امور میں شرعی رہنمائی چاہتا ہوں:
1. ایک مسلمان مرد ہونے کی حیثیت سے میرے اوپر کن کن رشتہ داروں اور متعلقین کے شرعی حقوق لازم ہیں؟
2. والدین کے میرے اوپر کیا واجب اور لازم حقوق ہیں؟ نیز اگر وہ بیرونِ ملک رہتے ہوں تو ان کے حقوق ادا کرنے کی کم از کم شرعی حد کیا ہے؟ اور اگر وہ کچھ عرصہ میرے پاس آکر رہیں یا مستقل میرے ساتھ رہنے لگیں تو میرے فرائض میں کیا فرق آئے گا؟
3. میری بیوی کے میرے اوپر کون کون سے واجب حقوق ہیں جن کی ادائیگی نہ کرنے پر آخرت میں مواخذہ ہو سکتا ہے؟ نیز فقہائے کرام کے نزدیک شوہر پر لازم حقوق اور حسنِ معاشرت و احسان کے درجے کے حقوق میں کیا فرق ہے؟
4. میرے بچوں (بیٹے اور بیٹی) کے میرے اوپر کیا شرعی حقوق ہیں؟ ان میں سے کون سے حقوق واجب ہیں اور کون سے مستحب یا اخلاقی ذمہ داریوں میں شمار ہوتے ہیں؟
5. بہن بھائیوں کے میرے اوپر کیا حقوق ہیں؟ خصوصاً جب وہ دوسرے ملک میں رہتے ہوں تو صلہ رحمی اور ان کے حقوق کی کم از کم شرعی حد کیا ہے؟ خصوصاً جو ایک شادی شدہ بہن میرے ساتھ اسی ملک میں رہتی ہے، اس کے میرے اوپر کیا حقوق ہیں اور ان کی ادائیگی کی کم از کم شرعی حد کیا ہے؟
6. ساس اور سسر کے میرے اوپر کیا حقوق ہیں؟ کیا ان کے حقوق عام رشتہ داروں کی طرح ہیں یا ان کی کوئی خاص حیثیت ہے؟
7. میری بیوی کے اپنے والدین، بہن بھائیوں اور دیگر رشتہ داروں کے ساتھ تعلقات کے بارے میں میرے اوپر کیا ذمہ داریاں ہیں؟
8. اسی طرح میرے شوہر ہونے کی حیثیت سے میری بیوی پر میرے کون کون سے شرعی حقوق ہیں جن کا مطالبہ کرنا میرے لیے جائز ہے؟ اور کون سی چیزیں ایسی ہیں جو محض حسنِ معاشرت اور باہمی محبت کے دائرے میں آتی ہیں، جن کا مطالبہ بطورِ حق نہیں کیا جا سکتا؟
9. براہِ کرم یہ بھی وضاحت فرما دیں کہ مذکورہ تمام رشتوں میں "واجب اور لازم حقوق" کون سے ہیں جن کے ترک پر گناہ یا مواخذہ ہو سکتا ہے، تاکہ میں کم از کم ان کی پابندی ضرور کر سکوں، اور اس کے بعد احسان، مروت اور حسنِ سلوک کے درجے کی چیزوں کی بھی نشاندہی فرما دیں۔
10. اور اگر کوئی ایسی کتاب یا کتابیں ہوں جن میں والدین، زوجین، اولاد، بہن بھائیوں اور دیگر رشتہ داروں کے حقوق کی تفصیل موجود ہو تو مطالعے کے لیے ان کی بھی رہنمائی فرما دیں۔
11. اگر مذکورہ رشتہ داروں میں سے بعض اپنے حقوق معاف کر دیں یا ان کے حق میں کمی بیشی پر راضی ہوں تو اس کا شرعی حکم کیا ہے؟ اور کون سے حقوق ایسے ہیں جو باہمی رضامندی سے ساقط ہو سکتے ہیں اور کون سے نہیں؟
1۔ ایک مسلمان مرد پر سب سے بڑھ کر والدین، پھر بیوی اور اولاد کے حقوق لازم ہیں، نیز دیگر قریبی رشتہ داروں کے ساتھ صلہ رحمی اور حسنِ سلوک بھی شرعاً مطلوب ہے۔
2۔ والدین کے حقوق میں ان کا ادب و احترام، جائز امور میں اطاعت، خدمت، دعا اور ضرورت کے وقت مالی معاونت شامل ہے۔ اگر وہ بیرونِ ملک ہوں تب بھی ان سے رابطہ اور خبرگیری کرنا ضروری ہے، اور اگر ساتھ رہیں تو خدمت اور دیکھ بھال کی ذمہ داری مزید بڑھ جاتی ہے۔
3۔ شوہر پر بیوی کا نفقہ، رہائش، لباس، حسنِ معاشرت اور ازدواجی حقوق کی ادائیگی واجب ہے۔ ان حقوق میں کوتاہی پر مواخذہ ہو سکتا ہے، جبکہ زائد محبت، تحائف اور اضافی خدمت احسان کے درجے میں داخل ہیں۔
4۔ اولاد کے حقوق میں حلال رزق سے پرورش، مناسب تعلیم و تربیت، دینی تعلیم اور ضروری اخراجات کی فراہمی(بیٹے کے لیے بالغ ہونے تک، بیٹی کے لیے اس کی شادی ہونے تک) شامل ہیں۔ یہ والد کی اہم ذمہ داریوں میں سے ہیں۔
5۔ بہن بھائیوں کے حقوق میں صلہ رحمی، خیرخواہی اور حسبِ ضرورت تعاون شامل ہے۔ اگر وہ دوسرے ملک میں ہوں تو رابطہ اور تعلق برقرار رکھنا ضروری ہے۔ اسی ملک میں رہنے والی بہن کے ساتھ بھی حسنِ سلوک اور تعلق قائم رکھنا لازم ہے۔
6۔ ساس اور سسر کے ساتھ احترام اور حسنِ سلوک کا معاملہ کرنا چاہیے، اور اگر مالی اعتبار سے کمزور ہیں تو ان کے ساتھ مالی تعاون حسن سلوک ہے۔
7۔ شوہر پر لازم ہے کہ وہ بیوی کو اس کے والدین اور دیگر رشتہ داروں سے جائز تعلقات رکھنے سے بلاوجہ نہ روکے اور ان کے ساتھ حسنِ سلوک کا معاملہ کرے۔
8۔ بیوی پر شوہر کے یہ حقوق ہیں کہ وہ جائز امور میں اس کی اطاعت کرے، اس کے بچوں کی اچھی تربیت کرے، اس کے مال و عزت کی حفاظت کرے اور حسنِ معاشرت کے ساتھ زندگی بسر کرے۔
9۔ واجب حقوق وہ ہیں جن کے ترک پر گناہ اور مواخذہ کا اندیشہ ہے، جبکہ احسان اور مروت وہ امور ہیں جن کے کرنے پر زیادہ اجر ہے لیکن ترک پر گناہ نہیں۔
10۔ اس موضوع کے مطالعہ کے لیے بہشتی زیور، اور حقوقِ زوجین وغیرہ مفید کتابیں ہیں، نیز علماء کرام اور اللہ والوں کی صحبت بھی بہت مفید ہے۔
11۔ بندوں کے مالی اور بعض شخصی حقوق صاحبِ حق کی رضامندی سے معاف ہو سکتے ہیں۔
الموسوعہ الفقہیہ الکویتیہ میں ہے:
''وتارة يترجح أحدهما كنفقة نفسه على نفقة زوجته وقريبه، وتقديم نفقة زوجته على نفقة قريبه... وفى ولاية النكاح بالأبوة والجدودة، ثم بالعصوبة ''
(تقديم الحقوق بعضها على بعض، ج: 18، ص: 22، ط: وزارۃ الاوقاف)
وفیہ ایضا:
''طاعة الوالدين والإحسان إليهما فرض على الولد، قال تعالى {وقضى ربك ألا تعبدوا إلا إياه وبالوالدين إحسانا...}''
(طاعة الوالدين، ج: 28، ص: 326، ط: الوزارۃ)
وفیہ ایضا:
''اتفق الفقهاء على وجوب نفقة الزوجة على زوجها بالشروط التي بينوها''
(حكم نفقة الزوجة، ج: 41، ص: 35، ط: الوزارۃ)
وفیہ ایضا:
''لا خلاف في أن صلة الرحم واجبة في الجملة، وقطعيةتها معصية كبيرة''
(في صلة الرحم، ج: 27، ص: 358، ط: الوزارۃ)
وفیہ ایضا:
''للمرأة الخروج لزيارة والديها كل جمعة... ولو بغير إذن الزوج؛ لأن ذلك من المصاحبة بالمعروف المأمور بها''
(«ما يجيز للزوجة الخروج من بيت الزوجية»، ج: 24، ص: 82، ط: الوزارۃ)
وفیہ ایضا:
''جعل الله الرجل قواما على المرأة بالأمر والتوجيه والرعاية... فكان له عليها حق الطاعة في غير معصية الله ''
(جعل الله الرجل قواما على المرأة بالأمر والتوجيه، ج: 24، ص: 56، ط: الوزارۃ)
وفیہ ایضا:
'' الأصل أن من له حق إذا أسقطه - وهو من أهل الإسقاط والمحل قابل للسقوط، سقط هذا الحق''
(سقوط المهر، ج: 25، ص: 108، ط: الوزارۃ)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144712101204
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن