
ایک لڑکے اور لڑکی کا نکاح ہوا، اب تک رخصتی نہیں ہوئی تھی کہ آپس میں دونوں کی ناراضی ہو گئی، جس کی وجہ سے شوہر نے شادی سے انکار کر دیا، چار سال گزرنے کے بعد لڑکی نے بھی انکار کرکے کہہ دیا کہ اس لڑکے کے ساتھ میں نہیں رہنا چاہتی ہوں، تو اس لڑکی کے انکار پر لڑکے نے کہا کہ میں تجھے اس گھر میں بوڑھا کر دوں گا، یعنی: نہ تو شادی کرتا ہے اور نہ اس لڑکی کو طلاق دیتا ہے، اب لڑکی عدالت سے فسخ نکاح کرنا چاہتی ہے، تو اس فسخ نکاح کا شریعت میں کیا حکم ہے؟
صورتِ مسئولہ میں اگر واقعتًا شوہر اپنی بیوی کے ساتھ نباہ پر تیار نہیں ہے اور حقوق کی ادائیگی پر آمادہ نہیں ہےتو اس کا ایسا کرنا شرعاً جائز نہیں، شوہر گناہ گار ہے، اس پر لازم ہے کہ اپنے اس رویہ سے باز آ جائے، یا تو باہمی رضامندی سے رخصتی کر کے بیوی کے تمام شرعی حقوق ادا کرے، اگر وہ باوجود قدرت کے نباہ نہیں کرتا اور حقوق کی ادائیگی پر راضی نہیں ہوتا تو دونوں خاندانوں کے معزز اور سمجھ دار بزرگ افراد کے ذریعہ اس مسئلہ کو حل کرنے کی کوشش کی جائے، اگر وہ اس کے باوجود بھی راہِ راست پر نہ آئے تو اس سے طلاق مانگی جائے، اگر وہ طلاق پر بھی راضی نہ ہو تو باہمی رضامندی سے خلع کا معاملہ کر لیں، چوں کہ قصور شوہر کا ہے تو اس کے لیے خلع کا عوض لینا جائز نہ ہو گا، اور اگر وہ خلع پر بھی راضی نہ ہو تو نکاح ختم کرانے کا شرعی طریقہ یہ ہے کہ عورت مسلمان جج کی عدالت میں تنسیخ نکاح کا مقدمہ دائر کرے ، پہلے اپنے نکاح کو گواہوں سے ثابت کرے اور حقوق کی عدمِ ادائیگی کو بھی گواہوں سے ثابت کرے، پھر جج شوہر کو طلب کرےاور معاملہ کی شرعی شہادت کے ذریعہ سے پوری تحقیق کرے اور اگر عورت کا دعویٰ صحیح ثابت ہو کہ باوجود وسعت کے خرچ نہیں دیتا تو اس کے شوہر سے کہا جائے کہ تم اپنی بیوی کے حقوق ادا کرو یا طلاق دے دو، ورنہ ہم تفریق واقع کر دیں گے، اس کے بعد بھی اگر وہ کسی صورت پر عمل نہ کرے یا شوہر سرے سے عدالت میں حاضر ہی نہ ہو تو ایسی صورت میں شوہر کی غیر موجودگی میں بھی عدالت کو نکاح ختم کرنے کا حق حاصل ہے، لہذا مسلمان جج کو فسخِ نکاح کا اختیار حاصل ہو گا، جس کے بعدبیوی اپنی عدت (پوری تین ماہواریاں) گزار کر دوسری جگہ نکاح کرسکتی ہے۔
حیلہ ناجزہ میں ہے:
”بیوی نان نفقہ نہ دینے سے متعلق تنسیخِ نکاح کا مقدمہ مسلم عدالت میں دائر کرے،پھر اپنے نکاح کو شرعی گواہوں سے ثابت کرے ،اس کے بعد اپنے دعویٰ کو دو گواہوں سے ثابت کرے۔پھر جس جج کے سامنے معاملہ پیش ہو وہ شوہر کو طلب کرے اور معاملہ کی شرعی شہادت کے ذریعہ سے پوری تحقیق کرے اور اگر عورت کا دعویٰ صحیح ثابت ہو تو اس کے شوہر سے کہا جائے کہ تم اپنی بیوی کے حقوق ادا کرو یا طلاق دے دو، ورنہ ہم تفریق واقع کر دیں گے، اس کے بعد بھی اگر وہ کسی صورت پر عمل نہ کرے تو قاضی یا جو شرعاً اس کے قائم مقام ہو اس کی بیوی پر طلاق واقع کر دے۔“
(حیلہ ناجزہ، ص:292، ط: مکتبہ رضی دیوبند)
الفقه الاسلامي وادلته ميں ہے:
"وأجاز المالكية التفريق للشقاق أو للضرر، منعاً للنزاع، وحتى لا تصبح الحياة الزوجية جحيماً وبلاء، ولقوله عليه الصلاة والسلام: «لا ضرر ولا ضرار». وبناء عليه ترفع المرأة أمرها للقاضي، فإن أثبتت الضرر أو صحة دعواها، طلقها منه."
(القسم السادس: الاحوال الشخصية، الباب الثاني: انحلال الزواج، الفصل الثالث: التفريق، جلد:9، صفحه: 7060، طبع: دار الفكر)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144712101242
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن