
واضح رہے کہ شریعت میں ہنڈی کے ذریعے بھیجی گئی رقم قرض کے حکم میں ہوتی ہے۔اور جوشخص رقم لیتا ہے ،اسی پر ادائیگی لازم ہوتی ہے۔
لہذا صورتِ مسئولہ میں جس شخص کے ساتھ ہنڈی کا معاملہ کیا گیا تھا، اسی شخص پرہنڈی کی رقم واپس کرنا لازم ہے۔
الأصل لمحمد بن الحسن میں ہے:
"وكذلك السفاتج، يقرض الرجل الرجل ألف درهم على أن يكتب له بها سفتجة إلى بلد كذا وكذا."
(كتاب الصرف، باب القرض والصرف في ذلك، ج : 3، ص : 26، ط : دار ابن حزم)
بدائع الصنائع فی ترتیب الشرائع میں ہے:
"وأما حكم القرض فهو ثبوت الملك للمستقرض في المقرض للحال، وثبوت مثله في ذمة المستقرض للمقرض للحال، وهذا جواب ظاهر الرواية."
(كتاب القرض، فصل في حكم القرض، ج : 7، ص : 396، ط : دار الكتب العلمية)
فقط والله أعلم
فتویٰ نمبر : 144705101457
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن