بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

18 ذو الحجة 1447ھ 04 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

ہنڈی کی رقم لے کر بھاگ جانے کی صورت میں ذمہ داری کس پرہے


سوال

 اگر ہنڈی کسی شخص نے دوسرے کے ذریعے منگوائی اور وہ اسے لے کر بھاگ گیا تو اس کا ذمہ دار کون ہوگا؟
 

جواب

واضح رہے کہ شریعت میں ہنڈی کے ذریعے بھیجی گئی رقم قرض کے حکم میں ہوتی ہے۔اور جوشخص   رقم لیتا ہے  ،اسی پر  ادائیگی لازم ہوتی ہے۔

لہذا صورتِ مسئولہ میں جس شخص کے ساتھ ہنڈی کا معاملہ کیا گیا تھا، اسی شخص پرہنڈی کی رقم واپس کرنا لازم   ہے۔

الأصل لمحمد بن الحسن میں ہے: 

"وكذلك ‌السفاتج، يقرض الرجل الرجل ألف درهم على أن يكتب له بها سفتجة إلى بلد كذا وكذا."

(‌‌كتاب الصرف، ‌‌باب القرض والصرف في ذلك، ج : 3، ص : 26، ط : دار ابن حزم)

بدائع الصنائع فی ترتیب الشرائع میں ہے:

"وأما ‌حكم ‌القرض فهو ثبوت الملك للمستقرض في المقرض للحال، وثبوت مثله في ذمة المستقرض للمقرض للحال، وهذا جواب ظاهر الرواية."

(كتاب القرض، فصل في حكم القرض، ج : 7، ص : 396، ط :  دار الكتب العلمية)

فقط والله أعلم


فتویٰ نمبر : 144705101457

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں