
ہم خلیج میں رہتے ہیں،جب ہم اپنے گھر والوں کو پیسے بھیجتے ہیں تو ہنڈی کے ذریعے بھیجتے ہیں، ہم ہنڈی والے سے کہتے ہیں کہ”ہزار درہم یا ریال گھر بھیج دو“، وہ اُس وقت کا ریٹ بتاتا ہے، اور ہمارے گھر والوں کو پاکستان میں روپوں میں وہ رقم دے دیتا ہے،لیکن ہم ہنڈی والے کو بلا کسی سود وغیرہ کے،درہم یا ریال دو دن بعد دیتے ہیں۔
اب ہم جاننا چاہتے ہیں کہ ہنڈی والے کو تاخیر سے رقم دینے کا شرعی حکم کیا ہے؟
ہنڈی کا کاروبار ملکی وبین الاقوامی قوانین کی رو سے ممنوع ہے ؛ اس لیے رقم کی ترسیل کے لیے جائز قانونی راستہ ہی اختیار کرنا چاہیے ،البتہ ہنڈی کے ذریعے رقم بھجوانے کی صورت میں تاخیر سے بھی رقم بھیجنے والے کو رقم دینا جائز ہے ، البتہ مندرجہ ذیل شرعی امور کا لحاظ رکھنا لازمی ہے :
1۔ چوں کہ مروجہ ہنڈی (حوالہ) کی حیثیت قرض کی ہے؛ اس لیے جتنی رقم دی جائے اتنی ہی رقم آگے پہنچانا ضروری ہے، اس میں کمی بیشی جائز نہیں ہے، البتہ بطورِ فیس/اجرت الگ سے طے شدہ اضافی رقم لی جاسکتی ہے۔
2۔ کرنسیوں کے مختلف ہونے کی صورت میں (جیسا کہ سوال میں ایک طرف کرنسی درہم یا ریال ہے اور دوسری طرف پاکستانی روپیہ ہے ) لازم ہے کہ دوسرےملک جہاں قرض کی ادائیگی کرنی ہے ( مثلاً پاکستان میں) ادائیگی کے وقت یا تو قرض لی ہوئی کرنسی (مثلاً درہم ) ہی پوری پوری واپس کرے یا پھر جتنے درہم قرض دیے گئے تھے ادائیگی یا وصولیابی کے دن پاکستان میں درہم کے جو ریٹ چل رہے ہوں ان میں سے ہی کسی ایک ریٹ کے مطابق، قرض دیے گئے درہم کے جتنے پاکستانی روپے بنتے ہوں، پاکستان میں ادا کیے جائیں، درھم کے مارکیٹ ریٹ سے کم یا زیادہ طے کر کے لین دین کرنا جائز نہیں ہے۔ اجرت جدا گانہ طے کی جائے۔
"تنقیح الفتاوی الحامدیة"میں ہے:
"الدیون تقضیٰ بأمثالها".
(کتاب البیوع، باب القرض، ج:1،ص:500، ط:قدیمی)
فتاویٰ شامی میں ہے:
"و في الأشباه: کل قرض جر نفعاً حرام".
(کتاب البیوع، فصل فی القرض، ج:5، ص:166، ط:سعید )
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144705101024
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن