بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

ہیومن ملک بینک کے قیام کا حکم اور جواز کی صورت


سوال

عنوان: انسانی دودھ کے بینک کا قیام، دار الافتاء کی آراء

محترم جناب مفتی صاحب !

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبر کاتہ

امید ہے مزاج گرامی بخیر ہوں گے۔

اسلامی نظریاتی کونسل نے اپنے اجلاس نمبر 239، (21 / اکتوبر 2024) میں موضوع بالا سے متعلق سندھ انسٹی ٹیوٹ آف چائلڈ ہیلتھ اینڈ نینو ٹالوجی (SICHN) کے استفسار پر غور و خوض کے بعد حسب ذیل فیصلہ کیا:

انسانی دودھ کے ملک بینک کے قیام کا مسئلہ وسیع مشاورت اور عمیق غور و خوض کا متقاضی ہے، اس لیے اس موضوع پر جامع اور تفصیلی سفارشات مرتب کرنے سے پہلے اس پر بھر پور فکری نشست ضروری ہے۔

اس فکری نشست میں نوزائیدہ بچوں کے امراض اور علاج کے ماہرین اطباء اور ریکارڈ مرتب کرنے والے اداروں مثلاً نا در ا وغیرہ کے نمائندگان کی رائے سے استفادہ کیا جائے گا اور ان کی ماہرانہ رائے کے نتیجے میں غور و فکر کر کے حتمی سفارشات مرتب کی جائیں گی۔

کونسل کی طرف سے اس موضوع پر حتمی سفارشات مرتب کرنے سے پہلے ملک کے منتخب دار الافتاؤں کی رائے بھی حاصل کی جائے گی۔

اسلامی نظریاتی کونسل کے درج بالا فیصلہ کے تناظر میں کونسل کے شعبہ تحقیق کی طرف سے ایک مفصل سوال نامہ مرتب کر کے سندھ انسٹی ٹیوٹ آف چائلڈ ہیلتھ اینڈ نینو ٹالوجی کی طرف بھیجا گیا تا کہ ان کے طبی تجربات کی روشنی میں مذکورہ مسئلہ کی حقیقت اور ضرورت واضح ہو سکے۔ چنانچہ متعلقہ ہسپتال کے ماہرین کی طرف سے کونسل کے اجلاس نمبر ۲۴۱ (۲۵ / مارچ ۲۰۲۵) میں تفصیلی بریفنگ دی گئی، جس کی روشنی میں کونسل نے تفصیلی غور و خوض کیا اور حسب ذیل نکات پر اتفاق کیا:

1. ماہرین طب کا اس پر اتفاق ہے، کہ قبل از وقت ( پری میچور) پیدا ہونے والے بچوں کی زندگی بچانے کے لیے ڈاکٹر ز اپنی نگرانی میں علاج کی غرض سے ماں کا دودھ دوائی کے طور پر بچوں کے پیٹ میں طبی طریقے سے پہنچاتے ہیں، ایسے مخصوص بچوں کی زندگی بچانے کے لیے ماں کے دودھ کے متبادل نہ تو کوئی دوائی (میڈیسن) ہے اور نہ ہی اس طریقہ علاج کا متبادل کوئی طریقہ علاج ہے۔

اسلامی نظریاتی کونسل کی نظر میں بچوں کی جان بچانے کے لیے ماں کے دودھ کا بطور واحد دوائی (میڈیسن) استعمال اور مذکورہ طریقے سے دودھ کو بچے کے پیٹ میں پہنچانے کے طریقہ علاج کے جواز میں کوئی شک یا اختلاف کی گنجائش نہیں، بلکہ اس طریقہ علاج کا لازمی طور پر اختیار کرنا نصوص شرعیہ کا تقاضا ہے۔

2. مدت رضاعت کے اندر بچوں کو کسی بھی مقصد کے تحت کسی بھی طریقے سے دودھ پلانے اور پیٹ میں پہنچانے، خواہ وہ معتاد، رائج الوقت اور مینول طریقے سے ہو، ہیومن ملک بینک کے ذریعے سے ہو، یا اور کسی جدید طبی طریقے سے ہو ، سے رضاعت ثابت ہو جاتی ہے۔ اور ایسی ہر طرح کی رضاعت سے بچے (رضیع) اور دودھ فراہم کرنے والی خاتون ( مرضعہ) کے درمیان رضاعت کا مقدس رشتہ ثابت ہو جاتا ہے، جس کے نتیجے میں رضاعت کے تمام احکام، جن کا احاطہ حدیث نبوی "یحرم من الرضاعة ما يحرم من النسب" کے جامع الفاظ میں کیا گیا ہے، ثابت ہوں گے۔

3. ہیومن ملک بینک کے قیام کے ذریعے قبل از وقت (پری میچور ) پیدا ہونے والے بچوں کو ماں کا دودھ فراہم کرنا، پیٹ میں پہنچانا اور پلانا فی نفسہ جائز امر ہے، اور اس طریقے سے بچوں کی زندگی بچانا ضروری اور لازم ہے۔

4. تاہم کیا ہیو من ملک بینک کے ذریعے بچوں کو ماں کے دودھ کی فراہمی کی صورت میں ثابت ہونے والے حکم رضاعت کے احکام کی رعایت ممکن ہو گی ؟ بالخصوص جب کہ ہسپتال میں بیک وقت کئی بچے زیر علاج ہوں، نیز ایک بچے کے لیے ایک خاتون کا دودھ کافی نہ ہو، بلکہ متعد د خواتین کا دودھ پلایا جاتا ہو۔

کیا ہسپتال کے نظام اور ماحول میں دودھ فراہم کرنے والی خواتین (مرضعات) اور دودھ پینے والے بچوں (رضیع) کاریکارڈ محفوظ رکھنا اور بچے کے والدین کو درست معلومات فراہم کرنا ممکن ہو گا؟

5. اگر ہسپتال کے ارباب حل و عقد اس بات کی یقین دہانی کرا رہے ہوں، کہ ہم مکمل ریکارڈ محفوظ کرنے، ریکارڈ کو بچوں کے والدین اور سر پرستوں کے حوالہ کرنے کا اہتمام کر بھی سکتے ہیں، اور ایسا کریں گے بھی، تو کیا ان شرائط کے ساتھ ہیومن ملک کے قیام کو شرعی طور پر سند جواز فراہم کیا جاسکتا ہے ؟

6. نیز کیا ہسپتال کے ارباب حل و عقد کی طرف سے مکمل ریکارڈ محفوظ کرنے اور والدین کو فراہم کرنے کی زبانی یقین دہانی کرانا کافی ہے یا پھر ہسپتال کے رولز ریگولیشن اور قواعد وضوابط میں شامل کرنا کافی ہے؟ یا پھر ہیومن ملک بینک کے قیام کے طریقہ کار ، طریقہ علاج اور رضاعت سے متعلق احکام پر مشتمل مرضعات اور رضیع کے ریکارڈ محفوظ کرنے اور متعلقہ افراد کے حوالے سے قانون سازی کی ضرورت ہو گی ؟ تا کہ اس مجوزہ قانون کے مطابق ہیومن ملک بینک کے قیام کی اجازت دی جائے، اور خلاف ورزی کی صورت میں قانونی طریقے سے نمٹا جائے۔

اسلامی نظریاتی کونسل نے اپنے اجلاس نمبر ۲۴۱ (۲۵ مارچ ۲۰۲۵) میں درج بالا تفصیل طلب امور پر اصحاب فتوی کی رائے لینے کے حوالے سے حسب ذیل فیصلہ کیا :-

انسانی دودھ کے قیام کے بارے میں منتخب دار الافتاؤں کو استقام بھیجا جائے گا، جس کے ساتھ ماہرین کی طرف سے موصولہ بریفنگ بھی مسلک کی جائے گی، تاکہ ان کی آراء کی روشنی میں جامع سفارشات مرتب کی جا سکیں ۔۔۔۔۔

مفتیان کرام کے مطالعہ کے لیے اسلامی نظریاتی کونسل کے شعبہ ریسرچ کا مرتب کردہ سوالنامہ اور اس سوالنامہ کے تناظر میں سندھ انسٹیٹوٹ آف چائلڈ ہیلتھ اینڈ نیوٹالوجی کے جوابات اور تفصیلی بریفنگ منسلک ہے۔ تاکہ اس کی روشنی میں صورت حال کو درست طریقے سے سمجھنے اور شرعی حکم بیان کرنے میں آسانی ہو۔

امید ہے مذکورہ تفصیلات و حقائق کی روشنی میں آپ کو نسل کی راہنمائی فرمائیں گے کہ :

الف۔ کیا شرعی لحاظ سے پاکستان میں ہیومن ملک بینک قائم کرنے کی اجازت دی جا سکتی ہے یا نہیں؟

ب۔ اگر ایسے بینکوں کے قیام کی اجازت دی جائے تو اس کے لیے کونسی شرائط اور طریقہ کار اختیار کیا جائے؟

(ڈاکٹر انعام الله)

ڈائر یکٹر جنرل (ریسرچ)

اظہار تشکر

نحمده و نصلى على رسوله الكريم، اما بعد

رب اشرح لي صدري و يسر لی امری و احلل عقدة من لسانی

محترم جناب چیئر مین اسلامی نظریاتی کونسل ڈاکٹر راغب حسین نعیمی صاحب، معزز مفتیان کرام ، ریسرچ اسکالرز و آفیسر اور جملہ حاضرین

السلام علیکم ودر حمید اللہ و برکاته

میں ( نام و عہدہ) آپ تمام حضرات کا اپنے ادارے کی طرف سے تہہ دل سے شکریہ ادا کر تا ہوں کہ آپ نے ہمیں اپنا موقف اور نقطہ نظر بیان کرنے کا موقع فراہم کیا۔ ساتھ ہی میں اللہ سبحانہ و تعالی سے دعا گو ہوں کہ اس نازک اور اہم مسئلہ میں ہم سب کو درست بات تک پہنچنے اور اس پر عمل کرنے کی توفیق نصیب فرمائے۔

ضروری وضاحت ( شریعہ ایڈ وائزر )

میں آپ حضرات سے دواہم باتیں شئیر کرنا چاہوں گا۔

1. ہیو من ملک بینک یا اس جیسے عنوانات پر عوامی رد عمل اور علماء کرام کی طرف سے تنقید برائے اصلاح ایک بہت ہی خوش آئند قدم اور ایک زندہ معاشرے کی مثال ہے، یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ الحمد للہ ہماری عوام اور معزز علماء کرام میں دینی حمیت موجود ہے اور مغرب سے آنے والی ہر چیز کو قبول کرنے سے پہلے اس کے مالہ وماعلیہا پر غور و فکر کرتے ہیں۔ اسی لیے الحمد للہ باطل کی ہمت نہیں ہوتی کہ وہ دینی معاملات میں اس طرح سے مخل ہو سکے۔ لہذا ہیو من ملک بینک کے حوالے سے ہونے والے سنجیدہ تبصرے کو ہم سراہتے ہیں اور اس بات سے خوشی محسوس کرتے ہیں کہ الحمد للہ ہماری دینی نگرانی کرنے والے اور ہمیں صحیح وغلط کا فرق بتانے والے علماء کرام موجود ہیں۔

2. علماء کرام کی طرف سے ہیومن ملک بینک یا اس موضوع پر ہونے والے دیگر سنجیدہ تبصروں کے ساتھ ساتھ بہت ہی غیر سنجیدہ، واقعہ کے خلاف تبصرے بھی سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئے، جن کی وجہ سے ایسا تاثر قائم ہو گیا جیسے یہ کوئی ایسا ادارہ ہو جو اسلامی تعلیمات سے متصادم اور مخالف کام میں مشغول ہو، یا جو اسلامی احکام کو اہمیت نہ دیتا ہے۔ اصل موضوع شروع کرنے سے پہلے اس سے متعلق یہ عرض کرنا میں ضروری سمجھتا ہوں کہ ایس آئی سی ایچ این دینی معاملات میں ہمیشہ سے علماء کرام کی راہنمائی میں ہی کام کرنے کا خواہاں ہے۔ اور اس بات کی تصدیق کے لیے  بطور مثال چند حقائق آپ حضرات کے سامنے رکھنا چاہوں گا۔

1.  گزشتہ سال ایسا بھی ہوا کہ آٹھ ماہ ادارے میں کوئی باقاعد ہ مفتی صاحب نہ ہونے کی وجہ سے زکوۃ اکاؤنٹ میں موجود رقم میں سے ایک روپیہ بھی استعمال نہیں کیا گیا، حالانکہ اگر انتظامیہ استعمال کر لیتی تو اس پر اعتراض کرنے والا کوئی بھی نہیں تھا، لیکن ایس آئی سی ایچ این کے سر کردہ ذمہ دار حضرات مذہبی معاملات کو الحمد للہ بہت اہمیت دیتے ہیں اس لیے انہوں نے بغیر کسی شریعہ اپروول کے ضرورت کے باوجود ز کوۃ  کا ستعمال کرنا گوارہ نہیں کیا، جو ان حضرات کی سنجیدگی اور مذہبی معاملات میں احتیاط کی عکاسی کرتا ہے۔

2. بیو من ملک بینک جو مغربی ممالک میں ایک عام طریقہ ہے ، اس کی اہمیت و ضرورت کو محسوس کرتے ہوئے ان حضرات نے جب سب سے پہلے اس کو قائم کرنے کا ارادہ کیا تو ان کا پہلا قدم ملک کے ایک معتبر دار الافتاء کی طرف رجوع کرنا تھا، اور وہاں سے صرف فتویٰ ہی نہیں لیا گیا، بلکہ اجازت ملنے کے بعد بھی باقاعدہ ملاقات کر کے اطمینان حاصل کیا گیا۔

3. پھر جس وقت یہ بات سوشل میڈ یا پر عام ہوئی اور اکابر علماء کی طرف سے اس سے منع کیا گیا تو اس کے قیام کا ارادہ فوراً ملتوی کر دیا گیا۔

یہ سارے امور اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ ایس آئی سی ایچ این مذ ہبی معاملات میں کبھی کوئی ایسا کام کرنا نہیں چاہتا جو اسلامی تعلیمات کے خلاف ہو۔ لہذا یہ تاثر ختم کر کے اگر کھلے دل سے جائزہ لیا جائے تو امید ہے کہ صور تحال زیاد و واضح ہو جائے گی۔

دعوت خطاب سینئر نیو نیولوجسٹ ڈاکٹر سید ریحان علی صاحب

اسلامی نظریاتی کونسل کے سوالات کے جوابات (ڈاکٹر سید ریحان علی صاحب)

سوالجواب
1. ہیومن ملکبینک کا بنیادی تصور (concept) کیا ہے؟وقت سے پہلے پیدا ہونے والے وہ بچے جن کے لیے ماں کا دودھ ضروری ہو، لیکن میسر نہ ہو، ان کو سہولت فراہم کرنا۔
2. پہلا ہیومن ملک بینک کب اور کہاں قائم ہوا؟1407 ء  میں، اٹلی میں۔
3.اب تک کتنے ممالک میں ہیومن ملک بینک قائم ہیں؟ 66 ممالک میں 700 ملک بینک
4. کتنے اسلامی ممالک میں ہیو من ملک بینک قائم ہیں؟ایران ، دبئی ( دینی میں یہ دودھ پاؤڈر فارم میں درآمد کیا جاتا ہے ) ، ان کے علاوہ ملائیشیا اور کویت میں شروع کرنے کی تیاری کی جارہی ہے۔
5. اسلامی ممالک میں قائم ہیو من ملک بینک میں رضاعت کے رشتوں کو محفوظ رکھنے کا طریقہ کار کیا ہے؟ایران کے حضرات ٹیوب سے دودھ پینے کی صورت میں رضاعت کے قائل نہیں ، جبکہ دین میں چونکہ یہ پاؤڈر فارم میں ہوتا ہے اس لیے اس کے احکامات الگ ہیں۔
6. ہیومن ملک بینک کے قیام کا مقصد کیا ہے؟وقت سے پہلے پیدا ہونے والے کمزور بچوں کی جان بچانا۔
7.پاکستان میں ہیومن ملک بینک کے قیام کی ضرورت کیوں پیش آئی؟وقت سے پہلے پیدا ہونے والے بچوں کی بڑھتی ہوئی تعداد کی وجہ سے۔
8.اب تک ہیومن ملک بینک کے قیام کی ضرورت کو کس طرح پورا کیا جاتا رہا ہے؟اب تک یہ ذمہ داری بچہ کے گھر والے پوری کرتے ہیں جو کبھی کامیاب ہوتی ہے اور کبھی نہیں۔
9.ہیومن ملک (ماں کے دودھ کے حصول کا طریقہ کیا ہے؟با پردہ جگہ میں بریسٹ پمپ کے ذریعہ
10.کتنی تعداد میں اور کونسی خواتین ہیومن ملک فراہم کرتی ہیں؟فی الحال ایسا کوئی نظم ادارہ کے تحت نہیں ہے۔
11.هیومن ملک بینک میں (ماں کے دودھ ) کی مطلوبہ مقدار میں ضرورت پاکستان میں پوری ہو گی ؟ یا دیگر ممالک سے سے بھی درآمد کیا جائے گا؟مقامی سطح پر پوری کی جائے گی۔
12. ہیومن ملک بینک کے قیام کے بعد ہیومن ملک کے برآمد  کے کیا امکانات ہیں ؟ دیگر ممالک میں ہیومن ملک کے درآمد برآمد کا سلسلہ تو نہیں؟نہیں، ہیومن ملک کے درآمد یا برآمد کیے جانے کا کوئی امکان نہیں۔
13.ہیومن ملک (ماں کا دودھ ) عطیہ کیا جائے گا یا خریدا جائے گا؟عطیہ کیا جائے گا۔
14.کیا بچہ جنم دینے کے دو سال کے بعد خاتون کے پستانوں میں دودھ موجود ہوتا ہے ؟ اور کیا اس دودھ سے بچے کی غذائیت کی ضرورت کو پورا کیا جا سکتا ہے؟جی! موجود ہوتا ہے اور اس سے غذائیت کی ضرورت کو پورا کیا جا سکتا ہے۔
15.هیومن ملک کے حصول کے بعد محفوظ کیے بغیر فوراً پلایا جاتا ہے یا محفوظ کر کے بعد میں بچوں کو پلایا جاتا ہے؟محفوظ کرنے کے بعد۔
16.اگر ہیو من ملک محفوظ کیا جاتا ہے تو طریقہ کار کیا ہے ؟ اور کیمیکل و غیر و ملایا جاتا ہے؟پاسچرائزیشن کے ذریعہ (اس کی تفصیل آئندہ آرہی ہے )
17.ہیومن ملک مائع ( لیکویڈ ) صورت میں محفوظ کیا جاتا ہے؟جی! لیکویڈ شکل میں۔
18.پاسچرائزیشن (Pasteurization) سے کیا مراد ہے؟انسانی دودھ کو ہائی ٹمپریچر پر لے جاناتا کہ جراثیم ختم کیے جاسکیں ، اور اس کے بعد مشین کے ذریعہ اس کو بہت جلدی ٹھنڈا کر ناتا کہ پروٹین محفوظ کیے جاسکیں۔
19.ہیومن ملک کتنے عرصے تک محفوظ رکھا جا سکتا ہے ؟ اور کیا طویل مدت تک دودھ محفوظ کرنے کے بعد کسی دوسرے ہسپتال / شہر یا ملک میں منتقل کرنا ممکن ہے؟تقریباً چھ ماہ تک۔
20.بچوں کو محفوظ کیا گیا دورہ مینول طریقے ( منہ کے ذریعہ) پلایا جاتا ہے یا کسی اور طریقے ٹیوب وغیرہ سے؟ٹیوب کے ذریعہ سے ، کیونکہ ان بچوں میں چوسنے کی صلاحیت نہیں ہوتی۔
21. ایک بچے کے لیے  اوسطاً کتناد ودھ درکار ہوتا ہے ؟ اور کتنے عرصے تک؟پہلے دن 80  ملی لیٹر فی کلو کے حساب سے۔
22.کیا ایک بچے کو در کار دودھ کی ضرورت کسی ایک خاتون کے ذریعہ پوری ہوتی ہے ؟ یا متعدد خواتین کا دودھ در کار ہوتا ہے ؟ اور تقریبا کتنی خواتین سے یہ ضرورت پوری ہوتی ہے؟یہ دودھ فراہم کرنے والی خاتون پر منحصر ہے، بعض خواتین ایک وقت میں ایک سے زائد بچوں کے لیے کافی مقدار میں دودھ  فراہم کر سکتی ہیں اور بعض خواتین کادودھ  اپنے بچے کے لیے بھی کافی نہیں ہوتا۔
23.دودھ کی کتنی مقدار سے بچے کی نشوو نما شروع ہو جاتی ہے؟بچہ کو ایک دن میں ۱۸۰ ملی لیٹر دودھ کی ضرورت ہوتی ہے، اور اس دودھ کا ہر قطرہ ان کے لیے بہت اہمیت کا حامل اور نشو و نما کا ذریعہ ہوتا ہے۔
24. کتنی عمر تک بچے کی نشو نما میں دودھ کا عمل دخل ہوتا ہے؟چھ مہینے کے بعد دودھ کے علاوہ دیگر غذا شروع کروائی جاسکتی ہے، اس سے پہلے غذاء کا سارا دار و مدار دودھ پر ہی ہوتا ہے۔
25.بچوں کو ہیومن ملک بینک کے ذریعے ماں کا دودھ کتنے عرصے کے لیے فراہم کیا جائے گا؟
جب تک وہ بچہ دودھ چوسنے کے قابل نہ ہو جائے، اور یہ عموماً  34  ہفتے کی عمر تک پہنچنے پر ہو جاتا ہے۔
26. متعدد خواتین سے حاصل کردہ محفوظ دودھ کی تاثیر و نتائج میں فرق آجاتا ہے؟غذائیت اور پروٹین کم زیادہ ہونے کے باعتبار سے ہر خاتون کا دودھ علیحدہ ہوتا ہے ، جس کی وجہ سے تاثیر اور نتیجہ میں جلدی صحتیابی کا امکان کم زیادہ ہو سکتا ہے ، لیکن بنیادی ضرورت پوری ہونے کے اعتبار سے فرق نہیں ہوتا۔
27.کیا دودھ کے ذریعے ماں کی بیماریاں بچے تک منتقل /متعدی ہوتی ہیں ؟ اور بچاؤ کی کیا صورت ہے؟جی اس کا امکان ہوتا ہے ، جس سے پاسچرائزیشن کے عمل کے ذریعہ بچا جا سکتا ہے۔
28.یہ کیسے یقینی بنایاجائے گا کہ دودھ پینے والے بچے اور خاتون ، جس کا دودھ پلایا گیا ہے، مکمل ریکارڈ محفوظ ہو اور والدین کو معلوم ہو؟اس کے لیے تین کام کیے جائیں گے :1.  زبانی مسئلہ اچھی طرح سمجھا دیا جائے گا۔  2. ایک تحریر جس میں مسئلہ اور بچہ وزچہ کی تفصیلات درج ہو گی، متعلقہ فیملیز کے حوالے کی  جائے گی۔ 3. اس پر چہ کی ایک نقل ادارے کے ریکارڈ میں محفوظ رکھی جائے گی۔
29.کیا نادرا کے ذریعہ ریکارڈ محفوظ کیا جائے گا؟اس کے لیے درخواست دی ہوئی ہے، باقاعدہ قیام کے بعد امید ہے کہ اس کی صورت بھی بن جائے گی۔
30.کیا عدالت کو رضاعت کے رشتے کے ریکارڈ محفوظ رکھنے میں شامل کیا جا سکتا ہے؟اب تک اس کی ضرورت انتظامی یا شرعی اعتبار سے محسوس نہیں کی گئی۔
31.بذریعہ ہیومن ملک بینک رضاعت کے رشتہ میں دھو کہ وہی اور غلط بیانی کا کتنا امکان ہو سکتا ہے؟ادارے کی سطح پر حتی الامکان اس سے بچا جائے گا، باقی کسی کے انفرادی عمل کی ذمہ داری کوئی بھی ادارہ نہیں لے سکتا۔
32.ریکار ڈ ر کھنے میں کیا یہ ممکن ہے کہ دو شرعی شہاد تیں قائم کی جائیں؟عملا ایسا ہونا مشکل ہے۔
33.ہیومن ملک بینک کے متبادل نام مثلاً "رضاعت پر مبنی طریقہ علاج" و غیر اختیار کرنا ممکن ہے؟ممکن ہے۔

سوال جواب ( پینل کی شکل میں)

بسم الله الرحمن الرحیم

مطلوبہ امور کی وضاحت

(اسلامی نظریاتی کونسل)

(1-2) بیو من ملک بینک، ضروت و تاریخی پس منظر

وہ بچے جو وقت سے پہلے پیدا ہو جائیں ، جن کو میڈیکل کی اصطلاح میں ( Preterm baby) یا  (Premature baby) کہا جاتا ہے، یا وہ بچے جن کا وزن دو کلو سے بھی کم ہوتا ہے، ایسے بچوں کو ( LBW یعنی Low birth weight) کہتے ہیں۔ ان دونوں قسم کے بچوں ( LWB اور Preterm) بچوں میں خود دودھ چوسنے کی صلاحیت نہیں ہوتی۔ اس لیے ان کو ٹیوب کے ذریعے دودھ دیا جاتا ہے۔

ایسے بچوں پر اگر محنت کی جائے، اور انفیکشن سے بچایا جا سکے تو ان کے بچنے کی امید بہت بڑھ جاتی ہے۔ خاص طور سے وہ بچے جو 28  ہفتوں کے بعد پیدا ہوں۔ ان بچوں کو انفیکشنز سے بچانے کے لیے  سب سے ضروری یہ ہے کہ ان کو صحتمند رکھا جائے، اور عمر کے حساب سے ان کا وزن اچھا بڑھ جائے۔ اور اس مقصد کے لیے  ان کو کسی دوائی کی ضرورت نہیں ہوتی، بلکہ صرف ماں کے دودھ کی ضرورت ہوتی ہے، اگر وہ ان کو ان کی ضرورت کے مطابق پوری مقدار میں مل جائے تو ان کی صحت برقرار رہتی ہے اور ان کا وزن بڑھ جاتا ہے۔

اس میں بعض اوقات مشکل یہ پیش آتی ہے کہ جن بچوں کی وقت سے پہلے پیدائش ہو جائے عام طور سے ایسے بچوں کی ماں کو شروع کے کچھ عرصہ دودھ نہیں آتا، یا پھر ان کی طبعی حالت اس قابل نہیں ہوتی کہ وہ بچے کو دودھ پلا سکیں ، مثلا بچہ کی پیدائش آپریشن سے ہوئی (اور عام طور سے یہی صور تحال پیش آتی ہے ، ماں الگ ہسپتال میں داخل ہے، اور بچہ کسی دوسرے ہسپتال میں ہے یا انتہائی نگہد اشت وارڈ (NICU) میں ہے، عام طور سے ایسی صورت میں ماں کے لیے ممکن نہیں ہوتا کہ وہ اپنے بچے کو دودھ پلاسکیں۔ اسی طرح بعض اوقات ماں کچھ ایسی دوائیں استعمال کر رہی ہوتی ہے جس کی وجہ سے بچے کو دودھ پلانا بچے کی صحت کے لیے صحیح نہیں ہوتا۔ خلاصہ یہ کہ مختلف وجوہات کی بنیاد پر بچے کو ماں  کا دودھ میسر نہیں ہوتا۔ ایسے بچوں کی ضرورت پوری کرنے کے لیے  شروع زمانہ سے ہی دودھ پلانے والی مختلف خواتین کی خدمات حاصل کی جاتی تھیں۔

پھر گزشتہ صدی میں اس کے متبادل (Alternative) کے طور پر 1943 ء میں برطانیہ میں فارمولا ملک تیار کیا گیا (انسانی دودھ کے بینک، تعارفی و فقہی جائزه، ریسرچ آرٹیکل، مفتی شاد محمد، رسالہ راحة القلوب، شماره جولائی تا دسمبر ۲۰۱۸ء)، لیکن بہت جلد اس کے نقصانات سامنے آنے شروع ہو گئے۔ اصل میں ان بچوں میں دفاعی نظام بہت کمزور ہوتا ہے، یہ کسی بھی بیرونی چیز (foreign body) کو قبول نہیں کرتے۔ فارمولا ملک کے ذریعے اگرچہ ان کو مطلوب غذائیت فراہم کرنے کی کوشش کی جاتی ہے لیکن عام بچوں کے مقابلے میں ان بچوں میں یہ مسئلہ زیادہ آتا ہے کہ ان کا جسم اس کو قبول نہیں کرتا، جس کی وجہ سے ان کی بڑی آنت میں سوزش آجاتی ہے ، اور وہ پھول جاتی ہے، اور کبھی وہ آنت پھٹ بھی جاتی ہے۔ ایسی صورت میں بہت قوی امکان ہوتا ہے کہ بچہ کی جان چلی جائے، اور اگر وہ اس وقت بچ بھی گیا (Survive) کر گیا تو بھی اس بات کا  قوی اندیشہ رہتا ہے کہ مستقبل میں کسی مستقل معذوری کا شکار ہو جائے۔ انہی نقصانات کے پیشِ نظر سندھ گورنمنٹ نے Breastfeeding 2012,Act اور 2023 میں فارمولا ملک کی تشہیر اور پروموشن پر مستقل پابندی بھی عائد کر دی ہے ۔

اس ضرورت کے لیے  ایک قدیم طریقہ،جو بہت بہتر ہے، کہ  ان بچوں کو کسی دوسری خاتون کا دودھ فراہم کیا جائے۔ ایسے بچوں کی ضرورت پوری کرنے کے لیے  یہ بہت آئیڈیل اور بہترین متبادل ہے، پھر اس کی دو صور میں ہو سکتی ہیں، ایک یہ کہ ضرورت کے وقت کسی ایسی خاتون کا انتظام کیا جائے جو بچے کو دودھ پلا دیں۔ یہ قدرتی نظام کے بہت قریب اور ایسی صورت ہے جس میں کسی کو اختلاف نہیں، لیکن اس میں چند مشکلات سامنے آئیں کہ جہاں مسئلہ ایک دو بچوں کا ہو وہاں تو ضرورت کے وقت ایسی خواتین کا ملنا نسبتاً آسان ہوتا ہے،لیکن جہاں ایسے بچوں کا انتہائی نگہداشت کا وارڈ   (NICU) ہو  اور وہاں موجود بچوں کی ایک بڑی تعداد مستقل مستقل رہتی ہو، وہاں ایسی خواتین کا انتظام کرنا  بعض اوقات بچے کے سر پرست اور ہسپتال کی انتظامیہ کے لیے تقریباً ناممکن ہوتا ہے، ایسی صورت میں عام طور سے ہسپتال کی انتظامیہ چونکہ کوئی مستقل انتظام نہیں کر سکتی؛ اس لیے بچے کے گھر والوں سے کہہ دیا جاتا ہے کہ اپنے طور  پر انتظام کر لیں، اور لوگ خود  اس کا انتظام کرتے ہیں، لیکن ایک بڑی تعداد میں لوگ اس کا انتظام نہیں کر پاتے ، جس کی مختلف وجہ ہو سکتی ہیں، مثلا وہ کسی دوسرے شہر سے آئے ہوئے ہیں یا وہ یہاں کے رہائشی ہیں، لیکن ان کی جان پہچان یا خاندان میں کوئی ایسی خاتون نہیں ہیں جو اس بچہ کو دودھ پلا سکیں۔ یا موجود ہیں لیکن وہ اس خدمت کے لیے   راضی نہیں ہیں۔ ایسی صورت میں صرف انسانی دودھ میسر نہ ہونے کی وجہ سے کئی معصوم جانوں کو خطرہ  لاحق ہو جاتا ہے۔ (اور یہ ایک بڑی وجہ ہے کہ پاکستان نومولود بچوں کے Mortality rate یعنی شرح اموات میں NPR کی رپورٹ کے مطابق top three ممالک میں شمار ہوتا ہے ۔ اور یونیسیف کی دو سال پہلے کی رپورٹ کے مطابق ایک لاکھ دو ہزار (۱۰۲۰۰۰) بچے پاکستان میں صرف انسانی دودھ  نہ ملنے کی وجہ سے فوت ہو جاتے ہیں۔

جب بچہ گھر جاتا ہے تو ہم اس وقت اس سے معلوم کرتے ہیں کہ یہاں کسی قسم کی پریشانی تو نہیں ہوئی؟ اس سوال کے ضمن میں کچھ کیسز  میں ہمیں معلوم ہوا کہ ایک صاحب 12سے زائد مختلف خواتین کا دودھ ہمارے پاس لائے تھے ، کیونکہ ہمارے پاس ابھی کوئی سسٹم نہیں ہے اور ڈاکٹر ان کو پابند کرتا ہےکہ بچہ کے لیے انسانی دودھ ہی ضروری ہے جب  ان صاحب سے پوچھا گیا کہ ایسا کیوں کیا؟  اور اس میں تو مسائل ہیں، تو ان کا کہنا یہی تھا کہ میرے لیے میر ا بچہ سب سے پہلا مسئلہ ہے، اسی طرح ایک صاحب نے بتایا کہ ایک بار دودھ  حاصل کرنے کے لیے  وہ 5000   دیتا رہا ہے۔ یہ تمام خدشات جو مدر ملک ڈائریکٹری کے بارے میں ہیں، یہ امور اس طرح کا ادارہ نہ ہونے کی وجہ سے ہمارے معاشرے میں ہو رہا ہے۔

اس ضروت کو سامنے رکھتے ہوئے سب سے پہلے اٹلی میں1407ء میں پہلا ہیومن ملک بینک قائم کیا گیا۔ اس کے بعد دنیا میں ملک بینک کا تصور مختلف حالات ، عوامل اور تجربات پر تدریجا gradually آتا گیا اور ویسٹرن کنٹریز اور ان کے بعد کئی غیر مسلم مشرقی ممالک میں بہت تیزی سے پھیل گیا، موجودہ صور تحال یہ ہے کہ 66 ملکوں میں 700 سے زیاد ہ ملک بینک قائم ہو چکے ہیں، جن میں زیادہ تر امریکہ، یورپ اور برازیل میں ہیں،  البتہ اسلامی ممالک میں ا س کی حوصلہ افزائی نہیں کی گئی،  جس کی وجہ مسئلہ رضاعت اور اس کے نتیجے میں اختلاطِ نسب کے حوالے سے تحفظات تھے۔ چند ممالک میں اس کی اجازت دی گئی ہے، ان کی تفصیل حسبِ ذیل ہے:

ایران اور ملیشیا:

ان دونوں ممالک میں ہیو من ملک بنا ہوا ہے، ایران میں تو رضاعت تبھی ثابت ہوتی ہے جب بچہ ماں کی چھاتی سے بر اہ ر است پیے؛ اس لیے وہاں ان کی نزدیک رضاعت کا مسئلہ پیش نہیں آتا۔ اس کے باوجود ایران اور ملائیشیا میں بھی ہیو من ملک بینک ون چائلڈ، ون مدر (ایک عورت کا دودھ ایک بچے کو) بنیاد پر ہی قائم ہے۔ان کے علاوہ دبئی کویت اور چند دیگر عرب ممالک میں بھی ایسے بچوں کو ہیومن ملک فراہم کیا جاتا ہے، لیکن وہ پاؤڈر شکل میں ہوتا ہے، اس میں مختلف خواتین کے  دودھ  کو قیمۃً وصول کر کے مختلف مراحل سے گزارا جاتا ہے، اور یہ دودھ ساس فرانسسکو میں موجود ایک ادارہ ایکسپورٹ کرتا ہے، اس دودھ میں  کئی سارے اجزاء کم ہونے کے باوجود یہ فارمولا ملک سے بہت بہتر ہوتا ہے۔

نو مولود بچوں کے حوالے سے مذکورہ بالا مسئلہ پاکستان میں بھی کافی عرصہ سے پیش آرہا تھا، ورلڈ بینک گروپ کی 2022 کی رپورٹ کے مطابق ہر 1000 میں سے 39 نو مولود بچے مر جاتے ہیں ، اور یونیسیف کی ایک رپورٹ کے مطابق ہر 100 میں سے 16 بچے preterm پیدا ہوتے ہیں۔ اسی ضرورت کی وجہ سے ہیومن ملک کے بارے میں سوچا گیا اور علماء کرام سے راہنمائی حاصل کی گئی۔

(3) حصول کا طریقہ کار :

عام طور سے ہیومن ملک بینک خواتین کو ترغیب دیتے ہیں کہ اپنا دودھ ڈونیٹ کر دیں ، اس کے لیے  ان کو بتایا جاتا ہے کہ انسانی جان بچانےکے لیے  ان کا یہ قدم کتنا ضروری ہے، غیر مسلم ممالک میں ڈونیشن کے علاوہ اس کی باقاعدہ قیمت دیے جانے کا بھی امکان ہے، لیکن اسلامی قانون کے مطابق دائی خاتون کو اجرت پر لینا تو جائز ہے، لیکن دودھ کی قیمت ادا کرنا اور اس کی با قاعدہ خرید و فروخت کر نادرست نہیں ہے، اس لیے ملک بینک کے لیے تیار کی گئی شرائط میں یہ بات شامل کی گئی ہے کہ ان خدمات کا کوئی معاوضہ نہیں دیا جائے گا، اور اس متبادل نظام ( مدر ملک ڈائر یکٹری) میں بھی اس بات کی رعایت رکھی گئی ہے کہ خواتین کو محض ترغیب دی جائے، کوئی مالی معاوضہ فراہم نہ کیا جائے۔ نیز چونکہ انسانی دودھ بہت جلد جراثیم سے آلودہ ہو جاتا ہے، اور ساتھ ہی قدرت کا یہ تحفہ بآسانی میسر ہوتا ہے؛ اس لیے اس کی درآمد یا برآمد کا تصور فی الحال کہیں موجود نہیں، البتہ اس کو پاوڈر فارم میں کر دیا جائے تو  اس کی  خرید و فروخت کی جاتی ہے اور مڈل ایسٹ میں یہ پاؤڈر دستیاب ہے۔ واضح رہے کہ یہ پاؤڈر غیر معمولی طور پر مہنگا ہوتا ہے؛ اس لیے ترقی پذیر ممالک میں ان کا استعمال نہیں کیا جاسکتا۔

یہ دودھ خواتین میں کب تک باقی رہتا ہے یہ ہر عورت کی صحت اور دیگر عوامل پر منحصر ہے، اور یہ بچے کے لیے  دو سال کے بعد بھی اتناہی فائدہ مند ہے جتنا شروع میں، لیکن چونکہ عمر بڑھنے کے ساتھ بچہ کو مزید غذائیت کی ضرورت ہوتی ہے، اس لیے دودھ میں کوئی تغیر نہ آنے کے باوجود رضاعت کی عمر کے بعد عام طور سے یہ بچوں کے لیے  کافی نہیں ہوتا۔ اور ان کو دوسری غذاء  شروع کر واناضروری ہوتا ہے۔

(4-5-6) محفوظ رکھنے کا طریقہ کار ، بچوں کو دودھ کی فراہمی، مطلوبہ مقدار :

ملک بینک میں دودھ کو محفوظ رکھنے  کے لیے  Pasteurization اور اس کو فریز کرنے کے علاوہ مزید کوئی عمل نہیں کیا جاتا،نہ اس میں کوئی چیز شامل کی جاتی ہے۔ پاسچرائزیشن میں دودھ کو ایک خاص ٹیمپریچر تک گرم کیا جاتا ہے، جس کے نتیجہ میں کچھ Fat کم ہو جاتے ہیں یا بعض دفعہ ممکنہ طور پر پروٹین کے DNA ڈی نیچر ہو جاتے ہیں۔ اسی طرح اس عمل کے نتیجے میں Stem cells ختم یا کم ہو جاتے ہیں، لیکن نہ تو اس کے نام یا خاصیات میں تبدیلی آتی ہے، نہ استعمال اور شکل میں کوئی فرق آتا ہے۔ لہذا  اس عمل کے بعد بھی یہ دودھ کے ہی حکم میں ہے اور اس کے پینے سے بچہ کا رضاعی رشتہ قائم ہو جائے گا۔

ایک بچہ کو دن بھر میں کتنے دودھ کی ضرورت ہوتی ہے، یہ مختلف عوامل مثلا عمر یا وزن وغیر ہ کے حساب سے مختلف ہوتی ہے ، اوسطاً کہا جائے تو ایک بچہ کی ضرورت 180 ملی لیٹر فی کلو ہوتی ہے، لیکن شروع میں اس کے اندرونی نظام کو عادی بنانا ہوتا ہے کہ وہ اس دودھ کو قبول کرنے لگے ، اس لیے پہلے اس کو 80  ملی لیٹر فی کلو کے حساب سے شروع کرواتے ہیں اور پھر تھوڑی تھوڑی مقدار روزانہ بڑھاتے ہیں، تقریبا ایک ہفتہ بعد وہ  180  ملی لیٹر فی کلو کے حساب سے لینے لگتا ہے۔ 

ایک خاتون بچے کے لیے  کتنا دودھ فراہم کر سکتی ہیں، اس کی کوئی خاص مقدار مقرر کرنا مشکل ہے، کبھی ایک خاتون کا دودھ اپنے بچے  کے لیے  بھی بمشکل پورا ہوتا ہے اور کسی دوسری خاتون کا دودھ  ایک سے زائد بچوں  کے لیے  کافی ہونے کے بعد بھی باقی رہتا ہے۔ اس لیے اس کی کوئی مقدار بیان کرنا مشکل ہے۔

یہ دودھ ایسے بچوں کو 34 ہفتے کا ہونے تک دیا جاتا ہے، اور اس دوران بھی کوشش کی جاتی ہے کہ بچہ براہ ر است دودھ  چھاتی سے  لینے لگے، اور ماں کے بارے میں کوشش کی جاتی ہے کہ اس کا دودھ آنے لگے، اس مقصد کے لیے  اس کو مختلف غذاء  یا دواء  اور طریقہ کار سمجھایا جاتا ہے اور پوری کو شش کی جاتی ہے کہ ماں کا اپنا دودھ آنے لگے۔ جب ماں کو دودھ آنے لگے اور بچے میں چوسنے کی صلاحیت پیدا ہو جائے تو ٹیوب سے دودھ دینا بند کر دیا جاتا ہے۔

جن خواتین کا دودھ دوسرے بچوں کو فراہم کیا جاتا ہے ان خواتین کا پہلے میڈیکل چیک اپ کیا جاتا ہے اور کسی متعدی بیماری کا یقین نہ ہونے کی صورت میں ہی اس سے دودھ لیا جاتا ہے، مزید یہ کہ اس کو پاسچرائزیشن کے عمل سے گزارا جاتا ہے؛ تا کہ اگر کہیں جراثیم رہ گئے ہوں تو وہ بھی ختم ہو جائیں۔ اس عمل کے بعد اگر انسانی دودھ کو اس کے مطلوبہ درجہ حرارت پر فریز کیا جائے تو چھ ماہ تک بھی وہ قابل استعمال رہتا ہے، لیکن بہتر یہی ہے کہ ایک ماہ سے قبل استعمال ہو جائے ۔

(7) ریکارڈ کو محفوظ رکھنے کا طریقہ :

مذکورہ متبادل نظام مدر ملک ڈائریکٹری میں بھی ہیومن ملک بینک کے لیے سوچے گئے نظام کی طرح ریکارڈ کو محفوظ رکھنے کے لیے ایک فارم بنایا جائے گا،  جس میں پہلے ان خاتون کا مکمل ڈیٹا ہو گا، جو یہ خدمت انجام دے رہی ہو گی، (مکمل ڈیٹا سے مراد نام، زوجیت ، رہائش، شناختی کار ڈ نمبر و رابطہ نمبر و غیره ہے)  اس فارم کے دوسرے حصہ میں جس بچے کو دودھ فراہم کیا جائے گا اس کے والدین کا نام ، جنس ، وقت پیدائش، والدین کے شناختی کارڈ کی کاپی ، اور مکمل پتہ و غیر و درج کیا جائے گا۔ اس فارم پر رضاعت کا مسئلہ بھی تحریر ہوگا، جو پہلے زبانی سمجھایا جائے گا، پھر اس فارم کی ایک ایک کاپی دونوں فیملیز کو دیدی جائے گی اور ایک کاپی ہسپتال کے ریکارڈ میں محفوظ رکھی جائے گی۔ اس کے علاوہ یہ سارا ریکارڈ سافٹ وئیر کے ذریعہ ہمارے ریکارڈ میں سافٹ کاپی کی شکل میں بھی محفوظ ہوگا۔

نیز رضاعی رشتوں کے ریکارڈ کو محفوظ رکھنے  کے لیے  نادرا کو بھی درخواست دی گئی ہے، لیکن وہ ایک اضافی احتیاط کے طور پر ہے ، ہمارے نظام کا اصل دار و مدار اسی ریکار ڈ پر ہے جو خود ہمارے پاس محفوظ ہوگا اور دونوں خاندانوں کو فراہم کیا جائے گا۔ ہر دفعہ شرعی شہادت قا ئم کرنا عملا ایک ایسا کام ہے جس کی مکمل پابندی مشکل ہے۔ اس لیے اس کا با قاعدہ کوئی انتظام نہیں کیا گیا ہے، البتہ ان ڈیوٹی ڈاکٹر متعلقہ اسٹاف اور جس عالم دین کی نگرانی میں یہ سارا پروسس ہو گا وہ بھی اس سارے معاملے کے چشم دید گواہ ہوتے ہیں، اس لیے شہادت قائم کیے جانے کی بات خود ہی پوری ہو جاتی ہے۔

ہیومن ملک بینک کے متبادل نام کے حوالے سے عرض ہے کہ ہیومن ملک بینک پر علماء کرام کے تحفظات کی وجہ سے اس کو نام " مدر ملک ائر یکٹری" کردیا گیا ہے۔ یہ صرف اس  کا نام نہیں بدلا گیا، بلکہ عملی طور پر بھی  اس میں تبدیلی کی گئی کہ مختلف خواتین کے دودھ کو یکجا (مکس)  نہیں کیا جائے گا۔

تحریر:

انتظامیہ سندھ انسٹیوٹ آف چائلڈ ہیلتھ اینڈ یو نیو لوجی

جواب

ہیومن ملک بینک کے قائم کرنے کے حکم کے بیان سے قبل بطورِ تمہید چند باتیں ذکر کی جاتی ہیں:

اولاً:

سوال میں جتنی تفصیل سے اس مسئلہ کی وضاحت کی گئی ہے اور جس طرح تمام جزئیات کے احاطے کے ساتھ اس مسئلہ کی اہمیت اور ضرورت کو بیان کیا گیا ہے اس کی روشنی میں یہ بات بخوبی کہی جا سکتی ہے کہ جو ادارہ ہیومن ملک بینک کے قیام کا خواہشمند ہے وہ ادارہ، وہاں کی انتظامیہ  اور وہاں کے ذمہ داران واقعی اپنے مشن اور ارادوں میں نہایت  مخلص ہیں، اور ان کی یہ سعی ممنون و مشکور بھی ہے، قبل از وقت پیدا ہونے والے بچوں کی فکر کرنا سراسر نیکی کا کام ہے، لیکن  نیکی کے لیے بھی یہ بات نہایت اہم ہے کہ وہ نیکی شریعت کی تعلیمات اور اصولوں کے مطابق کی جائے؛ کیوں کہ اگر نیکی کا کام بھی شریعت کے اصولوں سے ہٹ کر کیا جائے گا تو وہ وبال کا سبب بن سکتا ہے، لہذا شریعت کے آئینے میں اس مسئلہ پر غور کرنا ضروری ہے۔

ثانیاً:

ہیومن ملک بینک کے قیام کا تعلق براہِ راست رشتوں کی حرمت اور حلت سے ہے، ذرا سی بے احتیاطی کی وجہ سے بیسیوں رشتے خراب ہو سکتے ہیں، متعدد لڑکے اپنی محرم سے ہی نکاح کے بندھن میں بندھ سکتے ہیں اور  ساری زندگی حرام کاری کے مرتکب ہو سکتے ہیں؛ اس لیے اس مسئلہ کے حل کے لیے دور اندیشی اور باریک بینی سے کام لینا نہایت ضروری ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ ماں کا دودھ کسی بچے کو پلا دینا محض ایک بچے کا رشتہ اس عورت سے نہیں جوڑتا، بلکہ اس ایک مرتبہ کا دودھ پلا دینا کئی رشتوں کے حرام ہونے کا سبب بن جاتا ہے، ابتدائی طور پر رضاعت  کی بنیاد پر  بچے/ بچی  اور دودھ پلانے والی عورت کے درمیان محرمیت کا رشتہ پیدا ہوتا ہے، پھر اس بچے/ بچی  اور دودھ پلانے والی کے شوہر کے درمیان حرمت (نکاح کی ممانعت) پیدا ہوتی ہے، پھر اس کے بعد دیگر رشتے بھی حرام ہوتے چلے جاتے ہیں۔ (1)

دودھ پلانے والی عورت کی ماں  اس بچے کی نانی بن  جاتی ہے۔

دودھ پلانے والی کی بہن  اس بچے کی خالہ بن جاتی ہے۔

دودھ پلانے والی کی بیٹی  اس بچے کی بہن بن جاتی ہے۔

اس بیٹی کی بیٹی وغیرہ نیچے کی نسلیں اس کی بھانجیاں بن جاتی ہیں۔

جس مرد کی وجہ سے عورت کو دودھ آیا ہے، اس مرد کی بیٹیاں بھی دودھ پینے والے بچے کی بہن بن جاتی ہیں۔

اس کی بیٹی اور اس کی بیٹی کی بیٹی نیچے تک سب اس کی بھانجیاں بن جاتی ہیں۔

جس مرد کی وجہ سے عورت کو دودھ آیا ہے، اس کی ماں  دودھ پینے والے کی دادی بن جاتی ہے۔

جس مرد کی وجہ سے عورت کو دودھ آیا ہے، اس کی بہن اس کی پھوپھی بن جاتی ہے۔

یعنی رضاعت کے ذریعے وہ تمام رشتے جو نسب سے حرام ہوتے ہیں، وہ دودھ کے ذریعے بھی حرام ہو جاتے ہیں۔

چناں چہ ایک مرتبہ کی رضاعت سے متعدد رشتوں کی حرمت ثابت ہوتی ہے، لہذا خوب احتیاط کی  ضرورت ہے۔

ثالثاً:

شریعت چوں کہ انسان کی فطرت سے بخوبی واقف ہے اور اس کو انسانی کمزوریوں کا بھی خوب ادراک ہے؛ اس لیے شریعت نے انسانی ضروریات کا بھرپور خیال رکھا ہے اور ضرورتِ شدیدہ  کے وقت محظورات کو مباحات قرار دیا، خود قرآن مجید میں "فمن اضطر في مخمصة" (المائدة، 3) اور "الا ما اضطررتم اليه" (الانعام، 119)سے انسانی ضروریات کے پیشِ نظرشدید مجبوری اور اضطراری کی حالت میں  حرام اشیاء کے استعمال کی اجازت بھی دی گئی، لیکن اس موقع پر ممکنہ پیش آمدہ ضرورت اور حقیقی ضرورت  میں بسا اوقات  خلط کر دیا جاتا ہے، شریعت نے جس ضرورت کا اعتبار کیا ہے وہ حقیقی ضرورت ہے اور اسی حقیقی ضرورت کے موقع پر ممنوعات کے استعمال کی اجازت دی، یعنی: جب خارج اور نفس الامر میں ضرورت کا تحقق ہو چکا ہو تو ممنوعات کا حکم مباحات میں بدل جاتا ہے، لیکن مستقبل میں  محض کسی ضرورت کے  امکانی وجود کا کوئی اعتبار نہیں کیا ہے، لہذا ایسی امکانی یا موہومی ضرورت کے پیشِ نظر محظورات کا ارتکاب کرنا کسی طرح جائز نہیں۔

رابعاً:

 ماں کا دودھ جزءِ انسان ہونے کی بناء پر احتراماً و تکرماً  فی نفسہ مباح الاستعمال نہ تھا، بلکہ یہ ایک ممنوع الاستعمال مادہ تھا(2)، لیکن بچے کی ضرورت اور جسم کی بڑھوتری کا واحد ذریعہ ہونے کے پیشِ نظر اس كو جائز قرار دیا گیا ہے اور اصول فقہ و ضوابطِ شرع سے ادنیٰ مناسبت رکھنے والا طالبِ علم بھی جانتا ہے کہ ضرورت کی بنیاد پر جائز قرار دی جانے والی چیز کا جواز صرف مقامِ ضرورت تک محدود رہتا ہے، مقامِ ضرورت سے ہٹ کر دیگر مقامات کی طرف جواز کے تعدیہ کی اجازت نہیں، خاص کر امکانی اور موہومہ ضرورت کے مقامات کی طرف۔

خامساً:

نیز واضح رہے کہ کسی بھی نظام کی ابتداء مختصر صورت سے ہوتی ہے، لیکن انتہاءً نظام میں بسط اور پھیلاؤ ایک فطری امر ہے، پھر  وقت گزرنے کے ساتھ مذکورہ بینک کی شاخوں کا قیام اور دیگر اداروں، محکموں اور ہسپتالوں کی طرف سے اس طرح کے مزید بینکوں کے قائم کیے جانے کا قوی امکان ہے، اور ہر ادارے کے منتظمین کو مسئلہ کی حساسیت باور کرانا مشکل کام ہو گا اور پھر ہر ادارے کے منتظمین کی دیانت اور امانت داری کا برقرار رہنا اور نہ رہنا بھی ایک اہم مسئلہ ہے، لہذا اگر سوال نامہ میں ذکر کردہ فوائد اور ضروریات کے پیشِ نظر ہیومن ملک بینک کے قیام کی کھلی اجازت دے کر اس کے جواز کا فتویٰ جاری کر دیا  جائے تو مستقبل قریب یا بعید میں رضاعت کے مسئلہ میں خلط ملط ہونے اور لا شعوری میں محرم کے ساتھ ازدواجی رشتے کے رواج پڑ جانے کا قوی اندیشہ ہے، لہذا خوب غور و خوض کے بعد جو بات واضح ہوئی وہ درج کی جاتی ہے:

ہیومن ملک بینک کے قیام کا حکم

ہیومن ملک  بینک کے قیام کے لیے جس بات کو بنیاد بنایا جاتا ہے وہ قبل از وقت پیدا ہونے والے بچوں کے لیے ماں کے دودھ کا  ضروری ہونا ہے، یہ بات ایک مسلّم حقیقت ہے کہ غذائیت، شفافیت اور افادیت میں ماں کے دودھ کا کوئی بدل نہیں، یہ دودھ ہر بچہ کے لیے ناگزیر ہے، خاص طور پر وہ بچہ جو اپنے وقت سے پہلے پیدا ہوا ہو، اس کے لیے اس دودھ کی ضرورت اور زیادہ بڑھ جاتی ہے، لیکن سمجھنا چاہیے کہ شریعت نے ان سب باتوں کی نہ صرف یہ کہ رعایت رکھی ہے، بلکہ اس کا بدل بھی دیا ہے، چناں چہ کسی بھی بچے کے لیے ضرورت کے موقع پر اپنی ماں کے علاوہ دوسری عورتوں کا دودھ  پینا جائز رکھا گیا ہے(3)؛ تا کہ نومولود کی ضرورت بسہولت پوری ہو سکے اور اس میں کسی قسم کی دقت پیش نہ آئے۔

اب سوال یہ ہے کہ کیا مذکورہ ضرورت کے پیشِ نظر ہیومن ملک بینک قائم کر دیے جائیں اور اس کی یہ صورت اختیار کی جائے کہ مائیں اپنا اضافی دودھ لا کر بینک میں جمع کروا دیا کریں اور اس دودھ کے ضرورت مند بچوں کے سرپرست اس جمع شدہ دودھ میں سے حسبِ ضرورت لے جایا کریں؟ تو شرعی نصوص اور مزاجِ شریعت میں غور کرنے سے اس کا جواب نفی میں ملتا ہے۔

اس اجمالی جواب کی تفصیل  یہ ہے کہ فقہاء کی تصریح کے مطابق  بچوں کو ماں کا دودھ پلانا محض ضرورت  کی وجہ سے  جائز قرار دیا گیا ہے، ورنہ انسان کا دودھ انسان کا جزء ہونے کی وجہ سے قابلِ احترام اور نا قابلِ استعمال ہونا چاہیے تھا، (4) پھر جب ضرورت کی وجہ سے اس کے استعمال کو جائز قرار دیا گیا ہے تو ضرورت کے بقدر ہی اس کی اجازت دی جائے گی (5) اور  ضرورت  اس  صورت  میں پوری ہو جاتی ہے جب بچے کو ماں یا ماں کے علاوہ کسی دوسری عورت  کا دودھ براہِ راست پلا دیا جائے، جیسا کہ ضرورت اور مجبوری کے موقع پر جان بچانے کے لیے حرام اشیاء کے استعمال کی اجازت دی گئی ہے، (6) لیکن یہ اجازت ایک محدود مقدار میں محدود وقت کے لیے ہے، (7)  یہ مطلب نہیں کہ باقاعدہ حرام کھانوں کے لیےادارے کھول دیے جائیں اور حرام کھانوں کے ضرورت مند آ کر اس کو حسبِ ضرورت لے جایا کریں۔

اسی وجہ سے فقہاء نے صراحت فرمائی ہے کہ مدتِ رضاعت کے بعد ماں کا دودھ پلانا حرام ہے، اس لیے کہ یہ انسان کا جزء ہے، محض ضرورت کی بنیاد پر اس کا استعمال روا رکھا گیا تھا، یہ ضرورت مدتِ رضاعت کے اندر پائی گئی تو اجازت بھی دی گئی، ضرورت پوری ہونے کے بعد استعمال کی اجازت نہ ہو گی۔(8)

بات یہ ہے کہ ضرورت کے موقع کے لیے جو  اجازت دی جاتی ہے ان کو ضابطہ کی شکل نہیں دی جاتی، ورنہ وہ رسمی بن کر معمول بن جایا کرتی ہیں،  اور مسئلہ ہذا میں اگر ماں کا دودھ مختلف خواتین سے جمع کر کے متفرق بچوں کو دیا جانے لگا تو اس سے رضاعی رشتوں میں خلط کا بہت قوی اندیشہ ہے  اور رضاعت کے باب میں  اگر کبھی کوئی شبہ پیدا ہو جائے تو اس کا بھی اعتبار کرتے ہوئے رضاعی رشتہ کو ثابت مانا جاتا ہے، جیسا کہ  رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں ایک سیاہ فام خاتون نے یہ دعوی کیا کہ انہوں نے حضرت عقبہ رضی اللہ عنہ اور ان کی بیوی کو دودھ پلایا ہے تو حضرت عقبہ رضی اللہ عنہ نے اس بات کا ذکر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  نے اپنا چہرہ مبارک پھیر لیا اور مسکرا کر فرمایا: اب جب کہ ایک بات کہہ دی گئی تو اب اپنی بیوی کو اپنے سے جدا کر دے(9)، یہی علت بینک ہذا کے قیام کے لیے سب سے بڑی رکاوٹ معلوم ہوتی ہے۔

نیز اس مسئلہ کی نزاکت کے پیشِ نظر فقہائے کرام نے کتبِ فقہ میں یہ بھی لکھا ہے کہ عورتوں پر لازم ہے کہ دوسری عورتوں کے بچوں  کو بغیر کسی ضرورت اور مجبوری  کے  دودھ نہ پلائیں، لیکن اگر کسی وجہ سے دودھ پلا دیا ہو تو اس کو اہتمام کے ساتھ یاد رکھنا چاہیے یا لکھ لینا چاہیے (10)  کیوں کہ دودھ پلانے کی وجہ سے دودھ پلانے والی عورت اس بچے کی ماں بن  جاتی ہے  اور  اس کے حقیقی  بچے دودھ پلائے گئے  بچوں کے بھائی  بہن بن جاتے ہیں، ان کے علاوہ دیگر کئی رشتے حرام ہو جاتے ہیں، جس کی وجہ سے ان کا آپس میں رشتہ اور نکاح جائز نہیں ہوتا۔(11) اب اگر ملک بینک قائم کر کے اس طرح سینکڑوں عورتوں کا دودھ سینکڑوں بچوں کو پلایا جائے تو اس سے خلطِ نسب کا نہایت قوی اندیشہ ہے۔

باقی رشتوں کو خلط سے  محفوظ کرنے کے لیے جملہ ریکارڈ کو محفوظ رکھنا کچھ اگرچہ ناممکن  نہیں، نیز   ہسپتال انتظامیہ اور ادارے کے سامنے مذکورہ مسئلہ اہمیت کا حامل ہے اس لیے وہ تو اس کو اہمیت کی نگاہ سے دیکھتے ہوئے ہر چیز کو مرتب بھی کریں گے، محفوظ بھی رکھیں گے اور دودھ لینے والوں کو مسئلہ سے آگاہ بھی کریں گے، لیکن قوی اندیشہ  ہے کہ دودھ لینے والے ان باتوں کا اہتمام نہ کریں، ریکارڈ محفوظ نہ رکھ سکیں یا  کچھ عرصہ تک ریکارڈ محفوظ رکھنے کے بعد مزید کچھ عرصہ گزر جانے کے بعد وہ ان مسائل کو بھلا بیٹھیں یا دودھ لینے والے تو ان مسائل کا اہتمام کریں اور ان کی اولاد مسئلہ کی حساسیت سے ناواقف ہونے کی بناء پر اس میں لا پرواہی کرنے لگیں۔

ایک شرعی ضابطہ، جس کا ذکر کرنا یہاں ناگزیر ہے، وہ یہ ہے کہ اگر انسان کے کسی عمل میں فائدہ بھی ہو اور نقصان بھی ہو تو شریعت کی نظر میں فائدے کے حصول سے بہتر یہ ہے کہ نقصان سے بچنے کی خاطر اس عمل کو ترک کر دیا جائے،(12) فائدہ کا حصول اتنا ضروری نہیں، جتنا نقصان سے بچنا ضروری ہے، لہذا ہیومن ملک بینک کے قیام میں ظاہراً فوائد ضرور ہیں، لیکن نقصان بھی واضح ہے، اور ایسےموقع پر شریعت یہی راہ نمائی کرتی ہے کہ نقصان سے بچتے ہوئے اس عمل کو ترک کر دیا جائے۔

نیز شریعت نہ صرف حرام کاموں سے روکتی ہے، بلکہ ان تمام باتوں اور راستوں سے بھی منع کرتی ہے جو انسان کو حرام تک پہنچا سکتے ہیں، یہ اصول "سدّ ذرائع" کہلاتا ہے،(13) اور ہیومن ملک بینک کا قیام بھی بذاتِ خود  شرعی محظور تو نہیں، لیکن واسطہ ضرور ہے، اس لیے اس سے بچنا شرعی حکم ہے۔

پھر ہیومن ملک بینک کے قیام کے  جواز کے لیے یہ بات بھی بہت قوت سے کہی جاتی ہے کہ ماں کا دودھ دستیاب نہ ہونے کی وجہ سے ہر سال بیسیوں قبل از وقت پیدا ہونے والے بچے وفات پا جاتے ہیں جس کی وجہ سے ملک بینک کا قیام ناگزیر ہے، لیکن یہ دلیل بھی کمزور ہے،  اس کا کچھ بیان اشارۃً گزشتہ سطور میں ہوا، جس کا حاصل یہ ہے کہ  ضرورت کی وجہ سے جو امور جائز قرار دیے جاتے ہیں ان میں ضرورت کے تحقق سے پہلے اس کی تیاری اور اس کا نظم بنا دینا شرعی اصولوں کی رو سے درست نہیں، ضرورت کے تحقق کے بعد ہی شرعی حدود کے اندر اس کا انتظام کیا جائے گا اور اس انتظام سے مراد یہ ہے کہ کسی ایسی خاتون کا بندوبست کر دیا جائے جو بچہ کو دودھ پلا دے،   بچوں کی پیدائش سے پہلے محض موہومی بیماری اور متوقع ضرورت کے پیشِ نظر شرعی حدود سے تجاوز کرتے ہوئے ماؤں کا دودھ جمع کرنا اور  بینک کا انتظام کرنا شرعی اصولوں کے خلاف ہونے کی وجہ سے  ناجائز  ہو گا۔

سوال نامہ میں ہیومن ملک بینک کی کارگزاری کے طور پر دیگر ممالک میں قائم شدہ ہیومن ملک بینک کا تذکرہ بھی کیا گیا، تو واضح ہونا چاہیے کہ کسی بھی ملک کا ہر عمل ہمارے لیے ہزگر قابلِ تقلید نہیں ہے، خاص کر وہ ممالک جہاں مادر پدر آزاد معاشرہ ہو، حلال حرام کی بالکل تمیز نہیں کی جاتی ہو، جائز ناجائز کا خیال نہ رکھا جاتا ہو اور رشتوں کو خلط سے بچانے کا کوئی انتظام نہ ہو، نہ ہی کوئی سوچ ہو، اس لیے ان ممالک کی تقلید کرنا کوئی دانشمندی نہیں۔

بہرحال! ہیومن ملک بینک کے قیام کے سلسلے میں متعدد محظورات پائے جاتے ہیں، جن کا تفصیلی ذکر سابقہ سطور میں ہوا؛ اس لیے اس فعل میں دیگر ممالک کو نمونہ نہیں بنایا جائے گا۔

جواز کی صورت:

اگر باقاعدہ خواتین کے دودھ کو جمع نہ کیا جائے، بلکہ ضرورت کے متحقق ہونے کے بعد (یعنی: بچے کے قبل از وقت پیدا ہو جانے  اور دودھ کا انتظام نہ ہونے کی صورت میں) ہسپتال میں موجود کسی خاتون کو اس بات پر آمادہ کیا جائے کہ وہ اپنے بچے کے علاوہ ایک اور بچے کے لیے دودھ فراہم کر دیں تو درج ذیل شرائط کے ساتھ اس کی اجازت ہو گی، شرائط یہ ہیں:

پہلی شرط: تحققِ ضرورت سے پیشتر دودھ جمع نہ کیا جائے، بلکہ کسی بھی بچے کی پیدائش کے بعد اور اس کے لیے دودھ مہیا نہ ہونے کی صورت میں کسی خاتون کو  دودھ مہیا کرنے پر آمادہ کیا جائے۔

دوسری شرط: بچے کو جس خاتون کا دودھ پلایا جائے اس کا ڈیٹا محفوظ رکھا جائے، دونوں خاندانوں کو یہ مسئلہ زبانی بھی سمجھایا جائے اور  اس کا تحریری ریکارڈ بھی فراہم کیا جائے۔

تیسری شرط: اس سارے معاملہ میں فریقین کے مابین فیس کا کوئی تبادلہ نہ ہو، نہ دودھ دینے والی خاتون کو اجرت دی جائے اور نہ بچے کے سرپرست سے اجرت وصول کی جائے۔

چوتھی شرط: ایک خاتون کا دودھ ایک ہی بچے کو دیا جائے، متعدد خواتین کا دودھ یکجا نہ کیا جائے۔

اگر ان شرائط کی رعایت کی جائے اور اس کے مطابق کام کیا جائے تو امید ہے کہ کوئی شرعی محظور لازم نہ آئے گا۔

(1) بذل المجہود میں ہے:

"قال القرطبي: في الحديث دلالة على أن الرضاع ‌ينشر ‌الحرمة ‌بين ‌الرضيع ‌والمرضعة وزوجها، يعني الذي وقع الإرضاعُ بلبن ولده منها أو السيد، فتحرم على الصبي؛ لأنها تصير أمه، وأمها لأنها جدته فصاعدًا، وأختها لأنها خالته، وبنتها لأنها أخته، وبنت بنتها فنازلًا لأنها بنت أخته، وبنت صاحب اللبن لأنها أخته، وبنت بنته فنازلًا لأنها بنت أخته، وأمه فصاعدًا لأنها جدته، وأخته لأنها  عمته۔"

(اول كتاب النكاح ، باب يحرم من الرضاعة ما يحرم من النسب ، جلد : 7 ، صفحه : 600 ، طبع : مركز الشيخ ابي الحسن الندوي)

(2) فتاوی عالمگیری  میں ہے:  

"الانتفاع بأجزاء الآدمي لم يجز قيل للنجاسة وقيل للكرامة هو الصحيح كذا في جواهر الأخلاطي."

( کتاب الکراھیة ، الباب الثامن فی التداوی والمعالجات ، ج : 5 ، ص : 354 ، ط : دار الفکر بیروت)

(3) فتاویٰ ہندیہ میں ہے:

"امرأة ترضع صبيا بغير إذن زوجها يكره لها ذلك إلا إذا خافت ‌هلاك ‌الرضيع فحينئذ لا بأس به كذا في فتاوى قاضي خان."

(كتاب الكراهية ، الباب الثلاثون ، جلد : 5 ، صفحه : 372 ، طبع : دار الفكر)

(4)مبسوط سرخسی میں ہے:

"ولا نسلم أن اللبن غذاء على الإطلاق وإنما هو غذاء في تربية الصبيان لأجل الضرورة فهم لا يتربون إلا بلبن الجنس عادة كالميتة تكون غذاء عند الضرورة."

(كتاب الاجارات ، باب اجارة الظئر ، جلد : 15 ، صفحه : 126 ، طبع : دار المعرفة)

العناية شرح الهداية میں ہے:

"والثاني مسلم لأنه غذاء في تربية الصغار لأجل الضرورة فإنهم لا يتربون إلا بلبن الجنس عادة."

(كتاب البيوع ، باب البيع الفاسد ، جلد : 6 ، صفحه : 423 ، طبع : دار الفكر)

(5) الأشباه والنظائر لابن نجيم میں ہے: 

"الثانية: ما أبيح للضرورة يقدر بقدرها ولذا قال في أيمان الظهيرية: إن اليمين الكاذبة لا تباح للضرورة وإنما يباح التعريض، (انتهى) .

يعني؛ لاندفاعها بالتعريض،

ومن فروعه: المضطر لا يأكل من الميتة إلا قدر سد الرمق."

(الفن الاول ، صفحه : 73 ، طبع : دار الكتب العلمية)

درر الحكام في شرح مجلة الأحكام میں ہے: 

"(المادة 22) : ‌ما ‌أبيح ‌للضرورة يتقدر بقدرها.

أي أن الشيء الذي يجوز بناء على الضرورة يجوز إجراؤه بالقدر الكافي لإزالة تلك الضرورة فقط، ولا يجوز استباحته أكثر مما تزول به الضرورة. مثلا: لو أن شخصا كان في حالة الهلاك من الجوع يحق له اغتصاب ما يدفع جوعه من مال الغير لا أن يغتصب كل شيء وجده مع ذلك الغير، كذلك جوز البيع بخيار التعيين في شيئين أو ثلاثة لا أزيد كأربعة أشياء أو خمسة، إذ لا ضرورة تدعو للزيادة؛ لأن ‌ما ‌أبيح ‌للضرورة إنما يتقدر بقدرها."

(المقالة الثانية ، المادة 22 ، جلد : 1 ، صفحه : 38 ، طبع : دار الجيل)

(6) فتاوی شامی میں ہے:

"اختلف في التداوي بالمحرم، وظاهر المذهب المنع كما في رضاع البحر، لكن نقل المصنف ثمة وهنا عن الحاوي: وقيل: يرخص إذا علم فيه الشفاء ولم يعلم دواء آخر كما رخص الخمر للعطشان، وعليه الفتوى.

مطلب في التداوي بالمحرم (قوله اختلف في التداوي بالمحرم) ففي النهاية عن الذخيرة يجوز إن علم فيه شفاء ولم يعلم دواء آخر. وفي الخانية في معنى قوله عليه الصلاة والسلام «إن الله لم يجعل شفاءكم فيما حرم عليكم» كما رواه البخاري أن ما فيه شفاء لا بأس به كما يحل الخمر للعطشان في الضرورة، وكذا اختاره صاحب الهداية في التجنيس فقال: لو رعف فكتب الفاتحة بالدم على جبهته وأنفه جاز للاستشفاء، وبالبول أيضا إن علم فيه شفاء لا بأس به، لكن لم ينقل وهذا؛ لأن الحرمة ساقطة عند الاستشفاء كحل الخمر والميتة للعطشان والجائع. اهـ من البحر. وأفاد سيدي عبد الغني أنه لا يظهر الاختلاف في كلامهم لاتفاقهم على الجواز للضرورة، واشتراط صاحب النهاية العلم لا ينافيه اشتراط من بعده الشفاء ولذا قال والدي في شرح الدرر: إن قوله لا للتداوي محمول على المظنون وإلا فجوازه باليقيني اتفاق كما صرح به في المصفى. اهـ.

أقول: وهو ظاهر موافق لما مر في الاستدلال، لقول الإمام: لكن قد علمت أن قول الأطباء لا يحصل به العلم. والظاهر أن التجربة يحصل بها غلبة الظن دون اليقين إلا أن يريدوا بالعلم غلبة الظن وهو شائع في كلامهم تأمل."

(کتاب الطھارۃ ، باب المیاه ، جلد : 1 ، صفحه : 210 ، طبع :سعید)

(7) احکام القرآن للجصاص میں ہے:

"‌‌باب في مقدار ما يأكل المضطر

قال أبو حنيفة وأبو يوسف ومحمد وزفر والشافعي فيما رواه عنه المزني: لا يأكل المضطر من الميتة إلا مقدار ما يمسك به رمقه."

(من سورة البقرة ، ‌‌باب في مقدار ما يأكل المضطر ، جلد : 1 ، صفحه : 158 ، طبع : دار الكتب العلمية)

(8) فتاوی شامی میں ہے:

"ولم يبح الإرضاع بعد مدته) لأنه ‌جزء ‌آدمي والانتفاع به لغير ضرورة حرام على الصحيح شرح الوهبانية."

(كتاب النكاح ، باب الرضاع ، جلد : 3 ، صفحه : 211 ، طبع : سعيد)

(9)صحیح البخاری میں ہے:

"عن عقبة بن الحارث، قال: تزوجت امرأة، فجاءت امرأة فقالت: إني قد أرضعتكما، فأتيت النبي صلى الله عليه وسلم فقال: «وكيف ‌وقد ‌قيل، ‌دعها عنك» أو نحوه."

(کتاب الشهادات ، باب المرضعة ، جلد : 3 ، صفحه : 173 ، طبع : السلطانية)

(10)البحر الرائق شرح كنز الدقائق میں ہے:

"وفي الولوالجية: والواجب على النساء أن لايرضعن كل صبي من غير ضرورة، فإذا فعلن فليحفظن أو ليكتبن اهـ."

(كتاب الرضاع ، جلد : 3 ، صفحه : 238 ، طبع : دار الكتاب الاسلامي)

فتاویٰ ہندیہ میں ہے:

"والواجب على النساء أن لا يرضعن كل صبي من غير ضرورة وإن فعلن ذلك فليحفظن أو يكتبن، كذا سمعت من مشايخي رحمهم الله تعالى كذا في المضمرات."

(کتاب الرضاع ، جلد : 1 ، صفحه : 345 ، طبع : دار الفکر)

(11) بدائع الصنائع میں ہے:

"والأصل في ذلك أن كل اثنين اجتمعا على ثدي واحد صارا أخوين أو أختين أو أخا وأختا من الرضاعة فلا يجوز لأحدهما أن يتزوج بالآخر ولا بولده كما في النسب ... والأصل في هذه الجملة قول النبي - صلى الله عليه وسلم - «يحرم من الرضاع ما يحرم من النسب» فيجب العمل بعمومه إلا ما خص بدليل."

(كتاب الرضاع، فصل في المحرمات بالرضاع ، جلد : 4 ، صفحه : 2 ، طبع : دار الكتب العلمية)

فتاویٰ شامی میں ہے:

"يحرم من الرضاع أصوله وفروعه وفروع أبويه وفروعهم، وكذا فروع أجداده وجداته الصلبيون، وفروع زوجته وأصولها وفروع زوجها وأصوله وحلائل أصوله وفروعه".

(كتاب النكاح، فصل في المحرمات، جلد : 3 ، صفحه : 31 ، طبع : سعيد)

(12 ) درر الحکام میں ہے:

"درء المفاسد أولى من جلب المنافع.

أي: إذا تعارضت مفسدة ومصلحة يقدم دفع المفسدة على جلب المصلحة، فإذا أراد شخص مباشرة عمل ينتج منفعة له، ولكنه من الجهة الأخرى يستلزم ضررا مساويا لتلك المنفعة أو أكبر منها يلحق بالآخرين، فيجب أن يقلع عن إجراء ذلك العمل درءا للمفسدة المقدم دفعها على ‌جلب ‌المنفعة؛ لأن الشرع اعتنى بالمنهيات أكثر من اعتنائه بالمأمور بها. مثال: يمنع المالك من التصرف في ملكه فيما إذا كان تصرفه يورث الجار ضررا فاحشا."

(المقالة الثانية في بيان القواعد الكلية الفقهية ، جلد : 1 ، صفحه : 41 ، طبع : دار الجيل)

(13) البنایہ میں ہے:

"ما ‌يؤدي ‌إلى ‌الحرام يكون حراما."

(کتاب الاشربة ، جلد : 12 ، صفحه : 381 ، طبع : دار الكتب العلمية)

اعلام الموقعین میں ہے:

"ومن تأمل مصادرها ومواردها علم أن الله تعالى ورسوله سد الذرائع المفضية إلى المحارم."

(فصل في سد الذرائع ، جلد : 3 ، صفحه : 110 ، طبع : دار الكتب العلمية)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144611101235

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں