بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

28 محرم 1448ھ 14 جولائی 2026 ء

دارالافتاء

 

ہم شریعت کے مطابق نہیں، بلکہ پشتون روایات کے مطابق فیصلہ کریں گے ایسے الفاظ کہنے کا حکم / ہبہ مع القبض کا حکم


سوال

میں بچپن سے اپنے دادا کے ساتھ رہتاتھا ،میرےدادا کے دو بیٹے تھے ،دو نوں دادا سے الگ رہتے تھے ،میں نے اپنے دادا کی خدمت کی  دادا کی بہت جائیداد تھی ،دادا جس گھر میں رہتے تھے اس کے نچلے   فلور میں ایک کمرے  میں  چچا رہتے تھے (کسی کام کے خاطر فیملی وغیرہ سب کچھ دوسری جگہ تھی )،دادا جس گھر میں رہتے تھے وہ مجھے گفٹ کرنا چاہتے تھے ،دادا نے وصیت نامہ لکھا کہ میں نے یہ  گھر اپنے پوتے کو  دے دیا،ہمیں معلوم نہیں تھا  کہ ہبہ کےلئے قبضہ تام ضروری ہے ہم نے بنوری ٹاؤن سے  فتوی لیا ،تو انہوں نے کہا کہ دادا کا  اپنے پوتے کو بلڈنگ ہبہ کرنا  درست ہے ، اورہبہ کے لئے   قبضہ  کاتام  ہوناضروری ہے۔

پھر میں نے دادا کو بتایا تو دادا گھر سے مجھے لے کر باہر نکلے اور کہا کہ یہ گھر میں تمھیں دیتا ہوں، اس  بلڈنگ میں کرایہ دار بھی موجود تھے ، دادا نے سرکاری کاغذات میں یہ بلڈنگ  میرے نام کر دیا ،ان کی زندگی میں سارا کرایہ بھی میں وصول کرتا تھا ۔ پھر بعد میں  دوسری مرتبہ دادا نے  بلڈنگ مکمل سامان   کے ساتھ  مجھے ہبہ کردی، چچا جو نیچے ایک کمرے میں رہتے تھے وہ نہیں نکل رہے تھے حالاں کہ دادا نے ان سے کہا کہ نکلو  دادا نے سب کو بتایا تھا کہ یہ بلڈنگ میرے پوتے کی ہے میں نے  اس کو دے دی ۔

پھر دادا کے انتقال کے بعد چچا نے اس ہبہ  سے انکار کر دیا ، میں نے کہا کہ دادا نے شریعت کے مطابق  یہ بلڈنگ میرے نام کیا ہے ۔ چچا نے کہا کہ یہاں شریعت نہیں  ہے، اگر  شریعت چاہیے تو افغانستان جاؤ ۔ دادا نے فوت ہونے سے پہلے  کہا تھا کہ اگر یہ شرعاً نہیں  مانتے تو میں قانوناً تمہارے نام کرتا ہوں اور  سرکاری کا غذات وغیرہ بھی میرے نام کر دیے ۔

 دادا کے انتقال کے بعد جر گہ جائیداد کی تقسیم کے لئے بیٹھا  تو چچا اور جرگہ والے اس ہبہ  کو نہیں مان رہے تھے ،انہوں نے کہا ہم شریعت پر فیصلہ نہیں کریں گے ہم پشتو پر فیصلہ کریں گے، جرگے اور چچا نے یہ بلڈنگ جان بوجھ کر میرے والد کے حصے میں ڈال دی تا کہ میں اور والد آپس میں لڑیں ،اب والد نے اس بلڈنگ پر قبضہ کر لیا ہے ، اور کہتے ہیں کہ جرگے والوں نے مجھے دی ہے اور  مجھے اس بلڈنگ سے نکال دیا ہے ۔

اب سوال یہ ہے کہ  یہ گھر جو دادا نے مجھے دیا یہ شرعاً میرے قبضہ میں آگیا اور قبضہ تام ہوا یا نہیں ؟ اور میں اپنے والد کے خلاف قانونی کاروائی کر سکتا ہوں تا کہ ان کو اس بلڈنگ سے نکال دوں ؟ حالانکہ میں نے مفاہمت اور مصالحت کے لئے والد صاحب سے کہا کہ میں ایک فلور آپ کو رہائش کےلئے دیدوں گا ،لیکن وہ اس پر راضی نہیں ہیں۔

تنقح :(1)دادا نے ان الفاظ کے ساتھ ہبہ کردیا کہ"یہ بلڈنگ (گھر)میں نے آپ کو تحفے میں دے دیا"۔

(2)گھر کا یہ کرایہ  داری دادا نے میری طرف منتقل کرائی تھی  یعنی یہ کرایہ  دادا کی زندگی میں ،میں خودوصول کرتاتھا اور خود استعمال کرتاتھا۔اسی طرح دادانے ایک  کرایہ دار سے کہا کہ یہ گھر اب میرے پوتے کے  ہے لہذا اب کرایہ وغیرہ کے حوالے سے اس کے ساتھ بات چیت کیا کرے ۔

جواب

صورتِ مسئولہ میں سائل کا بیان اگر واقعۃً صحیح ہے کہ سائل کے دادا نے اپنی مذکورہ بلڈنگ  سامان سمیت سائل کو ہبہ کر دیا تھا ،اور بوقت ہبہ اس بلڈنگ سے دادا کچھ دیر کےلیے باہر نکل گیا تھا  اور اپنی زبان سے یہ الفاظ ادا کئے کہ "یہ بلڈنگ میں نے آپ کو تحفہ میں دی "، نیز ہبہ کے اس عمل کے بعد دادانے کرایہ داری کا معاملہ سائل کی طرف منتقل کردیاتھا اوراب کرایہ داروں  سےبھی یہ کہہ رہاتھا کہ اب میرا یہ پوتا(سائل )اس بلڈنگ کا مالک ہے ۔

مزید برآں سرکاری کاغذات میں بھی  دادانے یہ بلڈنگ سائل کے نام کروادی تھی ،اور مکمل مالکانہ قبضہ اور تصرف دے دیا تھا  تو ایسی صورت میں دادا کی طرف سے  سائل کے حق میں اس بلڈنگ کا ہبہ مکمل ہوگیاتھا ،اور یہ بلڈنگ سائل کی ملکیت میں آگئی تھی ،داداکی ملکیت سے نکل گئی تھی ،بعد ازاں جرگہ والوں کافیصلہ میں سائل کی ملکیتی یہ بلڈنگ سائل کے والد کے حصے میں دے دینا شرعاً جائز نہیں تھا ،یہ بلڈنگ دادا کا ترکہ نہیں ہے ،سائل کے والد پر لازم ہے  کہ یہ بلڈنگ سائل کے حوالہ کردے اپنا قبضہ ختم کردے  ورنہ گناہ ہوگا ،غاصب شمارہوگا ۔

سائل اس بلڈنگ کا قبضہ چھڑانےکےلیے  مناسب قانونی کاروائی کرنا  چاہیے (اگر مناسب سمجھے)تو کرسکتاہے ،تاہم اگر   افہام اور تفہیم سے مسئلہ حل کرنے کی گنجائش ہو تو والد صاحب  کے ساتھ خوش دلی سے معاملہ حل کریں۔

باقی زیر نظر مسئلہ میں مذکورہ معاملہ میں چچا  اور جرگے والوں کا یہ کہنا کہ" ہم شریعت پر فیصلہ نہیں کر یں گے ،بلکہ   پشتو ن روایت پر فیصلہ کریں گے " درست نہیں۔اس سے توبہ واستغفار کرنا لازم ہے ۔

فتاوی شامی میں ہے:

("وتتم) الهبة (بالقبض) الكامل

(قوله: بالقبض) فيشترط القبض قبل الموت."

(كتاب الهبة،ج:5،ص:690،ط:سعید)

فتاوی ہندیہ میں ہے:

"ولا يتم حكم الهبة إلا مقبوضة ويستوي فيه الأجنبي والولد إذا كان بالغا، هكذا في المحيط. "

(کتاب الھبة، الباب الثاني فيما يجوز من الهبة وما لا يجوز، ج: 4، صفحہ: 377، ط: دارالفکر)

فتاوی خیریہ میں ہے 

" سئل: في طائفة من الفلاحين دعوا إلى الشرع الواضح المبين؛ في قضية تتعلق بالجنايات من قتل وجراحات فأبوا قائلين: لا نعمل بالشرع، وإنما نعمل بدعائم العرب والفلاحين، ماذا يترتب عليهم بذلك شرعًا؟

أجاب: إن قالوا ذلك لاعتقادهم عدم حقيقة الشرع، أو استخفافًا؛ فلا ريب في كفرهم بإجماع المسلمين، ويجب أن يجرى عليهم أحكام المرتدين، وإن لم يكن واحدًا منهما، فقد اختلف في كفرهم، قال في جامع الفصلين: قال لخصمه: حكم الشرع كذا، فقال خصمه: (من برسهم كار مي كنم بشرع ني)؛ كفر، وقيل: لا، ومعنى هذه الألفاظ: أنا أعمل بالعادة لَا بِالشَّرْعِ . "

(کتاب السیر ،باب المرتدین،مطلب من قال لا أعمل بالشرع، بل أعمل بدعائم العرب ،ج:1،ص:106،ط:دارسعادت)

فتاوی ہندیہ میں ہے :

"إذا كان في المسألة وجوه توجب الكفر، ووجه واحد يمنع، فعلى المفتي أن يميل إلى ذلك الوجه كذا في الخلاصة في البزازية إلا إذا صرح بإرادة توجب الكفر، فلا ينفعه التأويل حينئذ كذا في البحر الرائق، ثم إن كانت نية القائل الوجه الذي يمنع التكفير، فهو مسلم، وإن كانت نيته الوجه الذي يوجب التكفير لا تنفعه فتوى المفتي، ويؤمر بالتوبة والرجوع عن ذلك وبتجديد النكاح بينه وبين امرأته كذا في المحيط."

 

(کتاب السیر،قبیل ،الباب العاشر في البغاة،ج:2،ص:283،ط:دارالفکر)

فقط واللہ اعلم .


فتویٰ نمبر : 144712101116

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں