بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

حکومتی اجازت کے بغیر سرکاری زمین پر بناۓ گئے مکانات کی خرید و فروخت، اس کے کرائے سے حاصل آمدنی کا شرعی حکم، اور فروخت شدہ رقم کی تقسیم و خرچ کا حکم


سوال

ہمارے علاقے میں کچی آبادی کے مکانات، یعنی غیر لیز شدہ گھر، کی خرید و فروخت عام ہے، یہ وہ مکانات ہوتے ہیں جو سرکاری زمین پر بنائے گئے ہوتے ہیں۔

1۔ شرعاً کچی آبادی کےمکانات، یعنی غیر لیز شدہ مکانات،  جو سرکاری زمین پر بنائے گئے ہوتے ہیں ،خریدنے کا کیا حکم ہے؟

2۔اگر کسی نے ایسا سرکاری مکان خرید کر آگے بیچ دیا ہو، یا وہ اسےگفٹ دیا گیا ہو اور اس نے اسے فروخت کر دیا ہو، تو اس کو بیچنے سے جو رقم حاصل ہوئی ہے شرعاً اس کا کیا حکم ہے؟

3۔اگر کچی آبادی کا سرکاری مکان کرائے پر دیا گیا ہو تو اس سے حاصل ہونے والے کرائے کا کیا حکم ہے؟

4۔اگر والد نے کچی آبادی کا سرکاری مکان بیچ کر اس کی رقم اپنی اولاد میں تقسیم کر دی ہو، تو اولاد کے لیے وہ رقم لینا جائز ہے؟

5۔اگر ایسے مکان کو بیچ کر حاصل کی ہوئی رقم خرچ ہو چکی ہو، تو اس خرچ شدہ رقم کا کیا حکم ہوگا؟

جواب

حکومت کی اجازت کے بغیر سرکاری زمین پر تعمیر کرنا جائزنہیں،لیکن اگر کسی شخص نے ایسی سرکاری زمین پر تعمیر کر لی ہو اور حکومت کی طرف سےکوئی رکاوٹ نہ ہو،تو شرعاً وہ شخص زمین کا نہیں بلکہ صرف اپنی تعمیر کا مالک شمار ہوگا۔

لہٰذاصورت مسئولہ میں کچی آبادی میں موجود سرکاری زمینوں پراگر کسی شخص نےتعمیر کی ہےاور حکومت کی طرف سے کوئی رکاوٹ بھی اس پر نہیں ہے،تو ایسی صورت میں مذکوہ شخص صرف عمارت کا مالک ہوگا، لہٰذا:

1۔ اس تعمیر کی خرید و فروخت جائز ہے، البتہ زمین کی ملکیت اس میں شامل نہیں ہوگی۔

2۔ اس تعمیر کو ہبہ (گفٹ) کرنا بھی جائز ہے، اور اگر اسے فروخت کیا جائے تو اس سے حاصل ہونے والی رقم بھی شرعاً جائز ہوگی۔

3۔ ایسی تعمیر کو کرائے پر دینا جائز ہے، اور اس سے حاصل ہونے والا کرایہ بھی حلال ہوگا۔

4۔ اگر والد نے ایسی تعمیر کو بیچ کر حاصل ہونے والی رقم اپنی اولاد میں تقسیم کر دی ہو، تو اولاد کے لیے اس رقم کو لینا اور استعمال کرنا جائز ہے۔

5۔ اگر ایسی خریدو فروخت سے حاصل ہونے والی رقم خرچ ہو چکی ہو، تو اس میں کوئی قباحت نہیں۔

البتہ اگر حکومت کسی بھی وقت اس زمین کو خالی کرانا چاہے، تو تعمیر کرنے والا اس بات کا پابند ہوگا کہ زمین کو اپنی تعمیر سے خالی کر دے

البحر الرائق میں ہے:

"قال رحمه الله (ولو عمر دار زوجته بماله بإذنها فالعمارة لها والنفقة دين عليها؛ لأن الملك لها)۔۔۔(ولنفسه بلا إذنها فله) أي ‌إذا ‌عمر ‌لنفسه من غير إذن المرأة كانت العمارة له؛ لأن الآلة التي بنى بها ملكه فلا يخرج عن ملكه بالبناء من غير رضاه فيبقى على ملكه ويكون غاصبا للعرصة وشاغلا ملك غيره بملكه فيؤمر بالتفريغ إن طلبت زوجته ذلك."

(‌‌مسائلِ شتىٰ، عمر دار زوجته بماله بإذنها فالعمارة لها والنفقة دين عليها، ج: 8، ص: 553، ط: دار الكتاب الإسلامي)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144706101035

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں