
عمر اپنی زمین میں گھر بنارہا تھا،اور اس کے پاس پیسے نہیں تھے، تو اس نے زید سے پیسے لے کر گھر بنایا، اور عقد اس طرح ہوا، کہ راس المال نکال کر باقی فائدے میں جتنے پیسے ملیں گے، وہ نصف نصف ہوں گے ، تین چار سال بعد حکومت کی طرف سے چولہاپیکج بھی ملتا ہے جس کی مالیت چالیس لاکھ تک ہے اور جس وقت عقد ہورہا تھا ، اس وقت چولہاپیکج کا کوئی وجود نہیں تھا لیکن عقد میں اتنا کہا تھا کہ اگر اس گھر کے کروڑ روپیہ بھی مل گئے تو آپس میں نصف نصف ہوں گے، اب پوچھنا یہ ہے کہ اس چولہا پیکج کے پیسے بھی آپس میں آدھے آدھے ہونگے یا صرف عمارت کے پیسے آدھے ہوں گے ؟
نوٹ: چولہا پیکج کا پیسہ گھر کے بغیر نہیں ہوتا ہے یعنی چولہا پیکج کا پیسہ اسی عمارت کی وجہ سے ہی ملتا ہے ۔
وضاحت: چولھا پیکج کی تفصیل یہ ہے کہ حکومت ہمارے علاقہ میں ڈیم بنا رہی ہے۔ ڈیم کی تعمیر کی وجہ سے ہمارے لوگوں کی بہت ساری اراضی حکومت نے لے لے اور اس کے مدلہ لوگوں کو زمین خریدنے کے لیے پیسے بھی دیتی ہے اور جب کوئی نیا گھر تعمیر کرتا ہے تو چولھا پیکج کے نام سے مراعت میں کچھ رقم بھی دیتی ہے۔
سوال میں ذکر کردہ شرکت کی صورت ناجائز ہے؛ اس لیے کہ شرکت کے درست ہونے کے لیے ہر شریک کے سرمایہ کا نقد ہونا ضروری ہے، اگر اس طرح کا معاہدہ کر کے(کہ اس زمین پر تعمیرکرکے جو منافع حاصل ہوں گے وہ نصف نصف ہوں گے) زیدنے عمرکی زمین پر تعمیر کاخرچہ کرکےگھربنوادیا،تو بھی وہ اس زمین یا تعمیر میں شریک نہیں بنے گا، بلکہ مکمل زمین تعمیر سمیت عمر ہی کی ملکیت شمار ہوگی ؛ اس صورت میں زید کو ا س تعمیرسے منافع حاصل کرنے کا حق نہیں ہوگا، البتہ زید کو تعمیر پر ہونے والے خرچے اور تعمیرکے کام کی اجرتِ مثل (یعنی اس جیسے کام کی مارکیٹ میں جتنی اجرت دینے کا رواج ہو )، ہی عمرسے وصول کرنے کا حق ہوگا۔
آئندہ کے لیے ایسے معاملے کی جواز کی صورت یہ ہوسکتی ہے کہ زید عمر سے عمر کی غیر آباد آدھی پراپرٹی (زمین) نقد رقم میں خرید لے ، اوررقم عمر کو دے دے؛ تاکہ زمین میں زید،عمر آدھے آدھے کے شریک ہوجائیں ، اس کے بعد زید،عمر نقد رقم ملا کر اس مشترکہ زمین پر مشترکہ رقم سے تعمیر کریں ،اور پھر نفع چاہے وہ چولہا پیکج کی صورت میں ہو(کیونکہ “چولہا پیکج” بھی ایک مستقبل میں ملنے والا نفع ہے)یاکرایہ یا کسی اور شکل میں،سب کو ملاکر جتنی مالیت بنی گی ،وہ سب زید اور عمر کے درمیان آدھی آدھی تقسیم ہوگی اوراسی طرح نقصان میں دونوں شریک ہوں گے ۔
فتاوی ہندیہ میں ہے:
"أما الشركة بالمال فهي أن يشترك اثنان في رأس مال فيقولا اشتركنا فيه على أن نشتري ونبيع معا أو شتى أو أطلقا على أن ما رزق الله عز وجل من ربح فهو بيننا على شرط كذا أو يقول أحدهما ذلك ويقول الآخر نعم، كذا في البدائع."
(کتاب الشرکة،الباب الأول في بيان أنواع الشركة وأركانها وشرائطها وأحكامها،الفصل الثاني في الألفاظ التي تصح الشركة بها والتي لا تصح،ج:2،ص:302،ط:دارالفکربیروت)
بدائع الصنائع میں ہے:
"منها: (شرائط جواز الشركة) أن يكون الربح معلوم القدر ... وأن يكون جزءً شائعًا في الجملة لا معينًا ... أما الشركة بالأموال فلها شروط، منها أن يكون رأس المال من الأثمان المطلقة ... وهي الدراهم والدنانير عنانًا كانت الشركة أو مفاوضة ... ولو كان من أحدهما دراهم ومن الآخر عروض فالحيلة في جوازه أن يبيع كل واحد منها نصف ماله بنصف دراهم صاحبه ويتقابضا ويخلطا جميعًا حتى تصير الدراهم بينهما والعروض بينهما ثم يعقدان عليهما عقد الشركة فيجوز."
(كتاب الشركة،فصل في بيان شرائط جواز أنواع الشركة،ج:6،ص:59،ط: سعيد)
جامع الفصولین میں ہے:
"دفع إليه أرضاً على أن يبني فيها كذا كذا بيتاً وسمى طولها وعرضها وكذا كذا حجرة على أن ما بني فهو بينهما وعلى أن أصل الدار بينهما نصفان فبناها كما شرط فهو فاسد وكله لرب الأرض وعليه للباني قيمة ما بنى يوم بنى وأجر مثل فيما عمل وهي مسألة الدسكرة بناء يشبه القصر حواليه بيوت يكون للمولك."
(الفصل الثالث والثلاثون أحكام العمارة في ملك الغير،ج:2،ص:161، ط: إسلامي کتب خانه)
شرح المجلۃ (سلیم رستم باز) میں ہے:
"يصح بيع حصة شائعة معلومة كالنصف والثلث والعشر من عقار مملوك قبل الإفراز."
(کتاب البيوع، الباب الثاني،الفصل الثاني في مايجوز بيعه ومالايجوز،ج:1،ص:83،رقم المادة:214،ط:فاروقيه كوئٹه)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144612101279
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن