
زمین کا ایک رقبہ 1947 ء میں سکھوں کا چھوڑا ہوا بیت المال کا تھا، جو 1947 ء کہ مہاجرین میں سے ایک جج صاحب کو سرکار کی جانب سے الاٹ کیا گیا تھا، سائل اس رقبہ میں سے زمین خرید کر مسجد کی تعمیر کرنا چاہتا ہے، قرآن وسنت کی روشنی میں وضاحت کی جائے کیا شرعاً ایسی زمین پر مسجد تعمیر کی جا سکتی ہے یا ہیں ؟
صورتِ مسئولہ میں زمین کا مذکورہ رقبہ اگر واقعۃً سرکاری طور پر جج کے نام الاٹ کردیا گیا تھا،تو وہ رقبہ اب حقیقتًۃ جج کی ملکیت ہے، لہذاجج سے مذکورہ رقبہ میں سے زمین خرید کر اُس پر مسجد تعمیر کرنے میں شرعاً کوئی حرج نہیں ہے۔
فتح القدير للكمال ابن الهمام میں ہے :
"(ثم من أحياه بإذن الإمام ملكه، وإن أحياه بغير إذنه لم يملكه عند أبي حنيفة - رحمه الله -، وقالا: يملكه) لقوله - عليه الصلاة والسلام - «من أحيا أرضا ميتة فهي له» ولأنه مال مباح سبقت يده إليه فيملكه كما في الحطب والصيد. ولأبي حنيفة - رحمه الله - قوله - عليه الصلاة والسلام - «ليس للمرء إلا ما طابت نفس إمامه به» وما روياه يحتمل أنه إذن لقوم لا نصب لشرع، ولأنه مغنوم لوصوله إلى يد المسلمين بإيجاف الخيل والركاب فليس لأحد أن يختص به بدون إذن الإمام كما في سائرالغنائم۔"
(کتاب احیاء الموات، ج:10 ص:69، ط: شركة مكتبة ومطبعة مصطفى البابي الحلبي)
فتاوی عالمگیری میں ہے:
"(ومنها) الملك وقت الوقف حتى لو غصب أرضا فوقفها ثم اشتراها من مالكها ودفع الثمن إليه أو صالح على مال دفعه إليه لا تكون وقفا كذا في البحر الرائق ."
(کتاب الوقف، الباب الأول، ج:2، ص:353، ط:دارالفکر)
فتاوی شامی میں ہے:
"لا يجوز التصرف في مال غيره بلا إذنه ولا ولايته."
(كتاب الغصب، مطلب فيما يجوز من التصرف بمال الغير بدون إذن صريح، ج:6،ص:200، ط:دار الفكر)
فقط والله اعلم
فتویٰ نمبر : 144705101467
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن