
ہمارے ہاں ضلع صوابی میں حالیہ سیلاب کے دوران کئی گھر گرنے سے لوگ شہید ہو گئے، حکومت کی طرف سے چالیس لاکھ روپے کے چیک دیے گئے، ان میں ایک آدمی کی بیوی گھر کی چھت گرنے سے شہید ہو گئی، جس پر حکومت کی طرف سے اس کے شوہر کو چیک دیا گیا، اور یہ چیک شوہر ہی کے نام جاری ہوا۔
اب سوال یہ ہے کہ کیا یہ رقم صرف شوہر کا حق ہے، یا اس کی مرحوم بیوی کے تمام ورثاء اس میں حصہ دار ہیں؟ اور اگر مرحومہ کے ورثاء کا بھی اس رقم میں حصہ ہے، تو یہ رقم ان کے ورثاء کے درمیان کس طرح تقسیم کی جائے گی؟
مرحومہ کے ورثاء یہ ہیں: شوہر، والدہ، دو بھائی اور دو بہنیں، جبکہ مرحومہ کی کوئی اولاد نہیں ہے۔
واضح رہے کہ میراث کے احکام صرف اُس مال میں جاری ہوتے ہیں جو میت کی وفات کے وقت اس کی ملکیت میں موجود ہو، چنانچہ جو مال بوقتِ وفات میت کی ملکیت میں داخل ہو،اس میں میت کے تمام شرعی ورثاء حق دار ہوں گے ،اور جو مال میت کی وفات کے وقت اس کی ملکیت میں نہ ہوبلکہ بعد میں حکومت یا کسی ادارے کی طرف سے بطورِ امدادیا پیکیج پسماندگان کو دیا جائے، وہ مال شرعاً ترکہ میں شامل نہیں ہوتا،بلکہ دینے والے ادارے کی جانب سے ہبہ (گفٹ) شمار ہوتا ہے، اور وہ اسی شخص کی ملکیت ہوگا جس کے نام یہ رقم یا چیک جاری کیا جائے۔
لہٰذا صورتِ مسئولہ میں جس شخص کی بیوی چھت گرنے کے باعث وفات پا گئی، اس کے بعد چونکہ حکومت کی جانب سے امدادی چیک مرحومہ کے شوہر کے نام جاری کیا گیا ہے، اس لیے شرعاً اس چیک کا حق دار مرحومہ کا شوہر ہی ہے۔ یہ امدادی رقم مرحومہ کے ترکہ میں شامل نہیں ہوگی، اس بنا پر مرحومہ کے دیگر ورثاء کا اس رقم میں شرعاً کوئی حصہ نہیں ہے۔
فتاوی شامی میں ہے:
"لأن التركة في الإصطلاح ما تركه الميت من الأموال صافيا عن تعلق حق الغير بعين من الأموال كما في شروح السراجية".
(کتاب الفرائض،ج،6،ص:759،ط: سعید)
امداد الفتاوی میں ہے:
’’چوں کہ میراث مملوکہ اموال میں جاری ہوتی ہے اور یہ وظیفہ محض تبرع واحسان ِ سرکار ہے، بدونِ قبضہ کے مملوک نہیں ہوتا، لہذا آئندہ جو وظیفہ ملے گا اس میں میراث جاری نہیں ہوگی، سرکار کو اختیار ہے جس طرح چاہے تقسیم کردے۔‘‘
( کتاب الفرائض، ج:4،ص:343، ط: دارالعلوم)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144706101895
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن