بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

كمیٹی كے اعلان سے پہلے روزہ ركھنے كا حكم


سوال

 حکومت کے اعلان سے پہلے اگر روزہ رکھا جائے تو کیا یہ روزہ فرض میں شامل ہو گا یا نفل؟

جواب

رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ماہِ رمضان کے آغاز و اختتام کا مدار چاند دیکھنے پر رکھا ہے، پس اگر کوئی شخص کھلی آنکھوں سے ماہ ِرمضان کا چاند دیکھ لے تو اس پر رمضان کا روزہ رکھنا لازم ہو جاتا ہے، البتہ ملکی سطح پر اگر حکومت کی جانب سے رؤیتِ ہلال کمیٹی مقرر ہو، جسے ولایت عامہ حاصل ہو تو اس صورت میں رؤیتِ ہلال کمیٹی شواہد کی بنیاد پر اگر چاند ہونے یا نہ ہونے کا فیصلہ صادر کرے تو کمیٹی کا فیصلہ ملکی سطح پہ شرعاً معتبر ہوتا ہے۔ لہذا صورت مسئولہ میں رؤیتِ ہلال کمیٹی کے اعلان سے قبل اپنی آنکھوں سے چاند دیکھے بغیر رمضان کا آغاز کرنا درست نہیں ہوگا، بلکہ از روۓ حدیث یومِ شک کا روزہ رکھنے کی وجہ سے ایسا شخص گناہ گار ہوگا۔

مسند دارمي میں ہے:  

" أخبرنا عبد الله بن سعيد، حدثنا أبو خالد الأحمر، عن عمرو بن قيس، عن أبي إسحاق، عن صلة قال: كنا عند عمار بن ياسر فأتي بشاة مصلية فقال: كلوا، فتنحى بعض القوم، فقال: إني صائم. فقال عمار بن ياسر: «من صام اليوم الذي يشك فيه، ‌فقد ‌عصى ‌أبا ‌القاسم صلى الله عليه وسلم"

(رقم الحدیث،  1047، ج: 2، ط: دار المغنی للنشر و التوزیع)

فقط و اللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144709100003

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں