بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

18 ذو الحجة 1447ھ 04 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

قاتل کی جائیداد ضبطی کا حکم


سوال

ایک شخص نے دوسرے شخص کو قتل کر دیا، جس کی پاداش میں حکومت نے قاتل کو 25 سال قید کی سزا سنائی، اور اس کی ذاتی جائیداد کو ضبط کر لیا، بعد ازاں حکومت نے وہ جائیداد اس کی بیوی اور بیٹے کے نام منتقل کر دی، بعد میں قاتل (والد) نے اپنے بیٹے سے مطالبہ کیا کہ یہ جائیداد چونکہ میری تھی، لہٰذا مجھے واپس کر دی جائے۔ بیٹے نے کچھ حصہ والد کو منتقل کر دیا اور باقی اپنے پاس رکھا۔

اس کے بعد والد نے دوسری شادی کی، جس سے اولاد ہوئی، اب وہ دوسری بیوی سے ہونے والی اولاد اس جائیداد میں اپنا حصہ میراث  مانگ رہی ہے۔

سوال یہ ہے کہ:

1- کیا حکومت کو شرعی طور پر کسی مجرم کی جائیداد ضبط کرنے کا اختیار ہے؟

2- کیا حکومت کا کسی مجرم کی جائیداد ضبط کر کے اس کے بیٹے وغیرہ کے نام منتقل کرنے سے شرعی طور پر وہ  مالک بن جائے گایا زمین اسی مجرم کی ملکیت میں برقرار رہے گی؟

3. کیا دوسری بیوی سے ہونے والی اولاد اس جائیداد میں شرعاً میراث کی حق دار ہوگی یا نہیں؟

جواب

(1) واضح رہے کہ کسی مسلمان کو ناحق قتل کرنا کبیرہ گناہوں میں سے سخت ترین گناہ ہے، اس پر قرآن وحدیث میں سخت وعیدیں وارد ہوئی ہیں، چنانچہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ " اور جو شخص کسی مسلمان کو قصداً قتل کرڈالے تو اس کی سزا جہنم ہے کہ ہمیشہ ہمیشہ کو اس میں رہنا ہے"۔اور حدیث مبارکہ میں  ہے کہ " نبی کریم ﷺ نے  ارشاد فرمایا: " اللہ تعالیٰ کے نزدیک پوری دنیا کا ختم ہو جانا، ایک مسلمان شخص  کے  قتل ہو جانے سے زیادہ سہل (آسان) ہے"۔ 

لہٰذا قتل کی صورت میں اگر قتلِ عمد ثابت ہوجائے(اقرار یا گواہی سے) تو شریعت نے اس کی سزا قصاص مقرر کی ہے، البتہ اس سزا کے نفاذ کا اختیار اسلامی حکومت کی ذمہ داری ہے، لہٰذا اگر کسی شخص نے دوسرے کو جان بوجھ کر قتل کیا تو مذکورہ بالا سزا کا مستحق ہے، جس کا اجراء حکومت پر لازم ہے، البتہ  شرعاً قاتل کی جائیداد ضبط کرنے کا حکم نہیں ہے۔

(2) حکومت کا کسی مجرم کی جائیداد ضبط کرکے اس کے بیٹے یا بیوی کے نام کرنےسے شرعی طورپر بیٹا یا بیوی   اس جائیداد کے مالک نہیں بنیں گے، بلکہ وہ جائیداد بدستوراسی شخص کی ملکیت میں رہے گی، لہٰذا بیٹے کا والد کی اجازت کے بغیر کچھ زمین اپنے پاس رکھنا جائز نہیں ، بلکہ اپنے والد کے حوالہ کرنا ضروری ہے۔

(3) مذکورہ شخص  اپنی جائیداد کا خود مالک ہے، لہٰذا اس کے انتقال کے وقت اس کی پہلی بیوی یا دوسری بیوی کی اولاد میں سے جو حیات ہوں گے وہ اس جائیداد میں اپنے اپنے حصوں کے موافق حقدار ہوں گے، اسی طرح دونوں بیویوں میں سے جو حیات ہوں گی وہ بھی اپنے شوہر کے ترکہ میں وارث ہوں گی ۔

ارشادِ باری تعالیٰ ہے:

"وَمَنْ يَقْتُلْ مُؤْمِنًا مُتَعَمِّدًا فَجَزَاؤُهُ جَهَنَّمُ خَالِدًا فِيهَا وَغَضِبَ اللَّهُ عَلَيْهِ وَلَعَنَهُ وَأَعَدَّ لَهُ عَذَابًا عَظِيمًا  (النساء:  93)"

مشکوٰۃ المصابیح میں ہے:

"عن عبد الله بن عمرو أن النبي صلى الله عليه وسلم قال: (لزوال الدنيا أهون على الله من قتل رجل مسلم)."

 (كتاب القصاص، ج:2، ص:1031، ط: المكتب الإسلامي - بيروت)

فتاویٰ شامی میں ہے:

"‌وليس ‌للإمام ‌أن ‌يخرج ‌شيئا ‌من ‌يد ‌أحد إلا بحق ثابت معروف. اهـ.."

(‌‌كتاب الجهاد،مطلب فيما تصير به دار الإسلام دار حرب وبالعكس، ج:4، ص:180، ط: سعید)

وفیہ ایضاً:

"والحاصل أن المذهب عدم التعزير بأخذ المال، وسيذكر الشارح في الكفالة عن الطرسوسي أن مصادرة السلطان لأرباب الأموال لا تجوز إلا لعمال بيت المال: أي إذا كان يردها لبيت المال...(قوله لا بأخذ مال في المذهب) قال في الفتح: وعن أبي يوسف يجوز التعزير للسلطان بأخذ المال. وعندهما وباقي الأئمة لا يجوز. اهـ. ومثله في المعراج، وظاهره أن ذلك رواية ضعيفة عن أبي يوسف. قال في الشرنبلالية: ولا يفتى بهذا لما فيه من تسليط الظلمة على أخذ مال الناس فيأكلونه  ومثله في شرح الوهبانية عن ابن وهبان.وأفاد في البزازية أن معنى التعزير بأخذ المال على القول به إمساك شيء من ماله عنه مدة لينزجر ثم يعيده الحاكم إليه، لا أن يأخذه الحاكم لنفسه أو لبيت المال كما يتوهمه الظلمة إذ لا يجوز لأحد من المسلمين أخذ مال أحد بغير سبب شرعي..وفي المجتبى لم يذكر كيفية الأخذ وأرى أن يأخذها فيمسكها، فإن أيس من توبته يصرفها إلى ما يرى. وفي شرح الآثار: التعزير بالمال كان في ابتداء الإسلام ثم نسخ. "

(كتاب الحدود، باب التعزير، ج:4، ص:62، ط:سعيد)

البحر الرائق میں ہے  :

"ولم يذكر محمد التعزير ‌بأخذ ‌المال وقد قيل روي عن أبي يوسف أن التعزير من السلطان ‌بأخذ ‌المال جائز كذا في الظهيرية وفي الخلاصة سمعت عن ثقة أن التعزير ‌بأخذ ‌المال إن رأى القاضي ذلك أو الوالي جاز ومن جملة ذلك رجل لا يحضر الجماعة يجوز تعزيره ‌بأخذ ‌المال."

 (كتاب الحدود، فصل في التعزير، ج:5، ص:68، ط:دارالكتب العلمية)

وفيه أَيضاً:

"وجوازه بأخذ ‌المال ومعناه على ما في البزازية إمساكه عنه إلى أن يتوب وفي السراج الوهاج."

(كتاب الكفالة، ج:6، ص:361، ط:دار الكتب العلمية)

امداد الاَحکام میں ہے:

"الجواب :جرمانۂ مالی مذہبِ حنفی میں جائز نہیں ہے،"قال في الدر في باب التعزير لابأخذ مال في المذهب اه. وقال الشامي وشرح معاني الاثار (للطحاوي) التعزير بالمال كان في ابتداء الإسلام ثم نسخاه." باقی دیگر ائمہ کا مذہب بیان کرنا ہمارے ذمہ لازم نہیں ہے، نہ دلائل حدیث قرآن بیان کرنا لازم ہے، کیوں کہ یہ وظیفۂ مجتہد ہے اور ہم مقلد ہیں۔ فقط واللہ اَعلم"

(کتاب الحدود والتعزیرات، حکم تعزیر بالمال، ج:4، ص:129، ط:دار العلوم کراچی)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144703100191

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں