
حکومت بعض اوقات منشیات اور سمگلنگ کی چیزیں آگ لگا کر ضائع کردیتی ہے،تو دوسرے لوگ آکر ان ضائع چیزوں میں سے جو آگ میں نہ جلی ہو اِدھر اُدھر پڑی ہو اس کو اٹھا کر بیچتے ہیں، تو کیا یہ ان کے لیے جائز ہے؟
اگر حکومت منشیات یا اسمگل شدہ اشیاء کو تلف کرنے کے لیے انہیں آگ لگا دے، لیکن ان میں سے بعض اشیاء جلنے سے بچ جائیں یا مکمل طور پر جل کر ضائع نہ ہوں اور باقی رہ جائیں، تو عام لوگوں کے لیے ان اشیاء کو اٹھا کر اپنے قبضے میں لینا یا فروخت کرنا جائز نہیں ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ان اشیاء کی ملکیت بدستور ان کے اصل مالکان کے حق میں قائم رہتی ہے، اور محض حکومت کی جانب سے انہیں تلف کرنے کی کوشش، ملکیت کے زوال کا سبب نہیں بنتی۔ لہٰذا اصل مالکان کی اجازت کے بغیر ان اشیاء پر قبضہ کرنا یا انہیں فروخت کرنا شرعاً ناجائز اور دوسرے کے مال میں بلااجازت تصرف کے حکم میں داخل ہے اور اگر خود مالکان لیں تو ان کے لئے صحیح ہے جائز ہے وہ لے سکتے ہیں۔
مشکوٰۃ المصابیح میں ہے:
"وعن أبي حرة الرقاشي عن عمه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: ألا لا تظلموا ألا لا يحل مال امرئ إلا بطيب نفس منه. رواه البيهقي في شعب الإيمان والدارقطني في المجتبى."
(کتاب البیوع، باب الغصب والعارية، الفصل الثانی، ج:1، ص:261، ط: رحمانيه)
ترجمہ :"رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: آگاہ رہو، کسی پر ظلم مت کرو، کسی انسان کا مال اس کی رضاوخوشی کے بغیر حلال نہیں ہے۔"
مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيحمیں ہے:
"(" لا تظلموا ") أي: لا يظلم بعضكم بعضا كذا قيل، والأظهر أن معناه: لا تظلموا أنفسكم، وهو يشمل الظلم القاصر والمعتدي (" ألا ") للتنبيه أيضا وكرره تنبيها على أن كلا من الجملتين حكم مستقل ينبغي أن ينبه عليه، وأن الثاني حيث يتعلق به حق العباد أحق بالإشارة إليه، والتخصيص لديه (" لا يحل مال امرئ ") أي: مسلم أو ذمي (" إلا بطيب نفس ") أي: بأمر أو رضا منه."
(كتاب البيوع، باب الغصب والعارية، ج:5، ص:1974، ط: دارالفکر)
فتاویٰ شامی میں ہے:
"مطلب في التعزير بأخذ المال (قوله:لا بأخذ مال في المذهب) قال في الفتح: وعن أبي يوسف يجوز التعزير للسلطان بأخذ المال. وعندهما وباقي الأئمة لا يجوز. اهـ. ومثله في المعراج، وظاهره أن ذلك رواية ضعيفة عن أبي يوسف. قال في الشرنبلالية: ولا يفتى بهذا لما فيه من تسليط الظلمة على أخذ مال الناس فيأكلونه اهـ ومثله في شرح الوهبانية عن ابن وهبان.
(قوله: وفيه إلخ) أي في البحر، حيث قال: وأفاد في البزازية أن معنى التعزير بأخذ المال على القول به إمساك شيء من ماله عنه مدة لينزجر ثم يعيده الحاكم إليه، لا أن يأخذه الحاكم لنفسه أو لبيت المال كما يتوهمه الظلمة إذ لا يجوز لأحد من المسلمين أخذ مال أحد بغير سبب شرعي. وفي المجتبى لم يذكر كيفية الأخذ وأرى أن يأخذها فيمسكها، فإن أيس من توبته يصرفها إلى ما يرى. وفي شرح الآثار: التعزير بالمال كان في ابتداء الإسلام ثم نسخ .اه. والحاصل أن المذهب عدم التعزير بأخذ المال."
(کتاب الحدود،باب التعزیر،مطلب فی التعزیر باخذالمال، ج:4، ص:61، ط:سعید)
فتاویٰ شامی میں ہے:
"لا يجوز التصرف في مال غيره بلا إذنه ولا ولايته."
(كتاب الغصب، ج:6، ص:200، ط:سعيد)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144801100532
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن