
l:سركارى حج اسكيم میں وزارت جو بینک کے ذریعے بیگ وغیرہ دیتی ہے، اس میں شرعاً کوئی حرج تو نہیں؟
اس پر ایک صاحب نے اعتراض کیا ہے، کہ بینک چوں کہ سودی ادارہ ہے، اور یہ تحائف وغیرہ بینک کی طرف سے دیے جاتے ہیں، اس لیے یہ سود کے زمرے میں آئے گا۔ اس کے متعلق رہنمائی فرمادیں، کیا ان کا استعمال جائز ہے؟
يٰۤـاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا لَا تَاۡكُلُوا الرِّبٰٓوا اَضۡعَافًا مُّضٰعَفَةً ۖ وَاتَّقُوا اللّٰهَ لَعَلَّكُمۡ تُفۡلِحُوۡنَ. [آل عمران: 130]اے لوگو جو ایمان لائے ہو! مت کھاؤ سود کئی گنا، جو دگنے کیے ہوئے ہوں اور اللہ سے ڈرو، تاکہ تم فلاح پاؤ۔
خصوصا ًحج کے موقع پر اگر بینک ساتھ لے جانے کے لیے بیگ وغیرہ تحفتا دے رہے ہیں، تو حجاج کرام کو چاہیے کہ ایسے بیگ، سوٹ کیس یا چھتری وغیرہ کو بالکل استعمال نہ کریں، کیوں کہ بینک تو سارے معاملات سود ہی کے پیسے سے کرتا ہے، اور اسی سے تحفے دیتا ہے۔ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:لَعَنَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ آكِلَ الرِّبَا، وَمُؤْكِلَهُ. [صحیح مسلم: 4093]رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سود کھانے والے، کھلانے والے پر لعنت فرمائی ہے‘۔ لہذا اگر حکومت اپنی طرف سے تحفے وغیرہ دے اور اس میں کسی قسم کا سودی معاملہ نہ ہو تو ان کا استعمال جائز ہے، لیکن چوں کہ یہ تحائف بینک دیتا ہے، اس لیے ہماری اس معاملے میں رائے یہ ہے کہ حجاج کرام ایسا کوئی بیگ یا چھتری، جو بینک نے دیے ہوں یا ان پر بینک کا نام اور لوگو وغیرہ لگا ہو، اس کو ہرگز استعمال نہ کریں، اپنے حج کو حتی الامکان سودی اداروں سے محفوظ اور پاک رکھنے کی کوشش کریں۔ وآخر دعوانا أن الحمد لله رب العالمين ۔۔
یہ فتوی جو آیا ہے،کیا استعمال نہیں کرنا چاہیے؟
سرکاری اسکیم کے تحت حج پر جانے والوں کو جو سفری بیگ وغیرہ ملتے ہیں، اس میں یہ تفصیل ہے کہ :
لہذا جس حاجی کو سفری بیگ وغیرہ کی سہولیات مل رہی ہوں تو وہ متعلقہ افراد/ذمہ داران سے پوچھ کر اس کے مطابق عمل کرے۔
فتاوی ہندیہ میں ہے :
"أما تفسيرها شرعا فهي تمليك عين بلا عوض، كذا في الكنز."
(کتاب الهبة، ج:4، ص:374، ط: دارالفکر)
فتاوی شامی میں ہے:
"اكتسب حراما واشترى به أو بالدراهم المغصوبة شيئا. قال الكرخي: إن نقد قبل البيع تصدق بالربح وإلا لا وهذا قياس وقال أبو بكر كلاهما سواء ولا يطيب له وكذا لو اشترى ولم يقل بهذه الدراهم وأعطى من الدراهم».
(قوله اكتسب حراما إلخ) توضيح المسألة ما في التتارخانية حيث قال: رجل اكتسب مالا من حرام ثم اشترى فهذا على خمسة أوجه: أما إن دفع تلك الدراهم إلى البائع أولا ثم اشترى منه بها أو اشترى قبل الدفع بها ودفعها، أو اشترى قبل الدفع بها ودفع غيرها، أو اشترى مطلقا ودفع تلك الدراهم، أو اشترى بدراهم أخر ودفع تلك الدراهم. قال أبو نصر: يطيب له ولا يجب عليه أن يتصدق إلا في الوجه الأول، وإليه ذهب الفقيه أبو الليث، لكن هذا خلاف ظاهر الرواية فإنه نص في الجامع الصغير: إذا غصب ألفا فاشترى بها جارية وباعها بألفين تصدق بالربح. وقال الكرخي: في الوجه الأول والثاني لا يطيب، وفي الثلاث الأخيرة يطيب، وقال أبو بكر: لا يطيب في الكل، لكن الفتوى الآن على قول الكرخي دفعا للحرج عن الناس اهـ. وفي الولوالجية: وقال بعضهم: لا يطيب في الوجوه كلها وهو المختار، ولكن الفتوى اليوم على قول الكرخي دفعا للحرج لكثرة الحرام اهـ وعلى هذا مشى المصنف في كتاب الغصب تبعا للدرر وغيرها."
(کتاب البیوع، باب المتفرقات، ج :5، ص:235، ط: ایچ ایم سعید)
فتاویٰ ہندیہ میں ہے:
"أهدي إلٰی رجل شیئًا أو أضافه، إن کان غالب ماله من الحلال، فلابأس إلا أن یعلم بأنه حرام، فإن کان الغالب هو الحرام ینبغي أن لایقبل الهدية."
(کتاب الکراهية، الباب الثاني عشر في الهدایا والضیافات، ج: 5، ص:342، ط: دارالفکر)
فقط والله أعلم
فتویٰ نمبر : 144710101486
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن