بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

حدودِ حرم سے باہر حلق کرنے پر دم کے وجوب کا حکم


سوال

آج 24 ذیقعدہ ہے، ہم تین ساتھی حج کیلئے پہنچ گئے ،طواف وغیرہ سارے افعال ادا کردئے ،لیکن حلق نہیں کیا ،اپنے ہوٹل پہنچے تو وہاں پرحلق کیا ،بعد میں پتہ چلا وہ ہوٹل حدود حرم میں نہیں ہے ۔

تو اب کیا ہمیں  دم دینا واجب ہے ؟اور ذبح کے علاوہ جیسے روزہ رکھنا صدقہ دینےسےبھی دم ادا ہوجاتا ہے یا نہیں ؟

جواب

واضح رہے کہ سائل پر عمرہ کے ارکان ادا کرنے کے بعدحدود حرم میں    حلق (سرمنڈوانا) یا قصر (کم از کم ایک چوتھائی سر کے بال کم از کم ایک پورے کے برابر کاٹنا)  ضروری تھا،لہذا  صورت مسئولہ میں حدود حرم میں حلق یا قصر نہ کرنےکہ وجہ سے سائل اور اس کے ساتھیوں پر  پر دم لازم ہے

سائل اور اس کےساتھیوں پر دم ہی لازم ہے ، روزہ یا صدقہ اس کا بدل نہیں بن سکتا،البتہ اگر ابھی گنجائش نہ ہوتو بعد میں بھی دم ادا کیا جاسکتا  ہے ،فوری ادائیگی لازم نہیں ۔

فتاوی عالمگیریہ میں ہے :

"وتجب شاة بتأخير النسك عن مكانه كما إذا خرج من الحرم وحلق رأسه سواء كان الحلق للحج أو للعمرة عند أبي حنيفة ومحمد رحمهما الله تعالى."

(کتاب المناسک، الباب الثامن، الفصل الخامس ،ج:1، ص:237، ط:المطبعة الکبری الامیریة)

المبسوط للسرخسی میں ہے :

"فأما في العمرة فلا يتوقت الحلق بزمان حتى لو أخر الحلق فيه شهرا لا يلزمه شيء؛ لأن أصل العمرة لا يتوقت بالزمان، وما هو الركن، وهو الطواف فيه أيضا لا يتوقت من حيث الزمان فكذلك الحلق فيه لا يتوقت بخلاف الحج، ولكنه يتوقت بالحرم حتى لو حلق للعمرة خارج الحرم فعليه دم عند أبي حنيفة ومحمد رحمها الله تعالى كما في الحج." 

(کتاب المناسک، باب الحلق، ج:4، ص:17، ط:مطبعة السعادۃ۔مصر)

الاصل لمحمد الشیبانی میں ہے:

"وإذا فعله غير مضطر فعليه دم لا يجزيه غيره."

(كتاب المناسك، باب الحلق، ج:2، ص:433، ط:مطبعة مجلس دائرة المعارف)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144711101956

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں