
میں ہوٹل میں کام کرتا ہوں، میری ذمہ داری یہ ہوتی ہے کہ میں گاہک سے آرڈرلیتا ہوں جب وہ جانے لگے تو اس کے پیسے کاؤنٹر میں بولتا ہوں، کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ میں رش کی وجہ سے گاہک کی کھائی ہوئی روٹی کی تعداد بھول جاتا ہوں،تو میں اپنے ظن غالب کے طور پر روٹی کے پیسے لگاتا ہوں۔
کیا اس طرح کرنامیرے لیے جائز ہے؟جب کہ روٹی کی تعداد کا گاہک کو بھی علم نہیں ہوتا، اس میں میرے لیے کیا حکم ہے؟
واضح رہے کہ مالی معاملات حقوق العباد (بندوں کے حقوق) سے تعلق رکھتے ہیں، اگر بھول چوک کی وجہ سے کسی کا حق رہ جائے یا زیادہ لے لیا جائے، تو اگرچہ بھولنے والے معذور ہوتے ہیں، لیکن اس مالی حق کی تلافی یا ادائیگی بہرحال ضروری ہوتی ہے، شریعت میں کسی کا مال اس کی خوش دلی (طیبِ نفس) کے بغیر لینا حلال نہیں ہے۔
صورتِ مسئولہ میں چونکہ سائل کی شرعی حیثیت اجیر خاص کی ہے، اس کے ذمے جو کام ہے اسی کی تنخواہ ملتی ہے، بلا وجہ لاپرواہی سے اس میں کوتاہی کرنا جائز نہیں ہے، بالخصوص چونکہ سائل کا تعلق مالک اور گاہک دونوں سے ہوتا ہے تو دونوں کے حقوق کی رعایت رکھنا ضروری ہے، کیونکہ اگر روٹی کی زیادہ قیمت لگا لیتا ہے تو گاہک کی حق تلفی ہوتی ہے اور کم قیمت لینے کی صورت میں مالک کی حق تلفی ہوتی ہے، لہذا سائل کو چاہیے کہ روٹی کی تعداد کا درست حساب لکھ کر اپنے پاس رکھے تاکہ بعد میں اس کی درست قیمت کی وصولی آسان ہوجائے، اور کسی قسم کے تنازع سے بچا جا سکے، صرف اس بنیاد پر کوتاہی کرنا اور تخمینہ و اندازہ سے قیمت وصول کرنا کہ چونکہ اکثر گاہک روٹی کی تعداد شمار نہیں کرتا اور جتنی قیمت بتائی جائے وہ ادا کرے گا، جائز نہیں ہے۔
تاہم اگر کبھی کبھار واقعتا بھول جاتا ہو تو اس صورت میںگاہک سے معلوم کیا جائے، اور اگر گاہک کو تعداد معلوم ہو تو اسی کے حساب سے پیسے لیے جائیں، اور اگر اس کو بھی تعداد معلوم نہ ہو تو ظنِ غالب کے تخمینہ کے ساتھ روٹی کی تعداد کے حساب سے پیسے وصول کرنا جائز ہے، بشرطیکہ آپ کا تخمینہ ایمانداری پر مبنی ہو اور جان بوجھ کر گاہک سے زیادہ پیسے وصول کرنے کی نیت نہ رکھتے ہوں اور بہتر یہ ہےکہ آپ گاہک کو بتا دیں کہ مجھے صحیح تعداد یاد نہیں رہی، میرا اندازہ اتنا ہے، آپ اس پر راضی ہیں؟ اگر گاہک آپ کے بتائے ہوئے اندازے پر خوشی سے ادائیگی کر دے تو معاملہ صاف ہو جائے گا۔
اور اگر غالب گمان نہ ہو بلکہ شک ہو تو اس صورت میں یقین اور احتیاط پر عمل کرنا اولیٰ ہے، یعنی اگر آپ کو دو اعداد میں شک ہو (مثلاً دو روٹیاں تھیں یا تین)، تو گاہک کے حق میں کم والی تعداد (مثلا دو روٹی) کی قیمت وصول کی جائے، نیز بہتر ہے کہ مالک کو بھی مطلع کرے، یا اس حوالے سے پہلے ہی مالک کی رضامندی حاصل کرے۔
بہر حال سائل کو چاہیے کہ آئندہ اس حوالے سے اپنی ذمہ داری پوری طرح نبھانے کی کوشش کرے۔
کنز العمال فی سنن الاقوال و الافعال میں ہے:
"يا أيها الناس... ألا لا تظالموا ثلاثا، إنه لا يحل مال امرء مسلم إلا بطيب نفس منه".
یعنی اے لوگو!... خبردار! ایک دوسرے پر ظلم نہ کرنا (یہ بات آپ ﷺ نے تین بار دہرائی)، یقیناً کسی مسلمان کا مال (دوسرے کے لیے) حلال نہیں ہے، مگر اس کی دلی خوشی اور رضامندی کے ساتھ۔
(حرف الجيم، كتاب الحج، الباب الثالث، ج:5، ص:130، الرقم:12357، ط:مؤسسة الرسالة)
فتاوی شامی میں ہے:
"(والثاني) وهو الأجير (الخاص) ويسمى أجير وحد (وهو من يعمل لواحد عملا مؤقتا بالتخصيص."
(كتاب الإجارة، ج:6، ص:70، ط:دار الفكر)
درر الحكام فی شرح مجلۃ الاحکام ميں هے:
"اليقين لا يزول بالشك نعم لأن اليقين القوي أقوى من الشك فلا يرتفع اليقين القوي بالشك الضعيف، أما اليقين فإنما يزول باليقين الآخر.
هذه المادة مأخوذة من قاعدة (ما ثبت بيقين لا يرتفع بالشك وما ثبت بيقين لا يرتفع إلا بيقين) .
الشك: لغة معناه التردد، واصطلاحا تردد الفعل بين الوقوع وعدمه أي لا يوجد مرجح لأحد على الآخر ولا يمكن ترجيح أحد الاحتمالين، أما إذا كان الترجيح ممكنا لأحد الاحتمالين، والقلب غير مطمئن للجهة الراجحة أيضا فتكون الجهة الراجحة في درجة (الظن) والجهة المرجوحة في درجة الوهم، وأما إذا كان القلب يطمئن للجهة الراجحة فتكون (ظنا غالبا) والظن الغالب ينزل منزلة اليقين."
(المقالة الثانية، المادة:4، ج:1، ص:22، ط:دار الجيل)
فقط و الله أعلم
فتویٰ نمبر : 144802100337
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن