
میں پردیس ملک کے ہسپتال میں ڈاکٹر ہوں،ہسپتال میں جو مریض داخل ہوتے ہیں ان سے رہائش اور کھانے پینے کےلئے ہسپتال انتظامیہ پیسے جمع کرتی ہے،ان کو ایک وقت کھانے میں کچھ فروٹ اور آدھا کلو چاول دیا جاتا ہے،مریض یہ کھانا بہت کم کھاتے ہیں،اور اکثر کھاتے بھی نہیں،ہسپتال کی انتظامیہ کا اصول ہے کہ جو کھانا مریض سے بچ جائے اس کو دوبارہ رکھنا نہیں،بلکہ کچرے میں ڈالنا ہے۔جس کی وجہ سے بہت کھانا کچرے میں چلاجاتا ہے اور ضائع ہوجاتا ہے،اگر وہاں مزدور لوگ اس کھانا کو کچرا دان میں ڈالنے کے بجائے خود اپنے استعمال میں لائیں تو شرعا اس کی اجازت ہوگی؟
اگر کھانے کے پیسے مریض سے لیے جاتے ہیں تو مریض اس کھانے کا مالک ہے،اگر وہ اپنا کھانا خود نہیں کھانا چاہتا تو وہ جسے چاہے وہ اپنا کھانا دے سکتا ہے،اور اگر مریض اپنا کھانا ہسپتال کی انتظامیہ کے حوالے کر دیتا ہے تو انتظامیہ کو چاہیے کہ وہ کھانا ضائع کرنے کے بجائے بہتر یہ ہے کہ وہ کھانا ہسپتال کے اسٹاف /عملے یا ضرور ت مند لوگوں میں تقسیم کردے،یا اگر انتظامیہ کی مداخلت کے بغیر بھی کھانا ضائع ہونے سے بچانے کے لیے کھانا ضرورت مند لوگوں میں تقسیم کردیا جاتا ہے تو بھی اس میں شرعاکوئی حرج نہیں ہے۔
قرآنِ کریم میں ہے:
"﴿ اِنَّ الْمُبَذِّرِيْنَ كَانُوْا اِخْوَانَ الشَّيٰطِيْنِ ﴾."[بني إسرائيل :27]
ترجمہ: "بے شک فضول خرچی کرنے والے شیطان کے بھائی ہیں۔"
تفسیر سعدی میں ہے:
"الذي تنعمتم به في دار الدنيا، هل قمتم بشكره، وأديتم حق الله فيه، ولم تستعينوا به، على معاصيه، فينعمكم نعيمًا أعلى منه وأفضل.
أم اغتررتم به، ولم تقوموا بشكره؟ بل ربما استعنتم به على معاصي الله فيعاقبكم على ذلك."
( سورۃ التكاثر، ص933، ط: مؤسسة الرسالة)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144801102703
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن