
ایک دوست کی بیوی نے اس سے یہ پوچھا کہ جنت میں تو آپ کے پاس اتنی حوریں ہوں گی تو آپ مجھے کہاں ٹائم دیں گے !تو اس نے یہ جواب دیا کہ حوریں جائیں بھاڑ میں...میں تو تمہارے پاس رہوں گا... تو کیا اس کلمہ سے اس کا ایمان چلاگیا؟
کیا تجدید ایمان اور نکاح کرنا ہوگا؟اور اگر کرنا ہوگا تو اس کا کیا طریقہ کار ہوگا؟
ثم إذا كان في المسألة وجوه توجب الإكفار ووجه واحد يمنعه يميل العالم إلى ما يمنعه) أي يجب عليه لما قال في مختصر الظهيرية على المفتي أن يميل إلى الوجه الذي يمنع التكفير تحسينا للظن بالمؤمن."
(كتاب الكراهية والاستحسان، ج:1، ص:324، ط:دار إحياء الكتب العربية)
فیروز اللغات میں ہے:
بھاڑ میں پڑے،جائے:دعائے بد، چولھے میں جائے، آگ لگے، ہمارے کس کام کا۔
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144711101839
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن