بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

18 ذو الحجة 1447ھ 04 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

حوریں جائیں بھاڑ میں یہ الفاظ کہنے کا حکم


سوال

ایک دوست  کی بیوی نے اس سے یہ پوچھا کہ جنت میں تو آپ کے پاس اتنی حوریں ہوں گی تو آپ مجھے کہاں ٹائم دیں گے !تو اس نے یہ جواب دیا کہ حوریں جائیں بھاڑ میں...میں تو تمہارے پاس رہوں گا... تو کیا اس کلمہ سے اس کا ایمان چلاگیا؟

کیا تجدید ایمان اور نکاح کرنا ہوگا؟اور اگر کرنا ہوگا تو اس کا کیا طریقہ کار ہوگا؟

جواب

مسئولہ صورت میں سائل کے دوست کا مذکورہ جملہ کہنا تو اچھا نہیں اس قسم کے جملوں سے احتراز کرنا چاہیے،تاہم مذکورہجملہ کہنے سےایمان ختم نہیں ہوا،تجدید ایمان  اورتجدید نکاحکی ضرورت نہیں۔

دررالحکام شرح غرر الاحکام میں ہے:

"وفي المحيط من أتى بلفظة الكفر مع علمه أنها كفر إن كان عن اعتقاد لا شك أنه يكفر، وإن لم يعتقد أو لم يعلم أنها لفظة الكفر ولكن أتى بها عن اختيار فقد كفر عند عامة العلماء ولا يعذر بالجهل، وإن لم يكن قاصدا في ذلك بأن أراد أن يتلفظ بشيء آخر فجرى على لسانه لفظة الكفر نحو أنه أراد أن يقول " بحق آنكه تواخدى وما بند كان تو " فجرى على لسانه عكسه فلا يكفر وفي الأجناس عن محمد نصا أن من أراد أن يقول أكلت فقال كفرت أنه لا يكفر، قالوا هذا محمول على ما بينه وبين الله تعالى.

ثم إذا كان في المسألة وجوه توجب الإكفار ووجه واحد يمنعه يميل العالم إلى ما يمنعه) أي يجب عليه لما قال في مختصر الظهيرية على المفتي أن يميل إلى الوجه الذي يمنع التكفير تحسينا للظن بالمؤمن."

(كتاب الكراهية والاستحسان، ج:1، ص:324، ط:دار إحياء الكتب العربية)

فیروز اللغات میں ہے:

بھاڑ میں پڑے،جائے:دعائے بد، چولھے میں جائے، آگ لگے، ہمارے کس کام کا۔

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144711101839

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں