
ایک ہندو روزہ افطار کرانا چاہتا ہے ،کیا اس سے افطاری کا سامان لینا جائز ہے یا نہیں؟
ہندو سے افطاری کا سامان لینے میں کوئی حرج نہیں۔
فتاوی دار العلوم دیوبند میں ہے:
"(سوال ۲۵۳) ایک ہندو مشرک ہر ماہِ رمضان میں دودھ اور کھانڈ اور برف خرید کر مسلمانوں کے حوالہ کر دیتا ہے، اس سے روزہ افطار کرنے میں کچھ حرج تو نہیں ہے۔
(جواب) اس میں کچھ حرج نہیں ہے۔ فقط"
(کتاب الصوم ، نواں باب متفرقات ،ج:6،ص:306،ط:دار الاشاعت)
فقط واللہ تعالی اعلم
فتویٰ نمبر : 144709102044
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن