بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 محرم 1448ھ 24 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

ہندؤں کے ہاں کھانا کھانا اور ان کے تہوار میں شمولیت کرنا اور ان کے ہاں رہنے کا کیا حکم ہے؟


سوال

میری شادی کو چودہ سال ہو چکے ہیں، اور شادی ایسی لڑکی سے ہوئی تھی جو پہلے غیر مسلم(ہندو) تھی، پھر وہ اسلام قبول کر کے ہم نے  شادی کر لی، چونکہ میری بیوی نے اپنا مذہب چھوڑ کر اسلام قبول کیا تھا؛اس لیے گیارہ سال تک میرے سسرال کا ہمارے سے کوئی رابطہ نہیں تھا، اب ڈیڑھ دو سال سے اُن کے پاس آنا جانا شروع ہوگیا ہے،اور وہ لوگ ہندو مذہب کو ماننے والے ہیں ، تو ابھی وہاں پر جا کر میرے اور میری مسلمان  بیوی کے لئے اُن کا کھانا کھانا یا پھر اُن کے تہواروں میں شمولیت کرنا کیسا ہے؟تفصیل سے بتائیں! اور میری بیوی بچے اُن کے گھر رک سکتے ہیں؟ یا اُن کی شادی میں جا سکتے ہیں؟نیز میری بیوی کا اسلام لانے کے بعد میں نے نام تبدیل کرلیا تھا لیکن ان کے گھر والے میری بیوی کو ابھی بھی اس پہلے  نام سے پکارتے ہیں تو اس میں میری بیوی  کوکچھ گناہ تو نہیں ملے گا؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں وہاں جاکر اگر آپ لوگوں کو ان کے برتن پاک ہونے کا علم ہو اور یقین ہو کہ وہ کوئی غلط چیز استعمال نہیں کرتے تو ان لوگوں کا کھانا کھانا  جائز ہے، اور اگر علم نہ ہو تو اس میں کراہت ہے،اور ایسی صورت اگر کھالیا تو وہ حرام نہیں ہوگا، اور اگر علم ہو کہ  وہ کھانے پینے کی چیزوں میں نجس چیز ملاتے ہیں یا ان کے برتن ناپاک ہیں تو  ایسی صورت میں ان کا کھانا کھانا جائز نہیں ہوگا۔

اور آپ لوگوں کے لیے ان کی  مذہبی رسومات اور محافل میں شریک ہونے سے احتراز کرنا ضروری ہے۔ البتہ اگر ان کے  ہاں کوئی مذہبی تقریب نہ ہو، ویسے ہی خوشی وغیرہ کا موقع ہو، جیسے کہ شادی کی تقریب، تو آپ لوگوں کے لیے اس میں شرکت کی اجازت ہے، لیکن شادی وغیرہ کی وہ تقریب جس میں ان کی مذہبی رسومات ہوں اس میں شرکت کی اجازت نہیں ہوگی،نیز بسا اوقات اگر آپ کے بچے وہاں رک جائیں تو اس کی گنجائش ہے، لیکن مستقل رہائش ان کے ساتھ نہیں رکھنی چاہیے۔

اور اگر وہ لوگ آپ کی بیوی کو اس کے پہلے والے نام سے پکارتے ہوں  تو اس سے آپ کی بیوی کو کوئی گناہ نہیں ملے گا،البتہ خوش اسلوبی اور نرمی سے اسلام لانے کے بعد  والا نام ان کے زبانوں پر جاری کروایا جائے تو بہتر ہوگا۔

فتاوی ہندیہ میں ہے:

"قال محمد : رحمه الله تعالى - ويكره الأكل والشرب في أواني المشركين قبل الغسل ومع هذا لو أكل أو شرب فيها قبل الغسل جاز ولا يكون آكلا ولا شاربا حراما وهذا إذا لم يعلم بنجاسة الأواني فأما إذا علم فأنه لا يجوز أن يشرب ويأكل منها قبل الغسل ولو شرب أو أكل كان شاربا وآكلا حراما".

(کتاب الکراھیة،الباب الرابع عشر في اھل الذمة والأحکام التی تعود الیھم، ج:5، ص:347، ط:دار الفکر)

فتاوی محمودیہ میں ہے:

سوال: اگر کسی مسلمان  کے رشتہ دار ہندو کے گاؤں میں رہتے ہوں اور ہندو کے تہوار ہولی دیوالی وغیرہ پکوان، پوری، کچوری وغیرہ پکاتے ہیں، ان کا کھانا ہم لوگوں کو جائز ہے یا نہیں؟

جواب:.............جوکھانا کچوری وغیرہ ہندو کسی اپنے ملنے والے مسلمان کو دیں اس کا نہ لینا بہتر ہے، لیکن اگر کسی مصلحت سے لے لیا تو شرعاً اس کھانے کو حرام نہ کہا جائے گا الخ۔

(باب الاکل والشرب، الفصل الاول فی الاکل مع الکفار،ج:18،ص:33، ط:فاروقیہ)

وفیہ ایضاً:

سوال : ہندو سے دوستی کرنا کیسا ہے؟ جائز ہے یا کہ نہیں ، یعنی ایسے ہندو سے دوستی قائم کرنا جو کہ مسلمانوں کو کسی طرح کی کوئی تکلیف نہیں پہونچاتا ہے اور یہ دوستی اس کی بہت زمانہ سے چلی آرہی ہے، تو اس کے ساتھ دوستی قائم کرنا عند الشرع کیسا ہے؟

الجواب :بستی دار یا محلہ دار ہونے کی وجہ سے، یا کسی اور ضرورت کی وجہ سے اس کے ساتھ خوش اخلاقی سے پیش آنا اور میل ملاپ رکھنا درست ہے  ۔

(باب الموالات مع الکفارو الفسقہ، ج: 19، ص 545، ط: فاروقیہ)

احکام القرآن للجصاص میں ہے:

"ثم قال تعالى: ﴿فَلَا تَقْعُدْ بَعْدَ الذِّكْرَى مَعَ الْقَوْمِ الظَّالِمِينَ﴾[الأنعام: 68]

يعني: بعدما تذكر نهي الله تعالى لا تقعد مع الظالمين. وذلك عموم في النهي عن مجالسة سائر الظالمين من أهل الشرك وأهل الملة لوقوع الاسم عليهم جميعا، وذلك إذا كان في ثقة من تغييره بيده أو بلسانه بعد قيام الحجة على الظالمين بقبح ما هم عليه، فغير جائز لأحد مجالستهم مع ترك النكير سواء كانوا مظهرين في تلك الحال للظلم والقبائح أوغير مظهرين له; لأن النهي عام عن مجالسة الظالمين; لأن في مجالستهم مختارا مع ترك النكير دلالة على الرضا بفعلهم".

(سورۃ الأنعام، باب النھی عن مجالسة الظالمین، ج:3، ص:3، ط:دار الکتب العلمیة)

اللباب فی علوم الکتاب میں ہے:

"قوله: {‌بئس ‌الاسم الفسوق بعد الإيمان} أي ‌بئس ‌الاسم أن يقول له: يا يهودي يا فاسق بعد ما آمن".

(الحجرات:11، ج:17، ص:548، ط:دار الکتب العلمیة)

فقط واللہ أعلم


فتویٰ نمبر : 144702101047

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں