بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

فون پر گواہوں کے بغیر نکاح کرنا


سوال

 مسئلہ یہ ہے کہ ایک آدمی ہندو ہے شادی شدہ ہے، ـ یہی سنا تھا کہ وہ ایک مذہبی آدمی ہے ،اس کے وہاں پر ایک مسلمان لڑکی کام کرتی ہےـ، وہ ہندو آدمی اس لڑکی میں دلچسپی رکھتاہے اور اس سے نکاح کر چکا ہے۔ اس ہندو شخص نے کلمہ بھی پڑھا ہے، ـ کلمہ پڑھنے کی صورت اس نے یہ کی ہے کہ اس لڑکی سے کہا کہ کلمہ تو مولوی صاحب بھی پڑھائیں گے تو تم مجھے پڑھا دو۔ لڑکی نے خود کلمہ پڑھایا اس کے بعد جو اس سے نکاح کیا اس نکاح کا طریقہ اس نے یہ اختیار کیا کہ لڑکی کے پاس کوئی بھی موجود نہیں جو اس بات کا گواہ ہو ـ اس نے فون پر اس سے نکاح کیا۔ ـ اب ان کے درمیان میاں بیوی والا تعلق بھی قائم ہے۔

تو اب یہ مجھے بتا دیں کہ اس نکاح کی شرعی حیثیت کیا ہے؟ کیا اس طرح نکاح ہو جاتا ہے؟   نہ نکاح نامہ ہے نہ کوئی اندراج ہے نہ ہی شناختی کارڈ میں۔ 

تو مجھے بتائیے کیا یہ نکاح ٹھیک ہے؟ اور یہ جو ان کے درمیان میاں بیوی والا تعلق ہے کیا وہ ٹھیک ہے؟ کیونکہ اس شخص کی فیملی ہندو ہے وہ اپنی فیملی میں یہ سب کبھی نہیں بتاۓ گا۔ مگر جب اس لڑکی سے ملتا ہے اس حوالے سے وہ خود کو مسلمان ظاہر کر رہا ہے۔اور اس کے سامنے نماز روزہ بھی ادا کرتا ہے ۔ 

ایک اہم بات یہ بھی آپ سے عرض کرتی چلوں کہ اس نے یہ اجازت بھی دی رکھی ہے کہ تم کسی سے نام کا نکاح کرلو۔

بات یہ کہ لڑکی نماز روزے کی پابند ہے اور اس نے کبھی اس جیسے  آدمی کو رشتے کی حوالے سے پسند نہیں کیا  ،یہ صاف جادو کا معاملہ نظر آرہا ہےـ ۔براۓ مہربانی تفصلی رہنمائی فرما دیں ۔

جواب

صورتِ مسئولہ میں اگر مذکورہ شخص نے واقعۃً صدقِ دل سے اس مسلمان لڑکی سے کلمہ پڑھ کر اسلام قبول کیا ہے تو شرعاً یہ شخص مسلمان ہوچکا ہے ، اور تمام شرعی احکامات کی پاسداری اس شخص پر لازم ہے، اس شخص کا اب اپنے آپ کو غیرمسلم ظاہر کرنا جائز نہیں ہوگا۔ 

البتہ اگر واقعۃً گواہوں کے بغیر محض ٹیلی فون پر نکاح کیا گیا ہے تو شرعاً یہ نکاح منعقد نہیں ہوا، اس طرح کے نکاح کی بنیاد پر دونوں کا اکٹھے رہنا یا میاں بیوی والا تعلق قائم کرنا ہرگز جائز نہیں ،  لہذا دونوں ایک دوسرے کے لیے اجنبی ہیں دونوں کا ایک ساتھ رہنا اور میاں بیوی والا تعلق قائم کرنا حرام ہے، دونوں  پر لازم ہے کہ فوراً ایک دوسرے سے علیحدہ ہو جائیں اور اب تک جو ساتھ رہے اس پر صدق دل سے توبہ و استغفار کریں۔

فتاویٰ ہندیہ میں ہے:

"(وأما شروطه)... (ومنها) سماع كل من العاقدين كلام صاحبه هكذا في فتاوى قاضي خان... (ومنها) الشهادة قال عامة العلماء: إنها شرط جواز النكاح هكذا في البدائع... (ومنها) سماع الشاهدين كلامهما معا هكذا في فتح القدير... (ومنها) أن يكون الإيجاب والقبول في مجلس واحد ".

(كتاب النكاح، الباب الأول في تفسير النكاح شرعا وصفته وركنه وشرطه وحكمه، 1/ 269-267، ط: رشيدية)

بدائع الصنائع میں ہے:

"فصل: ومنها إسلام الرجل إذا كانت المرأة مسلمة فلا يجوز إنكاح المؤمنة الكافر؛ لقوله تعالى: {ولا تنكحوا المشركين حتى يؤمنوا} [البقرة: 221] ولأن في إنكاح المؤمنة الكافر خوف وقوع المؤمنة في الكفر؛ لأن الزوج يدعوها إلى دينه، والنساء في العادات يتبعن الرجال فيما يؤثرون من الأفعال ويقلدونهم في الدين إليه وقعت الإشارة في آخر الآية بقوله عز وجل: {أولئك يدعون إلى النار} [البقرة: 221] لأنهم يدعون المؤمنات إلى الكفر، والدعاء إلى الكفر دعاء إلى النار؛ لأن الكفر يوجب النار، فكان نكاح الكافر المسلمة سببا داعيا إلى الحرام فكان حراما".

(كتاب النكاح، فصل:ومنها إسلام الرجل2/ 271، ط: سعيد)

الموسوعۃ الفقہیہ الکویتیہ میں ہے:

"التوبة من المعصية واجبة شرعا على الفور باتفاق الفقهاء؛ لأنها من أصول الإسلام المهمة وقواعد الدين، وأول منازل السالكين قال الله تعالى: {وتوبوا إلى الله جميعا أيها المؤمنون لعلكم تفلحون}".

(تحت مادة: توبة، حكم التوبة، 14/ 125، ط: دارالسلاسل)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144703100867

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں