بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

ہائی اسکول میں ٹیچر بننے کے لیے رشوت دینا


سوال

اگر ہائی اسکول میں کسی کو ٹیچر بننا ہو تو پرائیویٹ اسکول والے اسے 30 لاکھ یا 40 لاکھ روپے بھرنے کے لیے کہتے ہیں اگر کوئی شخص 30 لاکھ یا 40 لاکھ جو بھی رقم انتظامیہ کمیٹی طے کرتی ہے ان کو دیے جاتے ہیں تو اسے ٹیچر کی جاب مل جاتی ہے تو کیا اس طرح سے پیسے دے کر جاب میں لگنا جائز ہے؟ ہندوستان کی حالت میں بہت ہی کم لوگوں کو جاب لگتی ہے، کیوں کہ اس کے امتحان بھی بہت تاخیر سے ہوتے ہیں، حالاں کہ پڑھانے والے  میں وہ تمام صلاحیتیں موجود ہوتی  ہیں، جن صلاحیتوں کی طالب علم کو پڑھانے کے لیے ضرورت ہوتی ہے اس طرح سے یک مشت رقم دے کر ٹیچر بننا جائز ہے؟ کیا ہندوستان کے حالات میں یہ درست ہے؟ اس لیے کہ دیکھا جاتا ہے کہ ایک شخص بہت محنت کرتا ہے لیکن حکومت کی طرف سے امتحان نہ ہونے کی وجہ سے اسے کئی سال لگ جاتے ہیں اور پریشانی ہوتی ہے علم اور صلاحیت بھی ضائع ہوتی ہے ، کیوں کہ ضروریات زندگی کے لیے دوسرا دنیاوی کام کرنا پڑتا ہے، جس کی وجہ سے علم ضائع ہوتا ہے اور علم میں اضافے کے لیے وقت دینا بھی مشکل ہو جاتا ہے ۔

جواب

واضح رہے کہ رشوت لینا اور دینا دونوں ہی ناجائز اور حرام ہے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسے اشخاص پر لعنت فرمائی ہے، چنانچہ حضرت عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ ارشاد فرماتے ہیں کہ: "نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے رشوت لینے اور دینے والے دونوں پر لعنت فرمائی۔"

لہٰذا کسی بھی اسکول یا کسی بھی ادارے میں نوکری حاصل کرنے کے لیے رشوت دینا جائز نہیں ہے۔ اگر بغیر رشوت کے وہاں نوکری حاصل کرنا ممکن نہ ہو، تو کسی اور ادارے میں ملازمت حاصل کرنے کی کوشش کریں۔

مشکاۃ المصابیح میں ہے:

"وَعَن عبد الله بن عَمْرو قَالَ: لَعَنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسلم ‌الرَّاشِيَ ‌وَالْمُرْتَشِيَ. رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَابْنُ مَاجَهْ."

(كتاب الإمارة  والقضاء، ج:2، ص:1108، ط:المكتب الإسلامي)

مرقاۃ المفاتیح میں ہے:

"(وعن عبد الله بن عمرو رضي الله عنهما) : بالواو (قال: «لعن رسول الله صلى الله عليه وسلم الراشي والمرتشي» ) : أي: معطي الرشوة وآخذها، وهي الوصلة إلى الحاجة بالمصانعة، وأصله من الرشاء الذي يتوصل به إلى الماء، قيل: الرشوة ما يعطى لإبطال حق، أو لإحقاق باطل، أما إذا أعطى ليتوصل به إلى حق، أو ليدفع به عن نفسه ظلماً فلا بأس به، وكذا الآخذ إذا أخذ ليسعى في إصابة صاحب الحق فلا بأس به، لكن هذا ينبغي أن يكون في غير القضاة والولاة؛ لأن السعي في إصابة الحق إلى مستحقه، ودفع الظالم عن المظلوم واجب عليهم، فلايجوز لهم الأخذ عليه."

(کتاب الأمارة والقضاء، باب رزق الولاة وهدایاهم، ج:6، ص:2437، ط:دار الفکر)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144710101071

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں