
میری والدہ نے پہلے ایک نکاح کیا تھا، لیکن ان کے پہلے شوہر کا انتقال ہو گیا، بعد ازاں انہوں نے دوسری شادی کی، اور دوسرے شوہر کا بھی انتقال ہو گیا، پہلے شوہر سے والدہ کے دو بیٹے اور ایک بیٹی ہے، جبکہ دوسرے شوہر سے صرف ایک بیٹا ہے۔
والدہ کی ملکیت میں تین کمرے تھے جو انہوں نے اپنی ذاتی رقم سے تعمیر کروائے تھے، والدہ نے اپنی زندگی ہی میں ہر بیٹے کو ایک ایک کمرہ مکمل قبضہ اور تصرف کے ساتھ دے دیا تھا، اب والدہ کا انتقال کا بھی انتقال ہوگیا۔
1996 میں ایک سیاست دان نے ایک سند جاری کی تھی جس میں تمام کمرے بڑے بھائی کے نام درج کر دیے گئے تھے، لیکن بعد میں حکومت نے اس سند کو منسوخ کر دیا، اب بڑا بھائی یہ دعویٰ کر رہا ہے کہ تمہارا کمرہ بھی میرا ہے، کیا بڑے بھائی کا یہ دعویٰ درست ہے؟
صورتِ مسئولہ میں اگر واقعۃً مذکورہ تین کمرے سائل کی والدہ کی ذاتی ملکیت میں تھے اور سائل کی والدہ نے اپنی زندگی میں ہی یہ تینوں کمرے ہر ایک بھائی کو باقاعدہ ہبہ کر کے ان کا مکمل قبضہ اور تصرف بھی دے دیا تھا،تو اس سے ہر بیٹا اپنے اپنے کمرے کا مالک بن چکا تھا، بعد ازاں کسی شخص کا سند جاری کرکے تمام کمرے کسی ایک بھائی کے نام درج کرنے سےیہ کمرے اس کی ملکیت میں شامل نہیں ہوئے، لہٰذا اب بڑے بھائی کا سائل پر یہ دعویٰ کرنا کہ "تمہارا کمرہ بھی میرا ہے" شرعاً درست نہیں ہے، سائل کا کمرہ سائل ہی کی ملکیت ہے۔
فتاوی عالمگیری میں ہے:
"ومنها أن يكون الموهوب مقبوضا حتى لا يثبت الملك للموهوب له قبل القبض وأن يكون الموهوب مقسوما إذا كان مما يحتمل القسمة."
(کتاب الہبۃ،ج:4،ص:374،ط:دارالفکر)
فتاوی شامی میں ہے:
"(وتتم) الهبة (بالقبض) الكامل (ولو الموهوب شاغلاً لملك الواهب لا مشغولاً به) والأصل أن الموهوب إن مشغولاً بملك الواهب منع تمامها، وإن شاغلاً لا، فلو وهب جرابًا فيه طعام الواهب أو دارًا فيها متاعه، أو دابةً عليها سرجه وسلمها كذلك لاتصح، وبعكسه تصح في الطعام والمتاع والسرج فقط؛ لأنّ كلاًّ منها شاغل الملك لواهب لا مشغول به؛ لأن شغله بغير ملك واهبه لايمنع تمامها كرهن وصدقة؛ لأن القبض شرط تمامها وتمامه في العمادية."
(کتاب الھبة،ج:5،ص:690،ط:سعید)
فقط وللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144703100676
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن