
والد مرحوم کی ملکیت میں بہت زیادہ زمینیں تھیں ،والد نے اپنی زندگی میں بحالت صحت تمام اولاد (تین بیٹے، پانچ بیٹیاں) میں سے ہر ایک کو پچاس پچاس کنال اراضی پو رےاختیار کے ساتھ ہبہ کردی تھی، والد نے یہ کہہ کر ہرایک کا حصہ دے دیا تھا کہ یہ پچاس کنال اراضی آپ کا ہے تمہاری مرضی اس کو فروخت کرو یا اس میں تعمیر کرکے رہائش اختیار کرو یا اس کو کرایہ پر دے دو ، اور ہرایک نے اپنے اپنے حصہ پر قبضہ کرلیاتھا،اور یہ بات (کہ والد نے ہرایک کوپورے اختیار کے ساتھ پچاس کنال زمین ہبہ کردی تھی اور ہر ایک نے اپنے اپنے حصے کی پچاس کنال زمین پر قبضہ کرلیا تھا) تمام ورثاء تسلیم کرتے ہیں ،اب جب کہ والد مرحوم کے انتقال کو بارہ سال گزرگئے ہیں ،تو ایک بہن کو اس کا شوہر یہ کہتاہے کہ دوبارہ اپنے والد کی میراث میں سے اپنا حصہ طلب کرو، جب کہ والد کی ملکیت میں صرف اور صرف زمینیں تھیں جو والد نے اپنی زندگی میں تمام اولاد میں برابر برابر تقسیم کردی تھیں، اس کے علاوہ ان کے ترکہ میں کچھ بھی نہیں تھا۔
اب سوال یہ ہے کہ کیا والد نے جو اپنی زندگی میں تمام اولاد کو پچاس پچاس کنال اراضی ہبہ کردی تھی،وہ ان اولاد کی ملکیت شمار ہوگی یاوالد کاترکہ ؟
صورتِ مسئولہ میں اگر واقعتًا والد مرحوم نے اپنی تمام اولاد میں سے ہر ایک کو پچاس پچاس کنال زمین بطورِ ہبہ (تحفہ ) دیتے ہوئے ہر ایک کے حوالے بھی کردی تھی اور ہر ایک نے اپنے اپنے حصے کی زمین پر قبضہ بھی کرلیا تھا تو ایسی صورت میں اولاد میں سے ہر ایک اپنے اپنے حصے کی پچاس کنال زمین کا شرعاً مالک شمار ہوگا اور یہ زمینیں ان کی ذاتی ملکیت میں شمارہوں گی، والد کا ترکہ شمار نہیں ہوں گی، سائل کی بہن کے شوہر کا موقف شرعا درست نہیں۔
فتاوی شامی میں ہے:
"(وحكمها ثبوت الملك للموهوب له غير لازم) فله الرجوع والفسخ."
(کتاب الهبة، ج:5، ص:688، ط:سعید)
الموسوعۃ الفقہیۃ میں ہے:
"أما القبض فلا بد منه لثبوت الملك، وذلك عند الحنفية والشافعية؛ لأن الملك لو ثبت بدونه للزم المتبرع شيء لم يلتزمه، وهو التسلم، فلا تملك بالعقد بل بالقبض."
(حرف التاء، تطوع، الھبة، ج:12، ص:171، ط:وزارة الأوقاف والشئون الإسلامية )
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144612101160
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن