
آج ایک مفتی صاحب نے زکات سے متعلق معلومات دیتے ہوئے یہ ارشاد فرمایا کہ : ’’سامانِ تجارت سے مراد وہ چیزیں ہیں جو بیچنے کی پختہ نیت سے خریدی گئی ہوں اور ز کات کی تاریخ آنے تک بیچنے کی نیت برقرار ہو ‘‘ ۔
پھر اس پر تفصیلی کلام فرمایا۔
میرا سوال ’’خریدنے‘‘کی قید سے متعلق ہے ، کیا کسی چیز کے مالِ تجارت بننے کےلیے اُس کو بنیتِ فروخت ’’خریدنا‘‘ لازم و ضروری ہے؟
بایں معنیٰ کہ اگر چیز ’’خریدی‘‘نہیں ، بلکہ مالک بننے کے جو دیگر اسباب ہیں اُن میں سے کسی سبب کے ذریعے مالک بن گیا تو کیا وہ چیز سامان ِتجارت نہیں قرار پائے گی؟ مثلاً: کسی نے ہدیہ کردی، میراث میں مل گئی ، یا وصیت وغیرہ کے ذریعے حاصل ہو گئی ۔
اگر کوئی چیز ’’خریداری‘‘کے ذریعے تو ملکیت میں نہیں آئی، بلکہ ہبہ و میراث وغیرہ ذرائع سے ملکیت میں آ گئی ہے، مگر مالک نے بیچنے کی نیت کر لی ہے کہ میں اس کو بیچتا ہوں، تو کیا اب یہ ’’سامانِ تجارت‘‘ قرار پا جائے گی؟ عام ہے کہ کوئی عامی آدمی یہ نیت کرے ، یا یہ کہ کسی بندے کی مثلاً :موبائلوں کی دوکان ہے ،جہاں وہ موبائل اور اُس سے متعلقہ چیزیں فروخت کرتا ہے، اُسے اُ س کے دوست نے ایک موبائل گفٹ کردیا ، تو یہ موبائل اُس نے ”خریدا“ نہیں ہے، مگر اُس نے بیچنے کی نیت کر کے وہ موبائل لا کر اپنی دوکان میں دیگر ”برائے فروخت موبائلوں“ کے ساتھ لگا دیا کہ یہ بھی برائے فروخت ہے، تو کیا اس سے وہ موبائل ”سامانِ تجارت“ قرار پائے گا یا نہیں ؟
واضح رہے کہ مال تجارت وہ چیز ہے جسے فروخت کرنے کی نیت سے ہی خریدا گیاہو، جو چیز ہبہ(گفٹ)،یا میراث، یا وصیت میں ملے وہ صرف فروخت کرنے کی نیت سے مال تجارت نہیں بنتی، بلکہ جب اُس چیز کو بیچ دیا جائے تو زکات کا سال پورا ہونے پر اس کی جو رقم موجود ہوگی اس کی زکاۃ دینی ہوگی۔
"الدر المختار"میں ہے:
"(لا يبقى للتّجارة ما) أي: عبد مثلاً (اشتراه لها فنوى) بعد ذلك (خدمته ثُمّ) ما نواه للخدمة (لا يصير للتّجارة)؛ وإن نواه لها ما لم يبعه بجنس ما فيه الزّكاة. والفرق أنّ التّجارة عمل فلا تتمّ بمجرد النيّة، بخلاف الأوّل فإنّه ترك العمل فيتمّ بها (وما اشتراه لها) أي: للتّجارة (كان لها) لمقارنة النيّة لعقد التجارة (لا ما ورثه ونواه لها) لعدم العقد إلّا إذا تصرّف فيه أي: ناوياً فتجب الزّكاة لاقتران النيّة بالعمل ... (وما ملكه بصنعه كهبة أو وصية أو نكاح أو خلع أو صلح من قود) ... (ونواه لها كان له عند الثّاني والأصحّ) أنه (لا) يكون لها،"بحر" عن "البدائع".
(الدر المختار، كتاب الزكاة، ج: 2، ص: 272-273، ط: سعيد)
فقط والله أعلم
فتویٰ نمبر : 144707101689
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن