
ایک آدمی کے تین بیٹے ہوں، وہ اپنے ایک بیٹے کے پاس رہائش پذیر ہو، اور وہ اپنی زندگی میں زمین خرید لے، اور جس بیٹے کے پاس رہائش پذیر ہو وہ زمین اس کے حوالے کر دے، اور کاغذات اس کے نام کر دے، یہ زمین رہائش والی جگہ سے الگ ہے، سوال یہ ہے کہ وفات کے بعد باقی دو بیٹوں کو حصہ ملے گا یا نہیں؟یا اس ایک بیٹے کی ملکیت میں رہے گی؟
واضح رہے کہ اپنی زندگی میں اپنی جائیداد اولاد کے درمیان تقسیم کی جائے تو وہ ہبہ (گفٹ) کہلاتی ہے اور ہبہ سے متعلق شرعی حکم یہ ہے کہ اولاد کے درمیان ہبہ (گفٹ) کرنے میں برابری کی جائے، رسول اللہ ﷺ نے اولاد کے درمیان ہبہ کرنے میں برابری کرنے کا حکم دیا ہے، جیساکہ نعمان بن بشیر رضی اللہ تعالی عنہ کی روایت میں ہے:
"و عن النعمان بن بشير أن أباه أتى به إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال: إني نحلت ابني هذا غلامًا، فقال: «أكلّ ولدك نحلت مثله؟» قال: لا، قال: «فأرجعه». وفي رواية ... قال: «فاتقوا الله واعدلوا بين أولادكم»".
(مشکوٰۃ المصابیح، 1/261، باب العطایا، ط؛ قدیمی)
ترجمہ:"حضرت نعمان ابن بشیرؓ کے بارے منقول ہے کہ (ایک دن ) ان کے والد (حضرت بشیر ؓ) انہیں رسول کریمﷺ کی خدمت میں لائے اور عرض کیا کہ میں نے اپنے اس بیٹے کو ایک غلام عطا کیا ہے، آپ ﷺ نے فرمایا : کیا آپ نے اپنے سب بیٹوں کو اسی طرح ایک ایک غلام دیا ہے؟، انہوں نے کہا : ”نہیں “، آپ ﷺ نے فرمایا تو پھر (نعمان سے بھی ) اس غلام کو واپس لے لو، ایک اور روایت میں آتا ہے کہ …… آپ ﷺ نے فرمایا: اللہ تعالی سے ڈرو اور اپنی اولاد کے درمیان انصاف کرو۔"
(مظاہر حق، 3/193، باب العطایا، ط؛ دارالاشاعت)
البتہ کسی بیٹے یا بیٹی کو کسی معقول وجہ کی بنا پر دوسروں کی بنسبت کچھ زیادہ دینا چاہے تو دےسکتا ہے، یعنی کسی کی شرافت ودِین داری یا غریب ہونے کی بنا پر یا زیادہ خدمت گزار ہونے کی بنا پر اس کو دوسروں کی بنسبت کچھ زیادہ دے تو اس کی اجازت ہے۔
مذکورہ تفصیل کی رو سے صورتِ مسئولہ میں مذکورہ شخص نے اپنی جائیداد اپنے ایک ہی بیٹے کو دے دی ، اور دوسری اولاد کو بلاکسی وجہ محروم کیا تو ان کا یہ عمل درست نہیں تھا، والد کا صرف بیٹوں کو دینا اور بیٹیوں کو محروم رکھنا ہرگز جائز نہیں تھا ، شرعی اعتبار سے یہ تقسیم غیر منصفانہ ہے، تاہم مذکورہ جائیداد بیٹے کو گفٹ کر کے اس کے حوالے کر دی ہے تو ایسی صورت میں بیٹا اس کا مالک بن گیا ہے۔
اب اس کی تلافی کی صورت یہ ہے مذکورہ شخص اپنی دیگر اولاد کو بھی اس کے بقدر حصہ دے دے؛ تاکہ آخرت میں پریشانی نہ ہو ، اور والد کے پاس اگر کچھ اور جائیداد نہ ہو تو مذکورہ بیٹے کو چاہیے کہ والد کو اس گناہ سے بچانے کے لیے وہ اپنے بھائی بہنوں کو بھی حصہ دے دے، اور آپس میں معافی تلافی کرلیں؛ تاکہ کسی کو بھی آخرت میں پریشانی کا سامنا نہ ہو ۔
فتاوی شامی میں ہے:
"وفي الخانية: لا بأس بتفضيل بعض الأولاد في المحبة؛ لأنها عمل القلب، وكذا في العطايا إن لم يقصد به الإضرار، وإن قصده فسوى بينهم يعطي البنت كالابن عند الثاني، وعليه الفتوى."
(5/696، کتاب الھبۃ، ط: سعید)
البحر الرائق میں ہے:
"يكره تفضيل بعض الأولاد على البعض في الهبة حالة الصحة إلا لزيادة فضل له في الدين."
(7/288، کتاب الھبۃ، ط: رشیدیہ)
فتاویٰ عالمگیری میں ہے:
"لايثبت الملك للموهوب له إلا بالقبض هو المختار، هكذا في الفصول العمادية."
(4/378، الباب الثانی فیما یجوز من الھبۃ وما لا یجوز، ط: رشیدیہ)
وفیہ ایضا:
"ليس له حق الرجوع بعد التسليم في ذي الرحم المحرم وفيما سوى ذلك له حق الرجوع إلا أن بعد التسليم لاينفرد الواهب بالرجوع، بل يحتاج فيه إلى القضاء أو الرضا أو قبل التسليم."
(4/385، الباب الخامس فی الرجوع فی الھبۃ ، ط: رشیدیہ)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144701101191
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن