
ایک عورت ہے کہ اسے ایک مہینے میں دو مرتبہ حیض کا خون آتا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اسے مہینے کے شروع میں 8 دن حیض آیا، حالانکہ اس کی حیض کی مدت 8 دن ہے۔ اب 8 دن پورے ہوگئے، مگر پاکی کے 15 دن پورے ہونے سے پہلے پھر اسے خون آیا، اور اس کی مدت بھی 8 دن ہے۔
تو اب یہ عورت کیا کرے؟ نمازیں کب پڑھے، کب چھوڑے؟ اس کی نمازوں کا کیا حکم ہوگا؟ اور دونوں خون کی مدتوں میں سے حیض کا خون کون سا ہے، استحاضہ کا خون کون سا ہے؟ یہ قرآن کی تلاوت کب کرے؟ اس مسئلے کی رہنمائی فرمائیں۔
واضح رہے کہ شرعاً دو حیضوں کے درمیان پندرہ دن کا فاصلہ ہونا ضروری ہے،پندرہ دن سے پہلے آنے والا خون شرعاً استحاضہ شمار ہوگا،اور عورت کی عادت کے مطابق ہی حیض اور طہر کے ایام مقرر کیے جائیں گے۔
لہذا صورتِ مسئولہ میں مذکورہ خاتون کے حیض کی عادت چوں کہ 8 دن کی ہے اس لیے 8دن مذکورہ خاتون کو جو خون آرہا ہے وہ حیض شمار ہوگا اور آٹھویں دن حیض سے پاک ہوکر مذکورہ خاتون کوپندرہویں دن سے پہلے جو خون آرہاہے وہ استحاضہ کا خون شمار ہوگا اور استحاضہ کے دنوں کا حکم یہ ہے کہ اس میں نماز ،روزہ ،تلاوت ،قربت غرض یہ کہ پاکی والے تمام اعمال کیے جائیں گے، اور عادت کے مطابق جب تک پاکی کے 15دن مکمل نہ ہوجائیں اس وقت تک مذکورہ خاتون پاک شمار ہوگی،اور جب مذکورہ خاتون کے پاکی کے دن عادت کے مطابق مکمل ہوجائیں تو حیض کےآٹھ ایام اس پاکی کے بعد سے شمارکیے جائیں گے۔
فتاوی شامی میں ہے:
"(وأقل الطهر) بين الحيضتين أو النفاس والحيض (خمسة عشر يومًا) ولياليها إجماعًا (ولا حد لأكثره)".
(باب الحیض، ج:1، ص: 285، ط:سعید)
البحر الرائق میں ہے:
"فالأصل عند أبي يوسف وهو قول أبي حنيفة الآخر على ما في المبسوط أن الطهر المتخلل بين الدمين إذا كان أقل من خمسة عشر يوما لا يصير فاصلا بل يجعل كالدم المتوالي؛ لأنه لا يصلح للفصل بين الحيضتين فلا يصلح للفصل بين الدمين."
( كتاب الطهارة،باب الحيض،ج:1،ص:216،ط:دار الکتب الإسلامي)
فتاوی شامی میں ہے:
"ودم الإستحاضة حکمه کرعاف دائم وقتًا کاملاً لایمنع صومًا وصلاةً ولو نفلاً وجماعَا؛ لحدیث: توضئي وصلي وإن قطر الدم علی الحصیر".
(کتاب الطهارۃ،باب الحیض،ج:1،ص:298،ط: سعید )
فقط والله أعلم
فتویٰ نمبر : 144705101841
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن