بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

کیا موبائل کی تصویر، یا تصویر کا البم بنانا، یا ہاتھ سے تصویر بنانا یہ سب ایک ہی حکم میں آتے ہیں؟


سوال

ایک صورت تو موبائل میں تصویر لینے کی ہے، دوسری صورت تصویر لے کر اس کا البم بنانا، پھر اسے دیوار پر یا الماری وغیرہ میں رکھنا، تیسری صورت اسکیچ بنانا ہے۔ کیا ان تینوں کا حکم ایک ہے یا نہیں؟

جواب

واضح رہے کہ تصویر سازی خواہ پینسل /قلم /برش وغیرہ سے ہو ،یا قدیم وجدید کیمرے کی مدد سے ہو،ڈیجیٹل شکل میں تصویر  ہو،یا اس کو دھلوا کر ایلبم یا فریم بنایا گیا ہو،بہرصورت ناجائز ہے،تمام صورتوں کا حکم یکساں ہے،لہذا تصویر سازی سے اجتناب لازم ہے،کیوں کہ احادیث میں تصویر سازوں کے بارے میں سخت وعیدیں  وار د ہوئی ہیں، ایک حدیثِ  مبارکہ میں رسولِ پاک صلی اللہ علیہ و سلم کا اِرشاد ہے کہ قیامت کے دن سب سے سخت عذاب تصویر بنانے والوں کو ہوگا۔ دوسری حدیث مبارک میں نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے ارشاد فرمایا کہ جان دار کی تصویر بنانے والے کو قیامت کے دن حکم دیا جائے گا اس تصویر میں روح ڈالے اور وہ ایسا نہیں کرسکے گا، پھر اس شخص کو جہنم میں ڈال دیا جائے گا۔ ایک اور حدیثِ  مبارک میں رسولِ  کریم صلی اللہ علیہ و سلم کا ارشاد ہے کہ جس گھر میں جان دار  کی تصویر یا کتا ہو وہاں رحمت کے فرشتے نہیں آتے۔

حدیث شریف میں ہے:

"وعن عائشة عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: «أشد الناس عذاباً يوم القيامة الذين يضاهون بخلق الله."

(مشكاة المصابيح، ج، 2، صفحہ: 518، رقم الحدیث: 4495، ط: المكتب الإسلامي - بيروت)

"ترجمہ: حضرت عائشہ ؓ  ، رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتی ہیں کہ  آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:  قیامت کے دن سب لوگوں سے زیادہ سخت عذاب  ان لوگوں کو ہوگا جو تخلیق میں اللہ تعالیٰ کی مشابہت اختیار کرتے ہیں۔"

(مظاہر حق جدید ، ج: 4، صفحہ: 229،  ط:  دارالاشاعت)

ایک اور حدیثِ مبارک  میں ہے:

"عن عبد الله بن مسعود قال: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: «أشد الناس عذاباً عند الله المصورون."

(مشكاة المصابيح،ج: 2، صفحہ: 519، رقم الحدیث:4497، ط: المكتب الإسلامي - بيروت)

ترجمہ: حضرت عبداللہ بن مسعودؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم  کویہ فرماتے ہوئے سنا کہ ”اللہ تعالیٰ کے ہاں سخت ترین عذاب کا مستوجب، مصور  (تصویر بنانے والا)ہے“۔

(مظاہر حق جدید،   ج: 4، صفحہ: 230،  ط: دارالاشاعت)

ایک اور حدیثِ مبارک  میں اشاد ہے:

"عن ابن عباس قال: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: «كل مصور  في النار يجعل له بكل صورة صورها نفسا فيعذبه في جهنم".

(مشكاة المصابيح،ج: 2، صفحہ: 519، رقم الحدیث:4497، ط:  المكتب الإسلامي - بيروت)

"ترجمہ: حضرت ابن عباسؓ کہتے ہیں کہ  میں نے رسول کریم  صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے  ہوئے سنا کہ” ہر مصور دوزخ میں ڈالا جائے گا، اور اس کی بنائی  ہوئی ہر تصویر کے بدلے ایک شخص پیدا کیا جائے گا جو تصویر بنانے والے کو دوزخ میں عذاب دیتا رہے گا۔"

(مظاہر حق جدید، ج: 4، صفحہ: 230، ط: دارالاشاعت)

البحر الرائق میں ہے :

"وظاهر كلام النووي في شرح مسلم الإجماع على تحريم تصويره صورة الحيوان وأنه قال: قال أصحابنا وغيرهم من العلماء: ‌تصوير ‌صور ‌الحيوان حرام شديد التحريم وهو من الكبائر لأنه متوعد عليه بهذا الوعيد الشديد المذكور في الأحاديث يعني مثل ما في الصحيحين عنه - صلى الله عليه وسلم - «أشد الناس عذابا يوم القيامة المصورون يقال لهم أحيوا ما خلقتم» ثم قال وسواء صنعه لما يمتهن أو لغيره فصنعته حرام على كل حال لأن فيه مضاهاة لخلق الله تعالى وسواء كان في ثوب أو بساط أو درهم ودينار وفلس وإناء وحائط وغيرها اهـ.فينبغي أن يكون حراما لا مكروها إن ثبت الإجماع أو قطعية الدليل لتواتره."

(باب مایفسد الصلاۃ وما یکرہ فیہا ،ج:2،ص:29،دارالکتاب الاسلامی)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144704100344

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں