بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

ہرنیا اور گردوں کی بیماری کی بناء پر حمل ساقط کرانے کا حکم


سوال

میں  اس وقت تقریباً دو ماہ کے حمل سے ہوں، میرے پہلے سے دو بچے ہیں،میرے پیٹ میں ہرنیا ہے، جس کا پہلے آپریشن ہو چکا ہے۔وہ آپریشن ناکام  ہو چکا ہے،کیوں کہ  جب بھی حمل ٹھہرتا ہے، تو ہرنیا دوبارہ بڑھ جاتا ہے۔

میں نے  گائنا  لوجسٹ کو دکھایا ہے، انہوں نے بتایا کہ جیسے جیسے بچے کی گروتھ  ہو گی، ہرنیا بھی بڑھتا جائے گا، جس سے میری صحت کو شدید نقصان پہنچ سکتا ہے۔اور جان کو خطرہ ہے۔

مزید یہ کہ میرے گردے میں سوجن بھی رہتی ہے، اور گردوں کے ڈاکٹر نے کہا ہے کہ جب حمل پانچ یا چھ ماہ کا ہوگا، تو اس سے گردوں پر خطرناک اثرات پڑ سکتے ہیں، اس حالت میں میرے لیے پیناڈول کے علاوہ کوئی دوا استعمال کرنا ممکن نہیں۔

اس وقت میں بیڈ ریسٹ پر ہوں، اور گائنی ڈاکٹر نے کہا ہے کہ  آپ کسی دارالافتاءسے   فتویٰ لے کر آئیں ۔

اس صورت میں میری شرعی رہنمائی فرمائیں؟

جواب

واضح رہے کہ اگر حمل سے عورت کی زندگی  کو خطرہ  ہو یا کسی شدید مضرت کا اندیشہ ہو  اور کوئی  تجربہ کار مستند مسلمان ڈاکٹر اس کی تصدیق کردے  تو ایسے اعذار کی بنا پر  حمل میں روح پڑجانے سے پہلے   پہلے (جس کی مدت تقریباً چار ماہ ہے)    اسے ساقط کرنے کی گنجائش ہوگی، اور چار ماہ کے بعد کسی صورت میں اسقاطِ حمل جائزنہیں ہے، اور  شدید عذر نہ ہو تو پھر  حمل کو ساقط کرنا   چار ماہ سے پہلے  بھی  جائز نہیں، بل کہ بڑا گناہ ہے۔لہذا صورت مسئولہ میں  اگر حمل چار ماہ سے کم کا ہے اور حمل  کی وجہ سےماں کی زندگی  کو ہرنیا اور گردوں کی خرابی کی وجہ سےیقینی یا غالب گمان کے مطابق خطرہ ہے تو اس صورت میں متدین ڈاکٹر کی مشاورت کے بعد اسے ضائع کرنے کی  گنجائش ہوگی،تاہم موہوم خطرہ کی وجہ سے حمل ضائع کروانے سے اجتناب کرنا چاہیے۔

فتاوی شامی میں ہے:

"ویکره أن تسعی لإسقاط حملها، وجاز لعذر حیث لایتصور.... (قوله: ویکره الخ) أي مطلقًا قبل التصور و بعد علی ما اختاره في الخانیة کما قد مناه قبیل الا ستبراء، وقال: إلا أنّها لاتأثم إثم القتل. (قوله: وجاز لعذر) کالمرضعة إذا ظهربه الحبل وانقطع لبنها ولیس لأب الصبي ما یستأجر به الظئر وخاف هلاك الولد، قالوا: یباح لها أن تعالج في استنزال الدم مادام الحمل مضغة أو علقة ولم یخلق له عضو، وقدروا تلك المدة بمائة وعشرین یوماً، وجاز؛ لأنّه لیس بآدمي، وفیه صیانة الآدمي، خانیة."

(كتاب الحظر والإباحة، باب الإستبراء وغيره، فصل في البيع، ج:6  ص:429، ط: سعید)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144705101101

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں