بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

6 محرم 1446ھ 13 جولائی 2024 ء

دارالافتاء

 

حجام کو قربانی میں شریک کرنا


سوال

ایک شخص انگریزی بال کاٹتا ہے اور ڈاڑھی بھی کاٹتا ہے ،اب وہ قربانی کے جانور میں حصہ لینا چاہتا ہے تو اس کا قربانی کے جانور میں حصہ لینا جائز ہے یا نہیں ؟اسی طریقے سے اگر اس نے حصہ لےلیا تو اب دوسرے لوگ جو قربانی میں حصے دار ہیں ان کی قربانی پر کوئی فرق پڑے گا یا نہیں ؟

جواب

سوال سے مقصود اگر حجام کو قربانی میں شریک کرنے کا حکم دریافت کرنا ہے تو واضح رہے کہ بال کاٹنے  کے پیشے  سے منسلک  افراد یعنی حجام/نائی کی  اجرت کے حلال یا حرام ہونے میں تفصیل   ہے ، اور وہ تفصیل یہ ہے کہ:

جو کام حرام ہیں، یعنی داڑھی مونڈنا ،ایک مشت سے کم کرنا یا خوب صورتی کے لیے باریک بھنویں بنانا، ان کاموں کی اجرت بھی حرام ہے، اور جو کام جائز ہیں جیسے سر کے بال کاٹنا یا ایک مشت سے زائد ڈاڑھی کو  شرعی طریقے پر درست کرنا، ان کاموں کی اجرت بھی حلال ہے، البتہ جیسے  خلافِ شرع بال (مثلاً: سر کے کچھ حصے کے بال چھوٹے اور کچھ کے بڑے) رکھنا ممنوع ہے اسی طرح خلافِ شرع بال کاٹنے کی اجرت بھی حلال طیب نہیں۔

اب اگر حجام اپنی حلال آمدنی سے اجتماعی قربانی میں شریک ہوتا ہے،یا اس کی آمدنی مخلوط ہے،  لیکن حلال آمدنی غالب ہے تو  اس صورت میں اس کو اجتماعی قربانی میں شریک کرنا جائز ہے۔ اور  اگر اس کی آمدنی خالص حرام ہے، یا یہ یقینی معلوم ہے کہ وہ حرام آمدنی سےاجتماعی قربانی میں شریک ہورہا ہے یا اس کی آمدنی میں غالب حرام کا مال ہے تو اس  کے ساتھ مل کر اجتماعی قربانی جائز نہیں ہوگی۔

فتاوی عالمگیری میں ہے:

"أهدى إلى رجل شيئاً أو أضافه إن كان غالب ماله من الحلال فلا بأس إلا أن يعلم بأنه حرام، فإن كان الغالب هو الحرام ينبغي أن لايقبل الهدية، ولايأكل الطعام إلا أن يخبره بأنه حلال ورثته أو استقرضته من رجل، كذا في الينابيع". 

(5 / 342، الباب الثانی  عشر فی الھدایا والضیافات، ط: رشیدیہ)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144211201478

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں